سرورق / خبریں / مودی حکومت نے عوام کے 19لاکھ کروڑ روپے لوٹ لئے:شرد یادو

مودی حکومت نے عوام کے 19لاکھ کروڑ روپے لوٹ لئے:شرد یادو

نئی دہلی، جنتا دل یونائٹیڈ کے سابق صدر اور سابق مرکزی وزیر شرد یادو نے وزیر اعظم نریندر مودی پر سخت حملہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے پٹرول اور ڈیزل پر ٹیکس کے ذریعہ ملک کے عوام سے 19لاکھ کروڑ روپے لوٹ لئے ہیں اور ان کی حکومت ’تیل کی لوٹ‘ پر چل رہی ہے۔
مسٹر یادو نے کہا کہ مودی حکومت نے جب سے اقتدار سنبھالا ہے اس وقت سے خام تیل کی قیمتوں میں آئی کمی کا فائدہ عوام کو دینے کے بجائے اپنی جھولی میں بھرنے میں لگی ہوئی ہے اور اس نے مختلف ٹیکسوں کے ذریعہ سے 19لاکھ کروڑ روپے کمائے ہیں۔ اور ریاستی حکومتوں کو خاموش رکھنے کے لئے اس کا کچھ حصہ انہیں بھی دیا ہے۔انہوں نے اعدادو شمار پیش کرتے ہوئے بتایا کہ پٹرول اور ڈیزل پر ٹیکسوں کے ذریعہ مرکزی حکومت 11.48 لاکھ کروڑ روپے اور ریاستو ں نے 8.13 لاکھ روپے کمائے ۔
گذشتہ چار برسوں کے دوران مودی حکومت کو ہر محاذ پر ناکام بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پٹرول اور ڈیزل کی اونچی قیمتوں نے ملک بھر میں زبردست تباہی مچا رکھی ہے۔ ملک کے لوگ اور بالخصوص مڈل کلاس اور کسان اس سے انتہائی پریشان ہیں۔ دوسری طرف مسٹر مودی اور ان کی پارٹی ‘ بی جے پی ‘ کے لیڈران لوگوں کی پریشانیوں کودور کرنے کے اقدامات کرنے کے بجائے غیر ضروری ایشو اٹھاکر سماج کو تقسیم کرنے اور مذہبی بنیاد پر صف بندی کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔
سابق مرکزی وزیر نے کہا کہ مودی حکومت کے کام کاج کے سلسلے میں ملک کے عوام میں کافی غصہ ہے اور اگلے سال ہونے والے عام انتخابات میں اس کا اقتدار سے باہر ہونا یقینی ہے۔انہوں نے کہا کہ مودی حکومت لوگوں کو ان کے آئینی حقوق سے محروم کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ لیکن دلتوں نے بھارت بند کے ذریعہ سڑک پر آکر اپنا غصہ ظاہر کردیا ہے ۔ دوسری طرف ملک کے مختلف حصوں میں کسان تحریک چلارہے ہیں اور مزدور بھی اس حکومت کے کام کاج سے خوش نہیں ہیں۔
مسٹر یادو نے کہا کہ مسٹر مودی ایک طرف تو ’سب کا ساتھ سب کا وکاس‘ کی بات کرتے ہیں اور دوسری طرف ان کی پارٹی اور اس سے وابستہ تنظیمیں گائے‘ جناح‘ ٹیپو سلطان‘ تاج محل‘ لو جہاد اور نماز جیسے غیر ضروری ایشو اٹھاکر سماج کو تقسیم کرنے اور مذہبی بنیاد پر صف بندی کرنے کا کام کرتے ہیں۔
کرناٹک اسمبلی انتخابات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بی جے پی نے اپنے انتخابی مہم میں غیر ضروری مسائل کو اٹھاکر ووٹروں کی توجہ اصل مسائل سے ہٹانے کی پوری کوشش کی اس کے علاوہ مذہبی بنیاد پر ان کی صف بندی بھی کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی ایک ذات کو دوسری ذات سے اور ایک مذہب کے ماننے والوں کو دوسرے مذہب کے ماننے والوں سے لڑانے کا کام کرتی ہے۔انہوں نے دعوی کیا کہ کرناٹک میں کانگریس کی کامیابی یقینی ہے۔
مسٹر یادو نے کہاکہ گذشتہ عام انتخابات کے دوران مسٹر مودی نے جو وعدے کئے تھے اگر انہیں وہ پورا کرتے تو ملک کا نقشہ ہی بدل جاتا لیکن وہ ایک بھی وعدہ پورا نہیں کرپائے۔ ایک وقت بی جے پی کے قریبی رہے مسٹر یادو نے وزیر اعظم مودی پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ 2014میں انہوں نے بیرونی ملکوں سے کالا دھن لاکر ہر ایک شہر ی کے کھاتے میں پندرہ پندرہ لاکھ روپے ڈالنے کا خواب دکھایا تھا اب وہ 2022 تک کسانوں کو آمدنی دوگنا کردینے کا خواب دکھا رہے ہیں۔
سابق مرکزی وزیر نے مزید کہا کہ مودی حکومت نے ہر سال دو کروڑ روزگار دینے کا وعدہ کیا تھا لیکن روزگار کے معاملے میں ملک کی صورت حال انتہائی خراب ہے ۔ صنعت اور کاروباری دونوں پریشانی اور بحران کا شکار ہیں۔ نوجوانوں کو پان کی دکان کھولنے اور پکوڑے بیچنے کا مشورہ دیا جارہا ہے۔ نوٹ بندی اور جی ایس ٹی نافذ کرکے حکومت نے معیشت کی حالت اور بھی خراب کردی ہے۔ حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ملک میں نقدی کا مسئلہ پیدا ہوگیا ہے۔ لوگوں کو بینکوں اور اے ٹی ایم کے چکر پر چکر لگانے پڑ رہے ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وہ اگلے عام انتخابات سے قبل ملک میں اپوزیشن اتحاد کے تئیں انتہائی پرامید ہیں۔ انہوں نے کہا’میرا مقصد تمام اپوزیشن کو متحد کرنا ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ یہ کام مشکل تو ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں ہے ۔ گورکھ پور‘ پھول پور اور گرداس پور کے حالیہ ضمنی انتخابات نے اسے ثابت بھی کردیا ہے۔انہوں نے کہاکہ اس سلسلے میں ان کی کانگریس صدر راہل گاندھی سے بھی بات ہوئی ہے۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

کروناندھی کی حالت بگڑی –

چنئی (ایجنسیز) تملناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کروناندھی …

جواب دیں

%d bloggers like this: