سرورق / خبریں / نمہانس میں انسانی اعضاء کی وصولی و ذخیرہ اندوزی کے مرکزکا منصوبہ کھٹائی میں –

نمہانس میں انسانی اعضاء کی وصولی و ذخیرہ اندوزی کے مرکزکا منصوبہ کھٹائی میں –

بنگلور، (فتحان نیوز) نیشنل انسٹیٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ اینڈ نیورو سائنسس (نمہانس)کو اس کا لائسنس حاصل ہو گیا ہے کہ وہ اپنے یہاں نان ٹرانسپلانٹ آرگن ریٹریول سنٹر (این ٹی او آر سی) قائم کرے، جس کے ذریعہ دماغی طور پر مردہ مریضوں کے لواحقین سے اجازت کے بعد ان کے اعضاء کو حاصل کرکے انہیں محفوظ رکھا جا سکتا ہے ۔ واضح رہے کہ یہ ایک ایسا مرکز ہو گا جہاں ضرورت کے بغیر ہی انسانی اعضاء کو حاصل کرکے انہیں ضرورت کے لئے محفوظ رکھا جا سکتا ہے ، اگر یہ مرکز اپنا کام کرنا شروع کر دیتا ہے تو شہر بنگلور میں اس طرح کا یہ پہلا مرکز ہوگااور اس کی وجہ سے اعضاء کا تحفہ پیش کرنے کے سلسلہ میں ترقی حاصل ہوگی۔لیکن پچھلے ایک سال سے نمہانس میں اس طرح کے ایک مرکز کے قیام کا منصوبہ سرد بستہ کی نظر ہوا پڑا ہے ، حالانکہ اس اسپتال کو اس طرح کے مرکز کے قیام کے لئے لائسنس بھی فراہم کر دیا گیا ہے لیکن ریاستی حکومت نے اس کے لئے کوئی فنڈ ابھی تک جاری نہیں کیا ہے۔محکمہ برائے صحت اور خاندانی بہبود (میڈیکل) کے جائنٹ ڈائرکٹر ڈاکٹر ٹی ایس پر بھا کر کا کہنا ہے کہ ’’نمہانس جہاں حادثات کا شکار معاملات سب سے زیادہ حاصل ہو تے ہیں ، جو دماغی طور پر مردہ ہوتے ہیں اور اعضاء کے عطیہ دہندوں کے ممکنہ معاملات ہوتے ہیں ، اس ادارہ نے مذکورہ مرکز کے قیام کے لئے 4.5 کروڑ روپئے کا تخمینہ پیش کیا تھا۔حالانکہ یہ مرکزی حکومت کی عمل داری والا اسپتال ہے ، ریاستی حکومت نے یہاں اس طرح کے مرکز کے قیام کے لئے مالیات فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا ، لیکن ابھی تک کو ئی رقم جاری نہیں کی گئی ہے‘‘۔واضح رہے کہ ایک دماغی طور پر مردہ شخص آٹھ افراد کو نئی زندگی دے سکتا ہے اور اس کا دل، دونوں گردے، دونوں پھیپڑے، جگر، تلی اور چھوٹی آنتوں کو دوسرے مریضوں کی جان بچانے کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ابھی حال ہی میں حادثہ کا شکار ہو جانے والے ایک نوجوان آٹو ڈرائیور کے مختلف اعضاء کی پیوند کاری کے ذریعہ بنگلور اور چنئی میں کل چھ افراد کو نئی زندگی حاصل ہوئی تھی۔ محکمہ برائے صحت و خاندانی بہبود کرناٹک کے جائنٹ ڈائرکٹر (میڈیکل) ڈاکٹر ٹی ایس پربھاکر نے بتایا کہ ’’نمہانس میں پوری ریاست میں سب سے زیادہ سر پر چوٹ کے مریض آتے ہیں ان میں سے کئی مریض ایسے ہوتے ہیں جو شدید طور پر زخمی ہو کر آتے ہیں اور جنہیں دماغی طور پر مردہ قرار دے دیا جاتا ہے ، نہ ان کا علاج ممکن ہوتا ہے اور نہ ہی ان کے بچنے کی کوئی امید ہوتی ہے۔ایسے مریضوں کے متعلقین سے اجازت حاصل کرنے کے بعد ہم ان مریضوں کے اہم اعضاء کو حاصل کر لیتے ہیں ، لیکن اس معاملہ میں یہاں حدود پائے جاتے ہیں‘‘۔واضخ رہے کہ شہر بنگلور میں سات یا آٹھ ایسی اسپتالیں ہیں جہاں اعضاء کی پیوند کاری کے مراکز قائم ہیں ، بعض مرتبہ متعلقین اس کی اجازت دینے سے کتراتے ہے کہ ان کے مریض کے اعضاء کو نکالا جائے اس کی بنیادی وجہ یہی ہوتی ہے کہ لاش کو نمہانس سے کسی بھی اعضاء کی پیوند کاری کے مرکز کو منتقل کیا جانا ضروری ہوتا ہے، اس طویل کارروائی کی وجہ سے رشتہ دار اس کے لئے تیار نہیں ہوتے ، لہٰذا یہ بات ضروری ہے کہ خود نمہانس ہی میں این ٹی او آر سی کا قیام عمل میں لایا جائے۔مالیات کی فراہمی کے علاوہ نمہانس میں کچھ بنیادی ڈھانچہ کی ضروریات ہیں جو اس مرکز کے قیام میں رکاوٹ بنی ہوئی ہیں۔ نمہانس کے ذرائع نے بتایا ہے کہ اس وقت بعض بنیادی ڈھانچہ کے مسائل درپیش ہیں اور جیسے ہی انہیں حل کر لیا جائے گا اس اسپتال میں این ٹی او آر سی کام کرنا شروع کر دے گا۔نمہانس کے ایک افسر نے بتایا کہ ’’ہمارا اسپتال صرف دماغی صحت اور اعصابی (نیورو) سائنس سے متعلق ہے اور ہمارے یہاں ایسے ماہر ڈاکٹر موجود نہیں ہیں جو جگر اور گردہ وغیرہ اہم اعضاء کے حصول کے لئے کئے جانے والے بڑے آپریشن انجام دے سکیں ، اس کارروائی کے لئے مخصوص ماہرین کی ضرورت ہوتی ہے۔لہٰذا ہم نے محکمہ برائے صحت و خاندانی بہبود کی خدمت میں اس تعلق سے ایک درخواست پیش کی ہے اور ہم اس کا انتظار کر رہے ہیں کہ وہ اس تعلق سے تفصیلات روانہ کریں اور اپنی تجاویز سے ہمیں مطلع کریں‘‘۔ محکمہ کے ڈائرکٹر ڈاکٹر ٹی ایس پربھاکر نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ’’ہمیں ایک درخواست حاصل ہوئی ہے جس میں نمہانس نے اعضاء کی پیوند کاری کے کام کو انجام دینے کے لئے ماہرین اور عملہ کے تقرر کی گذارش کی ہے۔ان کی طرف سے اس مرکز کو چلانے کے لئے ضروری آلات سے متعلق بھی درخواشت درج کرائی گئی ہے ، ہم نے ان درخواستوں کو ریاستی حکومت کے پاس روانہ کر دیا ہے ، اور ہم امید کر رہے ہیں کہ ریاستی حکومت کی طرف سے جلد ہی اس کی اجازت مرحمت کر دی جائے گی‘‘۔ فی الحال نمہانس کی طرف سے اس مقصد کے لئے اپنے احاطہ میں موجود ایک آپریشن تھئیٹر، ایک انٹینسیو کیر یونٹ اور ان کے عملہ کے اراکین کو فراہم کرنے پر رضامندی ظاہر کی گئی ہے جہاں اعضاء کے حصول کی کارروائی ہنگامی طور پر انجام دی جا سکتی ہے۔نمہانس کے ذرائع نے واضح کیا ہے کہ جیسے ہی اعضاء کے حصول کا مرکز کام کرنا شروع کر دے گا ، اس کے بعد اس مرکز کی ضریارت اور مطالبات کے علاوہ اس کی بنیاد پر کہ ماہانہ اس مرکز میں کتنے مریضوں سے اعضاء حاصل کئے جا رہے ہیں، اس بات کا فیصلہ کیا جائے گا کہ کیا بنیادی ڈھانچہ کی ترقی کی ضرورت ہے اور اگر ہے تو کس حد تک یہ کام انجام دیا جانا چاہئے وغیرہ۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

کروناندھی کی حالت بگڑی –

چنئی (ایجنسیز) تملناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کروناندھی …

جواب دیں

%d bloggers like this: