سرورق / خبریں / مودی حکومت پر کانگریس کا طنز: عوامی منتخب حکومت نہیں , آر ایس ایس حکومت چلارہی ہے:راہل گاندھی

مودی حکومت پر کانگریس کا طنز: عوامی منتخب حکومت نہیں , آر ایس ایس حکومت چلارہی ہے:راہل گاندھی

دیون گرے (کرناٹک ) ، صدر کانگریس راہل گاندھی نے کہا ہے کہ نریندر مودی کی ز یر قیادت بی جے پی حکومت نے پیچیدہ جی ایس ٹی کو متعارف کیا اور غیر ضروری نوٹ بندی کے پروگرام کئے جس سے معیشت متاثر ہوئی اور ملازمتوں کے مواقع متاثرہوئے۔ مودی حکومت معیشت اور ٹیکس پر مقبول رائے کو سننے سے مزاحمت کررہی ہے اور حال ہی میں بینکنگ گھپلہ اس کی بڑی مثال ہے ۔ انہوں نے کرناٹک میں انتخابی دورہ کے پانچویں مرحلہ کے دوسرے دن تاجروں اور عوام سے تبادلہ خیال کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی حکومت نے بینکنگ نظام کو صرف 15 تا 20 تاجروں کے حوالے کردیا ہے اور ایس ایم بیز کی خواہشات کو نظرانداز کیا ہے جو حقیقی معنوں میں ملازمت کے مواقع پیدا کرنے والے ہیں۔ حکومت کے اس قدم سے بڑے پیمانے پر بیروزگاری ہوئی ہے اور معیشت تباہ ہوئی ہے۔ بی جے پی نے بڑے تجارتی اداروں کے مفاد میں پالیسیاں تیار کی ہیں ۔
یہ الزام لگاتے ہوئے کہ جی ایس ٹی کو آسان بنانے کے بجائے مودی حکومت نے اسے پیچیدہ اور گبر سنگھ ٹیکس بنادیا۔ کانگریس کا اس بات پر یقین ہے کہ جی ایس ٹی کو آسان بناتے ہوئے چھوٹے اور اوسط تاجروں کو بااختیار بنایا جائے۔ صدر کانگریس نے کہا کہ 2019میں برسراقتدار آنے پر کانگریس موجودہ جی ایس ٹی کے سسٹم کو منسوخ کرتے ہوئے اسے آسان بنائے گی اور ٹیکس کا واحد سلاب بنائے گی۔
کانگریس حکومت روزانہ عوام کی جانب سے استعمال کی جانے والی اشیاء پر تمام طرح کے ٹیکس سے دستبردار ہوگی ۔ انہوں نے کہا ’’ کانگریس کے پاس جی ایس ٹی کے دو ویژن ہیں۔ ہم اسے آسان بنانا چاہتے ہیں اور اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ اس کا واحد سلاب سسٹم تاہم مودی حکومت نے ایسا پیچیدہ سسٹم بنادیا ہے جو سوڈان اور پاکستان کے موجودہ جی ایس ٹی سے بھی بدتر ہے ۔ اسے دنیا کے بدترین ٹیکس کے طور پر دیکھا جارہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ نوٹ بندی نے ہندوستانی معیشت کے مختلف شعبوں کو متاثر کیا ہے اور ملازمتوں کے مواقع عملاً رک گئے ہیں۔ چین نے ایک دن میں 50 ہزار ملازمتیں پیدا کی ہیں لیکن مودی حکومت 24 گھنٹے میں صرف 450 مواقع ہی فراہم کرتی رہی ہے کیوں کہ حکومت نے ایس ایم بیز اور زرعی شعبہ کی بہبود کو نظرانداز کردیا ہے ۔ زرعی اشیاء پر ٹیکس اور فوڈ پروسیسنگ کو نظرانداز کرنے سے ملازمتوں سے لوگ محروم ہوئے ہیں۔ جی ایس ٹی اور نوٹ بندی چھوٹے اور اوسط تاجروں پر شدید حملہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی حکومت رسمی شعبہ کو نظرانداز کررہی ہے۔ اس نے اس شعبہ پر بھاری انکم ٹیکس عائد کیا ہے جس سے کئی افراد متاثر ہوئے ہیں۔ چھوٹے تاجرین ملک کا بڑا اثاثہ ہیں۔ یہ سمجھے بغیر کہ ملک کو ان تاجروں نے کیا دیا ہے ‘ مودی حکومت سرکردہ تاجروں کی تال پر رقص کررہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ عام تاجروں اور دیگر افراد کے لئے پالیسیاں بنائی جانی چاہئیں۔ صدر کانگریس نے کہا کہ ہندوستان میں بڑے پیمانے پر بینک کے گھپلے ہوئے ہیں۔ کیوں کہ مودی حکومت میں آر بی آئی جیسے سرکردہ ادارہ کا احترام نہیں کیا ہے ۔ آر بی آئی کے سابق صدرنشین رگھورام راجن ایک بااحترام ماہر معاشیات کے طور پر دنیا بھر میں مشہور ہیں۔ انہوں نے بی جے پی حکومت کو مشورہ دیا تھا کہ وہ نوٹ بندی نہ کرے ۔ وزیر خزانہ اور پوری کابینہ کو بھی اس بارے میں کوئی علم نہیں تھا۔ جی ایس ٹی کو نافذ کرنے سے پہلے مکمل کابینہ کو مقفل کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ آر ایس ایس حکومت چلارہی ہے نہ کہ منتخب حکومت ۔ ہر کابینی وزیر کے دفتر میں آر ایس ایس کا ایک شخص بیٹھا ہے جو احکامات دے رہا ہے ۔
بی جے پی اور کانگریس میں یہی فرق ہے۔ ان کی یہ سوچ ہے کہ ہندوستان تمام کا نہیں ہے جبکہ ہم چاہتے ہیں کہ ہر طبقہ صحت مند سماج بنانے کے لئے آگے آئے ۔ کانگریس نے خیالات کی آزادی‘ غذائی عادتوں اور نظریات کی آزادی دی ہے ۔ جب کوئی منافرت یا طبقات کے درمیان کشیدگی پیدا کرتا ہے تو ہم اس پر کارروائی کرتے ہیں تاہم یہ دیکھا جارہا ہے کہ دلت ‘ اقلیتیں اور قبائل احتجاج کررہے ہیں کیوں کہ انہیں کچلا جارہا ہے ۔ کانگریس کا یقین ہے کہ ملک ہر کسی کا ہے ۔ ہمیں تمام ریاستوں ‘ زبانوں ‘ تہذیب اور ثقافت پر فخر ہے ۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

کروناندھی کی حالت بگڑی –

چنئی (ایجنسیز) تملناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کروناندھی …

جواب دیں

%d bloggers like this: