سرورق / خبریں / والدین فیس ادا نہیں کر رہے ہیں۔۔۔ خانگی اسکولوں کی انتظامیہ پریشان-

والدین فیس ادا نہیں کر رہے ہیں۔۔۔ خانگی اسکولوں کی انتظامیہ پریشان-

بنگلور:(فتحان نیوز) پچھلے کئی سالوں سے یہ سلسلہ چلتا رہا ہے کہ والدین ریاستی حکومت کو خطوط لکھا کرتے تھے اور یہ شکایت کرتے کہ خانگی اسکولیں ہر سال فیس میں بھاری اضافہ کرتے رہتے ہیں جس کی وجہ سے انہیں اپنے بچوں کی تعلیم کا بوجھ اٹھانا مشکل ہو تا جا رہا ہے ۔لیکن اس کہانی کا ایک دوسرا رخ اب ابھر کر سامنے آیا ہے، اب خانگی تعلیمی اداروں کے انتظامیہ کو یہ شکایت ہے کہ وہ بھاری قرضہ کے بوجھ تلے دبے جا رہے ہیں اور انہیں کافی نقصان کا سامنا ہے ، اس لئے کہ اکثر والدین نے اسکول میں تعلیم حاصل کر رہے ان کے بچوں کی فیس ہی ادا نہیں کی ہے ، اور یہ صرف اس سال کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ کئی کئی طلباء کی پچھلے دو سالوں سے فیس باقی ہے۔وجہ کیا ہے؟ ۔۔۔ والدین مختلف بہانے بنا کر اسکول کی انتظامیہ سے فیس ادا کرنے کے لئے کچھ وقت طلب کرتے ہیں اور پھر سال کے اختتام تک بھی فیس کی ادائگی نہیں ہوتی، چونکہ انتظامیہ خود طلباء کے تعلیمی سال کو برباد کرنا پسند نہیں کرتی انہیں امتحانات لکھنے کی اجازت دیدی جاتی ہے اور پھر یہ سلسلہ دراز ہو جاتا ہے۔جاریہ تعلیمی سال اختتام کو پہنچ رہا ہے اور امتحانات کی گھڑیاں سر پر ہیں لیکن کئی والدین ایسے ہیں جنہوں نے اب تک بھی اسکول کی فیس ادا نہیں کی ہے، ایسے میں خانگی اسکولوں کی انتظامیہ پریشان ہے کہ کیا کیا جائے۔پریشان کن بات یہ بھی ہے کہ جب اسکول انتظامیہ بچوں پر زبردستی کرتی ہے تو انہیں دھمکایا جاتا ہے، اساتذہ کو ہراساں کیا جاتا ہے بلکہ بعض والدین تو اسکول کے احاطہ میں نام نہاد رضاکاروں اور غنڈوں کی ٹولیوں کو لے کر آجاتے ہیں۔پریشان حال کئی تعلیمی اداروں کے منتظمین نے اب والدین کے خلاف پولیس میں شکایتیں درج کرانی شروع کردی ہیں۔جنوبی بنگلور کی ایک اسکول میں 185 طلباء کے والدین کی طرف سے 8 لاکھ 50 ہزار روپئے ابھی وصول ہونے باقی ہیں، یہ رقم صرف اسی سال کے بقایاجات کی ہے جبکہ پچھلے سال کے جو بقایاجات رہ گئے ہیں ان کا اب کوئی حساب بھی نہیں کیا جا سکتا۔اسی طرح شہر کے دیگر کئی مقامات پر بہت ساری اسکولیں ہیں جن کے بقایاجات دس تا پندرہ لاکھ روپئے سے بھی زیادہ کو پہنچتے ہیں، جو کہ انہیں اسکول کی فیس کے طور پر وصول کرنے ہیں، لیکن انہیں کوئی امید نہیں ہے کہ یہ باقی رقم انہیں امتحانات سے قبل حاصل ہو جائے گی۔ایک خانگی اسکول کی پرنسپل سویتا رانی کا کہنا ہے کہ ’’یہ ہر ایک والد کا یقیناًبنیادی حق ہے کہ وہ اپنے بچہ کو عمدہ سے عمدہ اسکول میں داخل کرائے تاکہ اسے معیاری اور بہترین تعلیم حاصل ہو سکے ، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ وہ ان اسکولوں پر اپنا حق جتائیں اور اسکول کی فیس بھی اداد نہ کریں۔ جب یہ لوگ اپنے بچوں کے داخلوں کے لئے ہمارے پاس آتے ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ ان کے گھرانے پر مالی پریشانیاں ہیں لہٰذا ان کے ساتھ کچھ رعایت کی جائے اس پر ہم لوگ داخلہ فیس کو بہت کم کر دیتے ہیں تاکہ والدین کو بچوں کی تعلیم اور ان کے داخلوں میں زیادہ مشکل پیش نہ آئے، لیکن اس پر بھی وہ لوگ سوال کرتے ہیں کہ کیا وہ اس رقم کو قسطوں میں ادا کر سکتے ہیں، ہم لوگ انہیں قسطوں میں ادائگی کی بھی سہولت دیتے ہیں ، لیکن اس کی بھی رعایت نہیں کی جاتی اور فیس اسی طرح باقی رہ جاتی ہے، یہ ہمارے لئے بہت زیادہ پریشانی کی بات ہوتی ہے‘‘۔کے اے ایم ایس کے جنرل سکریٹری اور بلازم اسکول کے پرنسپل ڈی ششی کمار ، اسکول پر اس کی وجہ سے پڑنے والے منفی اثرات کو واضح کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’’اگر کسی اسکول میں سالانہ آٹھ سے پندرہ لاکھ روپئے والدین پر باقی رہ جاتے ہیں تو ، پھر اسکول اپنے بنیادی ڈھانچہ کوکیسے محفوظ رکھ سکتی ہے اور اسکول کی ضروریات کی تکمیل کس طرح ہو سکتی ہے؟کوئی بھی تعلیمی ادارہ ان حالات میں اپنے انتظامات کیسے چلا سکتا ہے؟سب جانتے ہیں کہ خانگی اسکولوں کو ریاستی یا مرکزی حکومت کی طرف سے کوئی مالی تعاون حاصل نہیں ہوتا، اور نہ ہی کوئی دوسرا ذریعہ ہے جہاں سے یہ اسکول مالیات حاصل کریں۔ان کا تو مکمل انحصار اپنے اسکول میں پڑھنے والے بچوں کی طرف سے حاصل ہونے والی فیس ہی پر ہوتا ہے‘‘۔
اسکول کو دھمکیاں دی جاتی ہیں:
ششی کمار نے مزید بتایا کہ ’’جب اسکول کی انتظامیہ والدین سے فیس طلب کرتی ہے تو وہ لوگ انہیں پریشان کرتے ہیں اور ان کو دھمکیاں دی جاتی ہیں، بعض لوگ تو رضاکاروں کو اسکول کے احاطہ میں لے کر آجاتے ہیں ، بلکہ مقامی منتخب عوامی نمائندوں اور غنڈوں تک کا سہارا لیا جاتا ہے، تاکہ اسکول انتظامیہ پر دباؤ ڈال کر انہیں مجبور کر دیا جائے کہ وہ فیس طلب نہ کریں‘‘۔اسکول انتظامیہ کی ایک رکن سوما ، جنہوں نے حال ہی میں ایک بچہ کے والد کے خلاف پولیس میں شکایت درج کرائی تھی ، انہوں نے بتایا کہ ’’جب ہمارے اسکول کے عملہ کے اراکین نے ان سے کہا کہ وہ اسکول کے بقایاجات کو ادا کردیں تو انہوں نے عملہ کے اراکین کے ساتھ بد سلوکی کی اور غلط زبان کا استعمال کیا ۔ایک بچہ کی والدہ نے یہاں تک دھمکی دی کہ وہ ٹی وی چینل کے احبا ب کو اسکول کے احاطہ میں بلالیں گی اور ہمارے خلاف وہ پولیس تھانے بھی جائیں گی، بلکہ انہوں نے اسی وقت چائلڈ ہیلپ میں فون کرکے ہمارے خلاف چھوٹی شکایت بھی کر ڈالی تھی‘‘۔انہوں نے مزید بتایا کہ ’’چائلڈ ہیلپ لائن کی ٹیم نے ہماری اسکول کا دورہ کیا اور انہیں پتہ چلا کہ جو معلومات فراہم کی گئی تھیں وہ سب غلط تھیں۔اس بچہ کی والدہ نے اسکول کے تعلق سے غلط باتیں پھیلانا شروع کر دیا تھا اور دوسرے بچوں کے والدین کو بھی بہکانے لگی تھی‘‘۔جب خانگی اسکولوں کے منتظمین نے اس طرح کے معاملات کو پرائیمری اور سکینڈری تعلیم کے وزیر تنویر سیٹھ کے پاس اٹھا یاتھا تو انہوں نے وزیر داخلہ رام لنگا ریڈی کے نام ایک خط روانہ کیا اور محکمہ داخلہ کی طرف سے ان اسکولوں کے تحفظ کے سلسلہ میں تعاون طلب کیا تھا۔تنویر سیٹھ صاحب نے اپنے خط میں رام لنگا ریڈی کو تحریر کیا تھا کہ ’’میں نے سنا ہے کہ آر ٹی ای، آر ٹی آئی اور دوسرے خود ساختہ رضاکار اسکولوں کے احاطہ میں غیر قانونی طور پر داخل ہو رہے ہیں اور انہیں دھمکانے کے علاوہ خانگی تعلیمی اداروں کو بد نام کرنے کی بھی کوشش کر رہے ہیں۔کوئی بھی تعلیمی ادارہ ہو اس کو ایک حساس مقام قرار دیا جاتا ہے لہٰذا گذارش ہے کہ برائے مہربانی اسکول کے احاطہ کے اطراف اضافی تحفظ اور احتیاطی اقدامات کو یقینی بنایا جائے‘‘۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

کروناندھی کی حالت بگڑی –

چنئی (ایجنسیز) تملناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کروناندھی …

جواب دیں

%d bloggers like this: