سرورق / خبریں / نما میٹرو میں شرابی مسافروں سے سکیورٹی عملہ پریشان –

نما میٹرو میں شرابی مسافروں سے سکیورٹی عملہ پریشان –

بنگلور : نما میٹرو کی خدمات کو چونکہ رات 11 بجے تک بڑھا دیا گیا ہے ، خاص طور پر رات کے اوقات میں شرابی مسافروں کی تعداد میں اضافہ میٹرو اسٹیشنوں پر سکیورٹی عملہ کے لئے ایک درد سر بنا ہوا ہے۔ رات کے اوقات میں شرابی مسافروں کی طرف سے ہنگامہ آرائی کے کئی واقعات پیش آتے رہے ہیں، پچھلی جمعرات کی رات ، ایک شرابی مسافر ، ایسٹ ویسٹ کاریڈور پر، اتی گپے میٹرو اسٹیشن میں سکیورٹی کے اراکین کے ساتھ بحث کر نے لگا تھا ، جس کے بعد انہوں نے اسے میٹرو پر سوار ہونے سے روک دیا ، اس شرابی نے اسٹیشن پر کافی ہنگامہ برپا کیا تھا۔اس شخص نے میٹرو کے عملہ سے سوال کیا کہ وہ کس طرح اسے ریل پر سوار ہونے سے روک سکتے ہیں، اور وہ اس بات پر اصرار کرتا رہا کہ میٹرو کا عملہ اسے ضابطہ کی کتاب دکھائیں جس میں شرابی شخص کو میٹرو میں سوار ہونے پر پابندی کا ذکر موجود ہو۔سکیورٹی عملہ کے اراکین اس طرح کے کسی ضابطہ سے واقف نہیں تھے جس کی وجہ سے انہیں اعلیٰ افسران کو بلانا پڑا تھا، جنہوں نے اس شرابی شخص کو ریل میں سوار ہونے سے روک دیا۔بنگلورو میٹرو ریل کارپوریشن لمیٹڈ (بی ایم آر سی ایل) کے حفاظتی دستہ کے ارکین کا کہنا ہے کہ یہ پہلا واقعہ نہیں ہے ، چونکہ بنگلور سٹی ٹریفک پولیس راتوں کے اوقات میں کاروں اور ٹیکسیوں کی جانچ کر تے ہیں اور اکثر آٹو ڈرائیور رات کے اوقات میں شرابی افراد کو اپنی گاڑیوں میں بٹھانے سے انکار کر دیتے ہیں، اس کی وجہ سے زیادہ تر شرابی لوگ خاص طور پر ایم جی روڈ اور اندرا نگر میٹرو اسٹیشن سے آنے والے افراد میٹرو کی سواری کو ترجیح دیتے ہیں۔بی ایم آر سی ایل حفاظتی دستہ کے ایک رکن نے بتایا کہ’’ بعض شرابی مسافر بڑی مشکل سے ہی کھڑے ہو سکتے ہیں اور بعض لوگ تو ریل گاڑی ہی میں قے کر دیتے ہیں، جس کی وجہ سے دوسرے مسافروں اور صفائی کے عملہ کے اراکین کو کافی پریشانیوں کا سامناہوتا ہے۔ہم لوگ بڑی نرمی کے ساتھ انہیں سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ لوگ میٹرو پر سفر نہ کریں ، مگر وہ ہمارے ساتھ بحث کرنے لگتے ہیں اور کبھی ہنگامہ بھی کر دیتے ہیں‘‘۔کئی خاتون مسافر بھی شرابی مسافروں کے بارے میں شکایت کر تے ہیں، ایک خاتون مسافر آر انیتا نے بتایا کہ ’’حال ہی میں ، میں میٹرو پر سفر کر رہی تھی اور ریل پر موجود ایک شرابی کی بدبو مجھ سے برداشت نہیں ہو پا رہی تھی،لیکن کسی نے بھی اسے روکنے کی کوشش نہیں کی‘‘۔میٹرو ریل سے متعلق قانون کیا کہتا ہے؟جب بی ایم آر سی ایل کے منیجنگ ڈائرکٹر مہیندر جین سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ ’’میٹرو ریلوے قانون 2002 واضح طور پر نشہ کی حالت میں کسی بھی شخص کو میٹرو پر سفر کرنے کے سلسلہ میں پابندی عائد کرتا ہے، یہ قانون میٹرو پر دوسرے مسافروں کے لئے پریشانیوں اور مسائل سے محفوظ رکھنے کے لئے سختی کے ساتھ نافذ کیا جاتا ہے۔اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ کسی بھی تھوڑا بہت شراب پئے ہوئے شخص کو میٹرو ریل پر سفر کرنے کی اجازت نہیں ہوگی، بلکہ میٹرو کے حفاظتی دستہ کے اراکین اگر کسی شخص کو دیکھیں کہ وہ شراب کے نشہ کی وجہ سے کھڑا ہونے کے بھی قابل نہیں ہے یا بہت زیادہ نشہ کی حالت میں ہونے کی وجہ سے اس کی طرف سے کچھ پریشانی ہو سکتی ہے تو حفاظتی دستہ کے اراکین کو اس بات کا اختیار حاصل ہوتا ہے کہ وہ ایسے افراد کومیٹرو اسٹیشن میں داخل ہونے سے ہی روک دیں‘‘۔انہوں نے مزید بتایا کہ ’’میٹرو ریل قانون 2002 کی دفعہ نمبر 59 ، کسی بھی شرابی شخص کے خلاف اقدام کرنے اور اس پر پانچ سو روپئے کا جرمانہ عائد کرنے کی اجازت دیتا ہے ، اس کے علاوہ یہ دفعہ حفاظتی دستہ کے اراکین کو اس بات کا اختیار بھی دیتا ہے کہ اس طرح کے شرابی افراد کو میٹرو کے اسٹیشن میں داخل ہونے سے روکیں یا اگر وہ پہلے ہی ریل میں سوار ہو گیا ہو تو اسے آگے کے سفر سے روکدیں‘‘۔آلکو میٹر کی فراہمی بھی ضروری:دہلی کے میٹرو اسٹیشنوں میں حفاظتی دستہ کے اراکین کو آلکو میٹر فراہم کئے گئے ہیں،تاکہ اگر انہیں کسی شخص کے بارے میں شک پیدا ہو کہ اس نے شراب پی رکھی ہے تو اس کی سانس کی جانچ کے ذریعہ اس کا پتہ لگا لیں، البتہ بی ایم آر سی ایل کی طرف سے یہاں بنگلور میں اپنے حفاظتی دستہ کے اراکین کو اس طرح کا آلکو میٹر فراہم نہیں کیا گیا ہے۔نما میٹرو جیسا ایک عمومی نظام نقل و حمل در اصل بنگلور جیسے شہر کے لئے زندگی کا ذریعہ ہوتا ہے، لیکن شرابی افراد اپنے ہم سفروں کے لئے سفر کو مشکل بناتے ہوئے نظر آتے ہیں اور دوسرے مسافر ان کی وجہ سے بے چینی محسوس کرتے ہیں۔اس کی وجہ سے کئی طرح کے حفاظتی مسائل بھی پیدا ہوتے ہیں، اس لئے کہ جو لوگ نشہ کی حالت میں ہو تے ہیں وہ میٹرو ریل پر ہنگامہ پربا کر سکتے ہیں ، دوسرے کے ساتھ جھگڑنے بھی لگتے ہیں اور خاص طور پر خواتین کو پریشان کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔شہری رضاکاروں کا کہنا ہے کہ بی ایم آر سی ایل کی طرف سے بعض شرابی افراد کو جو ریل پر سوار ہونے سے روکا گیا تھا وہ ایک بالکل مناسب اقدام ہے اور اس معاملہ میں بی ایم آر سی ایل کا عملہ اور حکام حق بجانب ہیں۔البتہ میٹرو کے اسٹیشنوں پر موجود حفاظتی دستہ کے اراکین کو میٹرو سے متعلق قوانین اور ضابطوں کے متعلق مکمل جانکاری کا حاصل ہونا ضروری ہے تاکہ وہ کسی بھی ہنگامی صورت حال میں حالات پر زیادہ مستعدی کے ساتھ اور موثر انداز میں قابو پا سکیں، اور اگر یہ سلسلہ زیادہ پریشان کن بنتا جاتا ہے تو بی ایم آر سی ایل دہلی میٹرو کے راستہ کو اختیار کرتے ہوئے آلکو میٹر کے اجراء کا قدم بھی اٹھا سکتی ہے تاکہ تمام مسافرین کے لئے آسان اور آرام دہ سفر کو ممکن بنایا جا سکے۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

کروناندھی کی حالت بگڑی –

چنئی (ایجنسیز) تملناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کروناندھی …

جواب دیں

%d bloggers like this: