سرورق / خبریں / نئی نسل میں انسانیت اور قناعت پسندی پیدا کرنے کی ضرورت ایس آئی او کے زیر اہتمام منعقدہ عید ملن پروگرام میں مقررین کا خطاب –

نئی نسل میں انسانیت اور قناعت پسندی پیدا کرنے کی ضرورت ایس آئی او کے زیر اہتمام منعقدہ عید ملن پروگرام میں مقررین کا خطاب –

بنگلور:  بروز اتوار 24 جون کی شام 6:30 بجے انسٹی ٹیوٹ آف اگریکلچرل ٹیکنو لوجٹس میں اسٹوڈنٹس اسلامک آرگنائزیشن آف انڈیا (ایس آئی او) کی جانب سے عید ملن پروگرام کا انعقاد عمل میں آیا ۔ جس میں لوک آیوکتہ کے سابق صدر جسٹس سنتوش ہیگڈے اور اینو پا یو نیورسٹی کے ایچ اوڈی ڈاکٹر جا وید کومہمان خصوصی کے طورپر مدعو کیا گیا تھا۔ علاوہ ازیں کئی غیر مسلم افراد بھی اس میں شریک رہے۔ایس آئی او ، شہر بنگلور کے صدر عقیل نے تمام لوگوں کااستقبال کرتے ہوئے کہا کہ ہماری خوشیوں میں ان لوگوں کو یا د رکھنا چاہئے، جو آج ہمارے درمیان محض اس وجہ سے موجود نہیں ہیں کہ انہیں نفرت کا شکار بنا یا گیا ہے۔ انہوں نے اس ضمن میں ہجومی قتل کے شکار پہلو خان، جنید ، گوری لنکیش اور دیگر لوگوں کا تذکرہ کیا۔ڈاکٹر جاوید جمیل اپنی تقریر کے دوران کہا کہ رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن کا نزول ہوا اور اس مہینہ کو انہوں نے شخصیت کی تعمیر کا ذریعہ بھی بتا یا۔ انہوں نے کہا کہ مذہب اخلاقی اقدار کا نام ہے نہ کہ اس کی علامات و نشانات جیسے لباس، رنگ و نسل وغیرہ کا۔اس موقع پر جسٹس ہیگڈے نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے افسوس جتا یا کہ ہندوستان میں رشوت کے معاملات آئے دن بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے اس کی واحد وجہ انسان کی حوس اور قنا عت کا نہ ہونا بتا یا۔انہوں نے چند واقعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں میں انسانیت ختم ہوتی جارہی ہے اور ہمیں آنے والی نسل میں انسانیت اور قناعت پسندی کو پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔جماعت اسلامی ہند کے رکن شوریٰ اکبر علی نے اختتامی کلمات کا فریضہ انجام دیتے ہوئے اس بات کی تاکید کی کہ رمضان و عید الفطر ہمیشہ ہی محبت و اخوت اور بھائی چارگی کا پیغام دیتی ہے جسے ہم سب کو عام کرنا ہے۔ اس موقع پر ایس آئی او کے ممبران شاذ، محمد زبیر،اظہر ، شعیب ،مجتبیٰ و دیگر موجود رہے۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

کروناندھی کی حالت بگڑی –

چنئی (ایجنسیز) تملناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کروناندھی …

جواب دیں

%d bloggers like this: