سرورق / خبریں / میجر گوگوئی پر فوجی سربراہ بپن راوت سخت، کہا، خطا ثابت ہوئی تو میں اسے مثالی سزا دوں گا

میجر گوگوئی پر فوجی سربراہ بپن راوت سخت، کہا، خطا ثابت ہوئی تو میں اسے مثالی سزا دوں گا

پہلگام ، فوجی سربراہ جنرل بپن راوت نے کہا کہ اگر یہ ثابت ہوگیا کہ میجر لیٹول گوگوئی نے کوئی غلط کام کیا ہے تو میں اس کو مثالی سزا دوں گا۔ انہوں نے کہا کہ جب کوئی فوجی عہدیدار یا اہلکار کوئی غلط کام کرتا ہے تو اس کو سخت سے سخت سزا دی جاتی ہے۔ فوجی سربراہ نے ان باتوں کا اظہار بدھ کے روز یہاں آرمی گڈ ول اسکول میں منعقدہ ایک تقریب کے حاشئے پر نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔
وسطی کشمیر کے ضلع بڈگام میں گذشتہ برس سری نگر کی پارلیمانی نشست پر پولنگ کے دوران کشمیری نوجوان فاروق احمد ڈار کو اپنی جیپ کے بونٹ سے باندھ کر کم از کم دس گاؤں گھمانے والے میجر لیٹول گوگوئی جنہیں اس کے لئے انعام و اکرام سے نوازا گیا تھا، کو بدھ کے روز سری نگر میں ایک کم عمر لڑکی کے ساتھ گرفتار کیا گیا۔ تاہم اسے گرفتاری کے بعد اپنے یونٹ کے حوالے کردیا گیا تھا۔ فوجی سربراہ نے نامہ نگاروں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا ’دیکھئے بھارتی آرمی کا کوئی بھی عہدیدار ہو، چاہے وہ کسی بھی عہدے پر فائز ہو اگر وہ کوئی غلط کام کرتا ہے اور ہماری نوٹس میں آتا ہے کہ اس نے غلط کام کیا ہے تو اُس کے خلاف سخت سے سخت کاروائی کی جاتی ہے‘۔
انہوں نے کہا ’اگر میجر گوگوئی نے کوئی غلط کام کیا ہے ، میں آپ کو یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ جلد سے جلد اس کو سزا دی جائے گی۔ اور میں ایسی سزا دوں گا کہ وہ ایک مثال بن کر رہ جائے گی‘۔ واضح رہے کہ میجر گوگوئی 23 مئی کو سری نگر کے ڈل گیٹ علاقہ میں واقع ’دی گرینڈ ممتا‘ ایک کم عمر لڑکی کے ساتھ پہنچا جہاں اس نے آن لائن بکنگ کے ذریعہ ایک کمرہ بک کیا تھا۔ تاہم ہوٹل ملازمین کو میجر کو یہ کہتے ہوئے کمرہ دینے سے انکار کیا تھا کہ ہم مقامی (کشمیری) لڑکیوں کو اپنے ہوٹل کمروں میں انٹری نہیں دیتے ہیں۔ میجر، میجر کے ساتھ آنے والے ایک کشمیر شخص کی ہوٹل ملازمین کے درمیان توتو میں میں شروع ہوئی تھی جس کے بعد پولیس نے میجر، لڑکی اور میجر کے ساتھ آنے والے شخص کو حراست میں لیا تھا۔
تاہم پولیس اسٹیشن خانیار نے بعد ازاں میجر کو اپنے یونٹ کے حوالے کیا تھا۔ کشمیر زون کے انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی) سوئم پرکاش پانی نے 23 مئی کو ہی واقعہ کی تحقیقات کے احکامات جاری کردیے ۔ انہوں نے ایس پی نارتھ زون سری نگر کو تحقیقاتی افسر مقرر کردیا ہے۔ لیٹول گوگوئی نے فاروق احمد ڈار جو کہ ضلع بڈگام کے ژھل براس آری زال بیروہ کا رہنے والا ہے، کو 9 اپریل 2017 کے دن سری نگر کی پارلیمانی نشست پر پولنگ کے دوران انسانی ڈھال بناکر اپنی جیپ کے ساتھ باندھا تھا ۔ گوگوئی نے فاروق جس نے اپنے حق رائے دہی کا بھی استعمال کیا تھا، کواپنے گاڑیوں کے قافلے کو پتھراؤ سے بچانے کے لئے اپنی جیپ کے ساتھ باندھا تھا۔
فوجی جیپ کے بونٹ سے باندھے گئے نوجوان فاروق ڈار کی تصویر اور ویڈیو سابق وزیر اعلیٰ اور نیشنل کانفرنس کے کارگذار صدر عمر عبداللہ نے 14 اپریل 2017 کو اپنے ٹویٹر کھاتے پر پوسٹ کی تھی۔ فوجی جیپ کے ساتھ باندھے گئے نوجوان فاروق کی تصویر اور ویڈیو نے وادی بھر میں شدید غصے اور ناراضگی کی لہر پیدا کی تھی۔ اہلیان وادی نے فوج کی اس حرکت کو بدترین انسانی حقوق کی پامالی قرار دیا تھا۔ تاہم لوگوں کی ناراضگی اور غصے میں اس وقت اضافہ ہوا تھا جب فوجی سربراہ جنرل بپن راوت نے فاروق ڈار کو فوجی جیپ سے باندھنے کے مرتکب میجر لیٹول گوگوئی کو توصیفی سند سے نوازا تھا۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

کروناندھی کی حالت بگڑی –

چنئی (ایجنسیز) تملناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کروناندھی …

جواب دیں

%d bloggers like this: