سرورق / کرناٹک / وانی ولاس اسپتال میں نگران عملہ اور بستر دونوں کی قلت برقرار –

وانی ولاس اسپتال میں نگران عملہ اور بستر دونوں کی قلت برقرار –

بنگلور: سرکاری انتظامیہ والا وانی ولاس اسپتال شہر کی قدیم ترین اسپتالوں میں سے ایک ہونے کے ساتھ ہی لوگوں میں کافی مقبول بھی ہے،خواتین و اطفال کے امراض اور زچکیوں کے لئے مشہور یہ اسپتال نہ صرف شہر بلکہ آس پاس اور دور دراز کے شہروں اور گاؤں قریوں سے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے اور بڑی تعداد میں لوگ یہاں علاج کے لئے آتے ہیں لیکن یہ صورت حال پریشانی کا باعث ہے کہ اس اسپتال میں بالخصوص نوزائدہ بچوں کی خصوصی نگہداشت یونٹ (این آئی سی یو) میں ایک سے زیادہ بچوں کو ایک ہی بستر استعمال کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے، واضح رہے کہ پیدائشی نقائص والے بچوں کو سخت نگہداشت کے لئے این آئی سی یو میں رکھا جاتا ہے اور ان بچوں کی باریکی کے ساتھ نگرانی اور احتیاط بے حد ضروری ہوتے ہیں اسی لئے انہیں دوسرے مریضوں سے الگ رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔وانی ولاس اسپتال جو خواتین اور بچوں کے لئے ہی مخصوص ہے ، اس میں قبل از وقت پیدا ہونے والے بچوں کے لئے تقریباً 60 بستر موجود ہیں جبکہ یہاں کے ڈاکٹر ہر ماہ ایک ہزار پانچ سو زچکیاں کراتے ہیں، اس کے علاوہ ریاست کرناٹک کے دوسرے مقامات سے ماہانہ کم از کم دو سو بچوں کو یہاں علاج کے لئے روانہ کیا جاتا ہے۔اسپتال کے ذرائع کے مطابق ، این آئی سی یو میں نرسوں کی بھی شدید قلت در پیش ہے، اسپتال کے ذرائع کے مطابق قومی صحت مشن کے تحت اسپتال کے این آئی سی یو کے لئے جو پندرہ نرسیں فراہم کی گئی ہیں وہ ناکافی ہیں۔بعض مرتبہ صرف چھ نرسیں ہوتی ہیں اور بعض اوقات میں آٹھ ، یہ اس لئے کہ نرسوں کی ذمہ داری باری باری ہوتی ہے، اور یہ تعداد بالکل ناکافی ہے۔این آئی سی یومیں اس بات کی ضرورت ہوتی ہے کہ جو بچے وینٹلیٹرس پر ہوتے ہیں ان کی نگرانی کے لئے ہر ایک بچہ کے پاس ایک نرس موجود رہے اور دوسری صورت میں ہر دو بچوں کے لئے کم از کم ایک نرس کا ہونا ضروری ہوتا ہے، لیکن اس اسپتال میں یہ معاملہ نہیں ہے۔نرسیں اس اسپتال میں تین شفٹوں میں کام کر تی ہیں اور مریضوں اور ان کے رشتہ داروں کا کہنا ہے کہ عام طور پر یہ نرسیں بے فکر رہتی ہیں اور غیر ذمہ دارانہ انداز میں کام کرتی ہیں، اس کے علاوہ ان نرسوں کی مناسب تربیت بھی نہیں ہوئی ہوتی۔اسپتال کی ایک ڈاکٹر نے بتایا کہ ’’ہم لوگ ان بچوں کو آسانی کے ساتھ سنبھال سکتے ہیں جن کی پیدائش اسی اسپتال میں ہوتی ہے، لیکن بستروں کی کمی کی وجہ سے ان بچوں کا سنبھال پانا مشکل ہوتا ہے جنہیں دوسری اسپتالوں سے یہاں روانہ کیا جاتا ہے‘‘۔وانی ولاس اسپتال کی میڈیکل سوپر انٹنڈنٹ کا کہنا ہے کہ ’’ہم تیسرے درجہ کے مرکز کی حیثیت کے حامل ہیں جس کی وجہ سے ہم کسی بھی مریض کے داخلہ سے انکار نہیں کر سکتے‘‘۔پچھلے سال ہی فروری میں اسپتال کی انتظامیہ نے اپنی نئی عمارت کے لئے مزید ڈاکٹروں اور نرسوں کا مطالبہ حکومت سے کیا تھا۔ضلعی صحت اور خاندانی بہبود سوسائٹی کے شعبہ برائے صحت اطفال کے ایک اعلیٰ افسر کا کہنا ہے کہ’’کسی بھی ایسی اسپتال جہاں سالانہ تین ہزار زچکیاں ہوتی ہیں ، اس کے لئے ہم بارہ بستر فراہم کرتے ہیں اور ان کے علاوہ دوسری اسپتالوں سے روانہ کئے جانے والے بچوں کے لئے مزید چار بستر دئے جاتے ہیں۔ہم وانی ولاس اسپتال کے لئے مزید بستروں کا انتظام نہیں کر سکتے، اس لئے کہ مریضوں کی تعداد میں اگر اضافہ ہو جائے تو اسپتال کے معیار اور اس کی کار کردگی پر منفی اثر مرتب ہو سکتا ہے، اسی لئے اس اسپتال میں ہجوم کو کم کرنے کے لئے ہم نے قریب کے دوسرے اسپتالوں کو ترقی دینے کا منصوبہ بنایا ہے اور اس کی کوشش کی جا رہی ہے‘‘۔اکثر لوگوں کا خیال ہے کہ اس اسپتال میں مریضوں کی تعداد میں اضافہ کے پیش نظر نوزائدہ بچوں کے لئے ایک الگ اور مستقل مرکز کے قیام کی ضرورت ہے، لیکن ریاستی حکومت یا محکمہ صحت کی جانب سے ابھی اس ضمن میں کوئی اقدام نہیں کیا گیا ہے۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

کے آر پورم۔۔۔ گاڑی سواروں کیلئے خطرناک چوراہا –

بنگلور،  بنگلور شہر کے خستہ حال راستوں اور ٹریفک کی بد انتظامی کی وجہ سے …

جواب دیں

%d bloggers like this: