سرورق / خبریں / وزیر اعظم کانگریس پر الزام تراشی کے بجائے حقیقت کا سامنا کریں۔ سرفراز احمد صدیقی –

وزیر اعظم کانگریس پر الزام تراشی کے بجائے حقیقت کا سامنا کریں۔ سرفراز احمد صدیقی –

نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی پر حقیقت سے منہ موڑنے کا الزام لگاتے ہوئے سپریم کورٹ کے وکیل اور دہلی پردیش کانگریس کمیٹی کے سکریٹری سرفراز احمد صدیقی نے کہاکہ مودی حکومت کو اقتدار میں آئے چار سال سے زائد ہوگئے لیکن اب تک وہ حقیقت کا سامنا کرنے سے کترارہی ہے اور اپنی کامیابی شمار کرانے کے بجائے کانگریس پر الزام پر تراشی کر رہی ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ مسٹر مودی کی ریلی میں کی گئی تقریر کا بیشتر حصہ گاندھی، نہرو اور کانگریس کو برا بھلا کہنے میں گزر رجاتا ہے اور ہر ریلی میں یہ الزام لگانا نہیں بھولتے کہ کانگریس نے گزشتہ 60برسوں میں کچھ نہیں کیا۔ انہوں نے کہاکہ مودی جس ذرائع ابلاغ کا استعمال کرتے ہیں، جس جہاز میں سفر کرتے ہیں، جس ایرپورٹ پر اترتے ہیں، جس اسٹیڈیم ، آڈیٹوریم یا جلسہ میں تقریر کرتے ہیں وہ سب کانگریس کی دین ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ درحقیقت گزشتہ چار برسوں نے انہوں نے لائق ذکر ایسا کام نہیں کیا ہے کہ جس کو وہ ہندوستان کے عوام کو بتا سکیں اس لئے وہ اور اس کے وزراء اور لیڈران کانگریس کو گالی دینے اور برا بھلاکہنے میں ہی اپنی عافیت سمجھتے ہیں تاکہ عام لوگ اس میں الجھ کر رہ جائیں اور حکومت سے سوال کرنے کا کوئی موقع نہ ملے۔انہوں نے کہاکہ کسی بھی حکومت کے لئے چار سال کا وقفہ بہت ہوتا ہے کوئی بھی کام کرنے کے لئے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس حکومت نے عوام کو خواب میں جال میں الجھانے کے سواکچھ بھی نہیں کیا ہے۔
مسٹر سرفراز صدیقی نے کہاکہ مودی جی ہر کام کے لئے کانگریس کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں ۔انہوں نے الزام لگایا کہ این پی اے (غیر فعال سرمایہ)پر وزیر اعظم نے پارلیمنٹ کو گمراہ کرتے ہوئے یہاں تک کہہ دیا کہ این پی اے جو کچھ ہے وہ کانگریس کی دین ہے اور کانگریس کا پاپ ہے جس کا سود وہ ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ حقیقت تو یہ ہے کہ کانگریس کے دور حکومت میں این پی اے تقریباً 87ہزار کروڑ روپے تھا جب کہ مودی حکومت کے چار سال کے دوران این پی اے تقریباً چار لاکھ کروڑ ہوگیا ہے۔ انہوں نے مودی حکومت کو اقتصادی محاذ پر ناکام ہونے کا الزام لگاتے ہوئے کہاکہ جہاں قومی بینک کنگال ہونے کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں وہیں چھوٹی موٹی صنعتیں بھی تباہ ہوگئی ہیں۔
انہوں نے وزیر اعظم سے گزارش کی کہ وہ اب کانگریس کو برا بھلا کہنے کے بجائے وہ اپنے چار سالہ دور اقتدار کی کامیابی گنوائیں۔اسی کے ساتھ انہوں نے کہاکہ وزیر اعظم کو یہ سمجھنا ہوگا کہ وہ اپوزیشن میں نہیں بلکہ اقتدارمیں ہیں جس کے کچھ آداب و اخلاق اور وقار ہوتے ہیں۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

کانگریس پارٹی سے مجھے کوئی بیزارگی نہیں: کمار سوامی

رام نگرم: مجھے کانگریس پارٹی کی طرف سے کوئی الجھن نہیں ہے اور نہ ہی …

جواب دیں

%d bloggers like this: