سرورق / بین اقوامی / نیٹو سربراہی اجلاس میں افغانستان کی صورتِ حال پر غور افغان صوبہ تخار میں طالبان کا حملہ، 30 اہلکار ہلاک –

نیٹو سربراہی اجلاس میں افغانستان کی صورتِ حال پر غور افغان صوبہ تخار میں طالبان کا حملہ، 30 اہلکار ہلاک –

واشنگٹن، افغان باغیوں نے شمال مشرقی افغانستان میں واقع ایک کلیدی فوجی اڈے پر دھاوا بول دیا، جس حملے میں کم از کم 30 فوجی ہلاک جب کہ 17 زخمی ہوئے۔ اہلکاروں نے گزشتہ روز اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا کہ صوبہ تخار کے خواجہ گھر ضلعہ میں علی الصبح ہونے والے اس حملے کے نتیجے میں سرکشوں نے ’افغان نیشنل آرمی‘ کی تنصیب کے سارے فوجی آلات پر قبضہ کرلیا۔ صوبائی حکومت کے ترجمان، سنت اللہ تیموری نے بتایا کہ حملے کے علاقے میں گھمسان کی لڑائی کا آغاز ہوا، جس میں افغان فضائیہ بَری فوج کی مدد کر رہی ہے، تاکہ باغیوں کی طاقت کی بیخ کنی کی جائے۔ کچھ اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ سرکاری افواج کے تقریباً 40 اہل کار ہلاک ہوئے۔ افغان فوج کے اہلکاروں کے مطابق، طالبان نے کہا ہے کہ یہ حملہ اْن کے خودساختہ ’’سرخ یونٹ‘‘ کمانڈر فورس نے کیا، جس حملے میں ’نائٹ وڑن گوگلز‘ استعمال کئے گئے۔ افغان نیشنل آرمی کا اڈا، جسے ’’پلِ مومن‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے، طالبان کے زیر قبضہ دشت آرچی ضلعے کی گزرگاہ ہے، جہاں سے ہمسایہ صوبہ قندوز کا علاقہ شروع ہوتا ہے۔ طالبان ترجمان، ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ افغان نیشنل آرمی کے اڈے پر دھاوا بولنے سے قبل گروپ کے لڑاکوں نے سکیورٹی کی 11 چوکیوں پر قبضہ کر لیا۔صحافیوں کو روانہ کئے گئے بیان میں، مجاہد نے اس بات کا دعویٰ کیا کہ باغیوں کے حملے میں 70سے زائد افغان فوجی ہلاک ہوئے، جب کہ اسلحے کے ساتھ ساتھ کئی ٹینکوں اور بکتربند گاڑیوں پر بھی قبضہ کیا گیا، جب کہ میدانِ جنگ میں طالبان کے دعوؤں کو اکثر مبالغہ آمیز قرار دیا جاتا ہے۔ ایک اور خبر کے مطابق، افغان وزارتِ دفاع نے جمعرات کو انکشاف کیا کہ فضائی کارروائی میں جنوب مشرق میں واقع صوبہ غزنی میں طالبان کے اعلیٰ کمان کے اجلاس کو ہدف بنایا گیا، جس میں 24 عسکریت پسند ہلاک جب کہ 17 زخمی ہوئے۔ وزارتِ دفاع کے بیان میں بتایا گیا ہے کہ زخمی ہونے والوں میں متعدد کلیدی باغی کمانڈر شامل ہیں، جن میں امیر خان متقی بھی شامل ہیں، جو 1966 سے 2001 تک طالبان کا وزیر رہ چکا ہے، جب اسلامی گروپ کا تقریباً سارے افغانستان پر قبضہ تھا۔دوسری جانب نیٹو’ کے سربراہ جینز اسٹالٹن برگ کا کہنا ہے کہ اجلاس کے ایجنڈے میں سرِ فہرست نیٹو ممالک کو 2024تک افغانستان کی سکیورٹی فورسز کی مالی امداد جاری رکھنے پر آمادہ کرنا ہے۔ مغربی ملکوں کے دفاعی اتحاد ‘نیٹو’ کے رکن ملکوں کے سربراہان جمعرات کو اپنے اجلاس کے دوسرے روز افغانستان کی صورتِ حال پر غور کر رہے ہیں۔ نیٹو رکن ممالک کے سربراہان کا دو روزہ سالانہ اجلاس بدھ کو برسلز میں تنظیم کے نئے صدر دفتر میں شروع ہوا تھا جس میں تنظیم کے 29 رکن ملکوں کے سربراہان اور اعلیٰ حکام شریک ہیں۔دوسرے روز کے اجلاس میں نیٹو کے بعض اتحادی ملکوں کے سربراہان بھی شریک ہوں گے جن میں افغانستان کے صدر اشرف غنی اور یوکرائن کے صدر پیترو پوروشینکو بھی شامل ہیں۔ نیٹو کے سربراہ جینز اسٹالٹن برگ کا کہنا ہے کہ اجلاس کے ایجنڈے میں سرِ فہرست نیٹو ممالک کو 2024 تک افغانستان کی سکیورٹی فورسز کی مالی امداد جاری رکھنے پر آمادہ کرنا ہے۔ فی الحال نیٹو ہر سال افغان فورسز پر لگ بھگ ایک ارب ڈالر خرچ کر رہا ہے اور نیٹو سربراہ نے کہا ہے کہ ان کی خواہش ہے کہ آئندہ چند برسوں کے دوران فنڈنگ کی یہ سطح برقرار رکھی جائے۔اجلاس کے پہلے روز صدر ٹرمپ نے امریکہ کے روایتی حلیف ملکوں کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے ان پر امریکہ کو لوٹنے کا الزام لگایا۔ افغانستان پر ہونے والے نیٹو کے اس سربراہی اجلاس سے ایک روز قبل برطانیہ نے افغانستان میں تعینات نیٹو کے تربیتی مشن کے لئے مزید فوجی دستے بھیجنے کا اعلان کیا تھا۔ بدھ کو برسلز میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے برطانوی وزیرِ اعظم تھریسا مے نے کہا تھا کہ افغانستان میں نیٹو کے مشن کے لئے برطانیہ مزید 440 فوجی اہلکار بھیجے گا۔ تھریسا مے نے کہا تھا کہ ان کا یہ اقدام ظاہر کرتا ہے کہ نیٹو جب بھی پکارے گا، برطانیہ سب سے پہلے اس پکار کا جواب دینے والوں میں ہوگا۔جمعرات کے اجلاس میں نیٹو رہنما اتحاد کے رکن بننے کے خواہش مند یوکرائن اور جارجیا کے ساتھ نیٹو کے تعلقات کے مستقبل پر بھی بات کریں گے۔ یوکرائن اور جارجیا کی فوجیں افغانستان میں نیٹو مشن کا حصہ رہی ہیں لیکن اتحاد میں ان کی شمولیت روس کی جانب سے ان دونوں ملکوں کی حدود میں مداخلت کے باعث کھٹائی میں پڑچکی ہے۔ نیٹو کے قوانین کے مطابق کوئی بھی ایسا ملک اتحاد کا رکن نہیں بن سکتا جس کے کسی دوسرے ملک کے ساتھ سرحدی تنازعات ہوں یا کسی علاقے کے ملکیت پر کوئی جھگڑا چل رہا ہو۔ نیٹو کے سربراہی اجلاس نے بدھ کو اتحاد میں شمولیت کے لئے مقدونیہ کو مذاکرات شروع کرنے کی باضابطہ دعوت دینے کی منظوری بھی دی تھی جو بات چیت کامیاب ہونے کی صورت میں اتحاد کا 30 واں رکن ہوگا۔ اس سے قبل بدھ کو نیٹو کے سربراہ اجلاس کا پہلا دن صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے نیٹو ممالک سے اپنے دفاعی بجٹ میں اضافے کے مطالبات اور امریکہ کے اتحادی ملکوں پر ان کی تنقید کی نذر ہوگیا تھا۔ صدر ٹرمپ نے اجلاس سے قبل اپنی ملاقاتوں اور اجلاس کیدوران بھی نیٹو کے رکن ملکوں سے اپنا یہ دیرینہ مطالبہ دہرایا تھا کہ وہ تنظیم کے منشور کے مطابق اپنی کل قومی پیداوار (جی ڈی پی)کا کم از کم دو فی صد دفاع پر خرچ کریں۔صدر ٹرمپ نے اپنے یورپی اتحادیوں پر امریکہ کو لوٹنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا تھا کہ امریکہ یورپ کے دفاع پر یورپی ملکوں سے کہیں زیادہ خرچ کر رہا ہے۔ انہوں نے امریکہ کے قریبی اتحادی اور یورپ کے امیر ترین ملک جرمنی پر بھی کڑی تنقید کرتے ہوئے اسے روس کا “قیدی” قرار دیا تھا۔ امریکی صدر کی اس تنقید کا جواب دیتے ہوئے جرمنی کے وزیرِ خارجہ نے کہا تھا کہ ان کا ملک نہ روس اور نہ ہی امریکہ کا قیدی ہے اور اپنی خارجہ پالیسی تشکیل دینے میں آزاد ہے۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

کروناندھی کی حالت بگڑی –

چنئی (ایجنسیز) تملناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کروناندھی …

جواب دیں

%d bloggers like this: