سرورق / خبریں / وزیراعلیٰ کے عہدہ کیلئے سدارامیا سرفہرست مجوزہ اسمبلی انتخابات میں کانگریس کی کارکردگی پچھلے انتخابات سے بہتر رہے گی:دنیش گنڈوراؤکادعویٰ

وزیراعلیٰ کے عہدہ کیلئے سدارامیا سرفہرست مجوزہ اسمبلی انتخابات میں کانگریس کی کارکردگی پچھلے انتخابات سے بہتر رہے گی:دنیش گنڈوراؤکادعویٰ

بنگلورو۔ کرناٹک پردیش کانگریس کمیٹی (کے پی سی سی) کارگزار صدر دنیش گنڈو راؤ نے آج کہاکہ انہیں امید ہے کہ 12مئی کو ہونے والے اسمبلی انتخابات میں کانگریس اقتدار پر برقراررہے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہاکہ وزیراعلیٰ سدارامیا نئی کانگریس حکومت کے وزیراعلیٰ بننے کی صف میں سب سے آگے ہیں ۔ بھارتیہ جنتاپارٹی (بی جے پی) کے ایک بیان پر جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ پارٹی میں سدارامیا حکومت کے خلاف مخالف سرگرمیاں بالکل نہیں ہیں۔ اپوزیشن بی جے پی یہ دعویٰ کررہی ہے کہ بی جے پی کے قومی صدر امیت شاہ بی جے پی کے اسٹارمہم جو ہیں ان کی مہم کی بدولت بی جے پی اقتدارپر واپس لوٹ آئے گی۔ انہوں نے بتایا کہ بی جے پی کا یہ دعویٰ غلط ہے ۔ کرناٹک اسمبلی انتخابات کی مہم سے وزیراعظم نریندرمودی کے دور رہنے پر انہوں نے سوال بھی اٹھایا ہے ۔ دنیش نے میڈیا کو بتایا ’’کانگریس وزیراعلیٰ سدارامیا ہی کی قیادت میں انتخابات کا سامنا کررہی ہے ۔انہی کی قیادت میں مکمل انتخابی مہم کا آغاز ہوا وہی اس چناؤ کا چہرہ ہیں ۔وہی ہماری ٹیم کے کپتان ہیں۔ اگر ہم چناؤ جیت جائیں گے تو کانگریس قانون ساز پارٹی (سی ایل پی) اجلاس میں وزیراعلیٰ کا فیصلہ ہوگا۔ لیکن (وہ سدارامیا)ہی ہماری ٹیم کے کپتان ہیں ۔اس میں کوئی شک ہی نہیں کہ کانگریس انتخابات میں واضح اکثریت حاصل کرکے اقتدار پر لوٹ آئے گی۔ ایک سوال کا انہوں نے اطمینان بخش جواب نہیں دیا ۔ ان سے پوچھا گیا کہ کیا کانگریس باقاعدہ وزیراعلیٰ کے امیدوار کے نام کا اعلان اس لئے نہیں کررہی ہے کہ پارٹی کے درمیان پھوٹ پیدا ہوجائے گی کیونکہ کے پی سی سی صدر ڈاکٹر جی پرمیشور بھی وزیراعلیٰ کے عہدہ کے اہم دعویدار ہیں ۔ حالانکہ پارٹی نے اب تک وزیراعلیٰ کے امیدوارکا باقاعدہ اعلان نہیں کیا ہے لیکن کانگریس صدر راہل گاندھی نے بارہا سدارامیا کے ہی نام کا اعلان کیا ہے ۔اس طرح سدارامیا ہی کانگریس کا اہم چہرہ ہیں ۔
کانگریس کی کارکردگی:دنیش نے دعویٰ کیا ’’اس مرتبہ انتخابات میں کانگریس کی کارکردگی 2013 کے اسمبلی انتخابات کی کارکردگی سے بھی بہتر رہے گی۔ اس وقت ہم نے 224 حلقوں میں سے 122 میں کامیابی حاصل کی تھی ۔ مجھے امید ہے کہ پچھلی مرتبہ سے ہم بہتر مظاہرہ کریں گے کیونکہ پچھلی مرتبہ انتخابات مخالف یا ضمنی بی جے پی لہر کی بنیاد پر لڑے گئے تھے ۔ اس مرتبہ لوگ نہ صرف بی جے پی سے ناراض ہیں بلکہ کرناٹک میں کانگریس کی کارکردگی سے خوش بھی ہیں ۔‘‘ دینش نے بارہا یہ دعویٰ کیا کہ کانگریس میں مخالف سرگرمیاں بالکل نہیں ۔ پچھلے انتخابات کے مقابلہ اس مرتبہ ہمیں زیادہ سیٹیں ملیں گی ۔ بشرطیکہ ٹکٹوں کی تقسیم صحیح ہو اور صحیح امیدواروں کا انتخاب ہو ۔ پارٹی کے وفادار اور مستحق امیدواروں کو ٹکٹ ملنا چاہئے ۔ اگر ہم نے یہ صحیح کیا تو ہماری کامیابی یقینی ہے۔
مودی لہر بالکل نہیں : جب ان سے پوچھا گیا کہ 1985ء کے بعد ریاست کرناٹک میں کوئی بھی پارٹی دوبارہ اقتدار میں لوٹ کر نہیں آئی، انہوں نے کہا ’’وہ اس لئے اقتدارپر واپس نہیں آئے کہ پارٹی لیڈروں کے درمیان اختلافات اور ووٹوں کی تقسیم تھی لیکن اس مرتبہ ایسا کوئی معاملہ نہیں ہے ۔ پچھلے 5سال میں ہم نے لوگوں کو ایک مستحکم اور اچھی حکومت دی ہے اور ہم نے اپنے تقریباً تمام وعدے پورے کئے ہیں جس سے عوام خوش ہیں لوگ ہمیں ترجیح دے رہے ہیں۔‘‘ ریاست میں مودی لہر سے انکارکرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ صرف کرناٹک میں نہیں ہر جگہ مودی کی شخصیت کو زبردست دھکا لگا ہے۔ کیونکہ لوگوں نے مودی حکومت کے کوئی مثبت نتائج نہیں دیکھے ۔گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے مودی کرناٹک نہیں آئے ان کے پروگرامز منسوخ کئے جارہے ہیں۔ وہ کیوں اپنے پروگرامس منسوخ کروارہے ہیں؟ کرناٹک کو وہ کیوں نہیں آرہے ہیں؟ صرف امیت شاہ کیوں کرناٹک آرہے ہیں ؟ میں سمجھتا ہوں کہ مودی خود گھبراگئے ہیں ۔
جے ڈی ایس اور بی جے پی کے درمیان سازباز:سابق وزیراعظم ایچ ڈی دیوے گوڈا کی جے ڈی ایس سے متعلق پوچھے جانے پر دنیش نے کہا کہ جو جے ڈی ایس اس وقت سکیولر ہونے کا ڈھونگ کررہی ہے۔انتخابات کے بعد جے ڈی ایس اور بی جے پی ایک دوسرے سے ہاتھ ملائیں گی کیونکہ دونوں جانتی ہیں کہ انہیں اکثریت نہیں ملے گی ۔ تمام جانتے ہیں کہ دونوں پارٹیاں اقتدار کی خاطر کبھی بھی ہاتھ ملا سکتی ہیں ۔ اس لئے دونوں کے درمیان اندرونی سازباز ہے ۔ ان سے پوچھا گیا کہ اگر معلق اسمبلی کی نوبت پیش آئی تو کیا جے ڈی ایس سے ہاتھ ملایا جائے گا ؟ یہ سب انتخابات کے بعد کی باتیں ، لیکن جے ڈی ایس پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا ۔ ان کے پاس نہ اصول ہیں اور نہ ہی نظریات۔ ان حالات میں ان پر اعتماد کرنا کہاں تک درست ہوگا ۔
کانگریس انتخابی ہندو نہیں : کانگریس کو انتخابی ہندو قرار دینے والی بی جے پی پر شدید حملہ کرتے ہوئے کہاکہ اپوزیشن بی جے پی اس طرح کے الزامات لگانے میں سب سے آگے ہے ۔ پورا ملک جانتا ہے ۔مٹھوں اور مندروں کے دورے کرنے میں سوامیوں سے ملاقات کرنے میں بی جے پی سب سے آگے ہے ۔ امیت شاہ مندروں مٹھوں اور مذہبی مقامات کو بھی سیاسی اڈے بنادیئے ہیں ۔ ماضی میں بھی کانگریس لیڈروں نے مندروں ، مٹھوں اور مذہبی مقامات کے دورے کئے ہیں ۔ سیاسی فائدہ کی خاطر راہل گاندھی مندروں مٹھوں کے دورے کررہے ہیں ۔ ان پر یہ الزام لگانا سراسر غلط اور بے بنیاد ہے ۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

کروناندھی کی حالت بگڑی –

چنئی (ایجنسیز) تملناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کروناندھی …

جواب دیں

%d bloggers like this: