سرورق / خبریں / مودی نے کوریائی صنعتکاروں سے ہندوستان میں سرمایہ کاری کی درخواست کی، کہا ہندوستان اور کوریا میں مماثلت-

مودی نے کوریائی صنعتکاروں سے ہندوستان میں سرمایہ کاری کی درخواست کی، کہا ہندوستان اور کوریا میں مماثلت-

نئی دہلی‘ ہندوستانی جمہوریت‘ ہنرمند اور پرجوش نوجوان افرادی قوت اور زبردست مانگ کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندرمودی نے آج جنوبی کوریا کے صنعت کاروں سے ہندوستان میں سرمایہ کاری کی اپیل کی اور کہا کہ دنیا کے بہت کم ملکوں میں اتنے کاروباری مواقع اور امکانات ہیں جتنا ہندوستان کے بازار میں پائے جاتے ہیں۔
مسٹر مودی نے یہاں منعقد ہند۔ جنوبی کوریا بزنس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس کانفرنس میں جنوبی کوریا کے صنعت کاروں کی اتنی بڑی تعداد میں موجودگی ہندوستان کے عالمی طاقت ہونے کی کہانی کہتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان بازار میں جنوبی کوریا کی تقریباً پانچ سو کمپنیاں موجود ہیں اور ہر گھر میں ان کمپنیوں کے مصنوعات استعمال کئے جاتے ہیں۔ گذشتہ سال دونوں ملکوں کے درمیان باہمی تجارت 20 ارب ڈالر سے تجاوز کرگئی۔ جنوبی کوریاکی اقتصادی پالیسیاں دونوں ملکوں کے کھلے بازار اور لک ایسٹ پالیسی کے مطابق ہیں۔ لیکن ان سب کے باوجود ہندوستان میں بالواسطہ غیرملکی سرمایہ کاری کے معاملے میں جنوبی کوریا کا مقام سولہواں ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ دنیا کے بہت کم ملکوں میں اتنے کاروباری مواقع ہے جتنے کہ ہندوستانی بازار میں موجود ہیں۔ ہندوستان میں جمہوریت ہے ۔ صنعتی پالیسی کو لچک دار بنایا جارہا ہے جن سے سب کو یکساں‘ غیر جانبدارانہ اور آزادانہ موقع ملتا ہے۔ ہندوستان میں ہنر مند اور نوجوان افرادی قوت ہے۔ اس علاوہ ہندوستان کے وسیع بازار میں سروس اور اشیاء کی کافی مانگ ہے ۔ جنوبی کوریا کی کمپنیوں کو اس سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔
اس موقع پر جنوبی کوریات کے صنعت و تجارت کے وزیر اور مرکزی وزیر برائے صنعت و تجارت سریش پربھو بھی موجود تھے۔
وزیر اعظم مودی نے کہا کہ ہندوستان اور کوریا کے درمیان تعلقات صدیوں پرانے ہیں۔ سمجھا جاتا ہے کہ کسی زمانے میں بھارت کی ایک راجکماری کوریا گئی تھی اور وہ کوریا میں رانی بن گئی تھی۔ ہم اپنی بودھ روایتوں سے بھی وابستہ ہیں۔ بالی ووڈ کی فلمیں بھی کوریا میں کافی مقبول ہیں اور یہ ایک حسن اتفاق بھی ہے کہ ہندوستان اور جنوبی کوریا، دونوں اپنا یوم آزادی 15اگست کو مناتے ہیں۔ راجکماری سے شاعری تک اور بدھا سے بالی ووڈ تک ہمارے درمیان کافی کچھ مشترک ہے۔
وزیر اعظم مودی نے کہا کہ اس موقع پر ان لوگوں کو جو یہاں موجود نہیں ہیں، ذاتی طور پر ہندوستان آنے کی دعوت دیتا ہوں۔ اگر آج آپ دنیا بھر میں نظر ڈالیں تو چند ایسے ممالک ہیں جہاں آپ کو معیشت سے متعلق تین اہم عناصر یکجا ملیں گے، وہ عناصر ہیں جمہوریت، آبادی سے متعلق اعداد و شمار اور مانگ۔ ہندوستان میں ہم ان تینوں عناصر کو یکجا دیکھتے ہیں۔ جمہوریت سے میرا مطلب ہے ایک ایسا نظام جو نرم روی کے اقدار پر مبنی ہو، جس میں سبھی کو شفاف طور پر اور کھل کر کام کرنے کا موقع ملے۔ آبادی سے متعلق اعداد و شمار سے میرا مطلب ہے ایک بڑی تعداد میں باصلاحیت نوجوان اور جوش و جذبے سے مامور کام کرنے کی طاقت۔ مانگ سے میرا مطلب ہے کہ اشیاء اور خدمات کے لئے ایک بڑی اور ابھرتی ہوئی مارکیٹ۔
مسٹر مودی نے کہا کہ ہم اب ’ایز آف لیونگ‘، یعنی آسان زندگی کی سمت کام کررہے ہیں۔ ہم ضابطوں کو اور لائسنس کو ختم کرنے کی مہم چلارہے ہیں۔ صنعتی لائسنس کے جواز کی مدت میں 3 سال کا اضافہ کرکے 15 سال اور اس سے زیادہ کردیا گیا ہے۔ دفاعی مصنوعات کے لئے صنعتی لائسنس کے طریق کار میں بڑے پیمانے پر نرمی کی گئی ہے۔ تقریباً 65 سے 70 فیصد چیزیں جن پر پہلے لائسنس تھا، اب بغیر لائسنس کے تیار کی جاتی ہیں۔
وزیر اعظم نے کہا کہ فیکٹریوں کا معائنہ اب صرف ضرورت کی بنیاد پر ہوگا اور یہ معائنہ اب صرف اعلیٰ حکام ہی کرسکیں گے۔ غیرملکی براہ راست سرمایہ کاری ایف ڈی آئی میں اب ہم سب سے زیادہ کھلے ہوئے ملکوں میں شامل ہوگئے ہیں۔ ہماری معیشت کے زیادہ تر شعبے ایف ڈی آئی کے لئے کھلے ہیں۔ نوے فیصد سے زیادہ منظوریاں اب آٹومیٹک طریقے سے دی جاتی ہیں۔ دفاع کے شعبے کو چھوڑکر، مصنوعات کے شعبے میں اب عملی طور پر سرمایہ کاروں کے لئے خاص طور پر سرکاری منظوری کی ضرورت نہیں ہے۔ کسی کمپنی کو قانونی حیثیت اور ایک نمبر جاری کرنے میں اب صرف ایک دن لگتا ہے۔ ہم نے تجارت، سرمایہ کاری، حکمرانی اور سرحد پار سے کی جانے والی تجارت کے محاذ پر ہزاروں تبدیلیاں کی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے 1400 سے زیادہ پرانے قوانین اور دفعات پوری طرح ختم کردیئے ہیں، جس سے اس طرح کے اقدامات میں رکاوٹ آتی تھی اور اب ہماری معیشت تیزرفتار ترقی کی راہ پر گامزن ہوگئی ہے۔ پچھلے تین سال میں ایف ڈی آئی کی آمد میں سب سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ گھریلو صنعت میں ایک نئی توانائی اور تحریک پائی جاتی ہے۔ ایک نئے اسٹارٹ اَپ، ماحولیاتی نظام کی نقاب کشی ہوئی ہے۔ انفرادی شناختی نمبر اور موبائل فون کا استعمال ہونے لگا ہے، جس کی وجہ سے ہم ایک ڈیجیٹل معیشت کی شکل اختیار کرنے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عالمی پلیٹ فارم پر ہندوستان پچھلے تین سال میں عالمی بینک کے، تجارت کو آسان بنانے کے انڈیکس میں 42 مقام پر آگیا ہے۔ ہندوستان نے عالمی بینک کے 2016 کے، لوجسٹکس کارکردگی کے انڈیکس میں 16 پائیدانوں کی چھلانگ لگائی ہے۔ پچھلے دو برس میں عالمی معاشی فورم کے عالمی مسابقتی انڈیکس میں 31 درجہ بہتری حاصل کی ہے۔ پچھلے دو سال میں ڈبلیو آئی پی او کے عالمی اختراعی انڈیکس میں 21 مقام کی چھلانگ لگائی ہے۔ہندوستان یو این سی ٹی اے ڈی کی ایف ڈی آئی سے متعلق دس چوٹی کے ملکوں میں شامل ہوگیا ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ ہم اپنی قوت خرید کے اعتبار سے دنیا کی تیسری سب سے بڑی معیشت بن چکے ہیں۔ بہت جلد ہم کم سے کم جی ڈی پی کے ذریعے دنیا کی پانچویں سب سے بڑی معیشت بن جائیں گے۔ ہم آج دنیا کی سب سے تیزی سے ابھرتی ہوئی معیشت بھی ہیں۔ ہم ایک ایسا ملک بھی ہیں، جہاں سب سے زیادہ اسٹارٹ اپ ماحولیاتی نظام ہے۔
سرمایہ کاری کے ماحول کو بہتر بنانے کے لئے کئے گئے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ ہم خاص طور پر مینوفیکچرنگ کو بڑے پیمانے پر فروغ دینا چاہتے ہیں، تاکہ ہمارے نوجوانوں کے لئے روزگار کے مواقع پیدا ہوں۔ اس مقصد سے ہم نے میک اِن انڈیا نام کی مہم شروع کی ہے، اس میں ہمارے صنعتی بنیادی ڈھانچے، پالیسیوں اور وہ طور طریقے بھی شامل ہیں، جو بہترین عالمی معیارات کے حامل ہیں، نیز بھارت کو عالمی سطح کا ایک مصنوعات سازی کا مرکز بنانا شامل ہے۔ اس قدم کو ڈیجیٹل انڈیا اور اسکل انڈیا جیسے پروگراموں کے ذریعے مدد دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ زیادہ صاف اور زیادہ ہری بھری ترقی اور زیرو خامی زیرو اثر مینوفیکچرنگ ایک اور عزم ہے۔
دونوں ملکوں کے درمیان شراکت داری کو مستحکم کرنے کئے لئے گئے گئے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ جون 2016 میں ’’کوریا پلس‘‘ تشکیل دی گئی تھی۔ کوریا پلس کا مقصد ہندوستان میں کوریائی سرمایہ کاری کو فروغ دینا، اس میں آسانی پیدا کرنا اور اسے برقرار رکھنا ہے۔ اسے ہندوستان میں کوریائی سرمایہ کاروں کے لئے پہلے قدم کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔ کوریا پلس کی وجہ سے تقریباً دو سال کے مختصر عرصے میں 100 سے زیادہ کوریائی سرمایہ کاروں کو آسانی فراہم ہوئی ہے۔ یہ کوریائی کمپنیوں کے سرمایہ کاری کے حلقے کے ذریعے ایک شراکت دار کے طور پر کام کررہا ہے۔ اس سے کوریائی عوام اور کمپنیوں، ان کے نت نئے نظریات اور سرمایہ کاری کے خیرمقدم کے تئیں ہمارے عزم کا اظہار ہوتا ہے۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

کروناندھی کی حالت بگڑی –

چنئی (ایجنسیز) تملناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کروناندھی …

جواب دیں

%d bloggers like this: