سرورق / خبریں / مودی جی نے چار برس تک صر ف سبز باغ دکھائے ہیں!

مودی جی نے چار برس تک صر ف سبز باغ دکھائے ہیں!

تمام قسم کی جملے بازیوں اور ہواہوائی دعوؤں ،وعدوں کے درمیان مرکز کی این ڈی اے سرکار چار برس مکمل ہونے پر پرشکوہ جلسہ منعقد کرنے کی تیاری کررہی ہے۔مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ این ڈی اے سرکار کے پاس عوام کو دکھانے اور اپنے کئے پر فخر کرنے کیلئے کچھ بھی نہیں ہے۔اگر کچھ ہے بھی تو ہندوتوا کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے والے منصوبے کمزوروں دلتوں اور اقلیتوں کے بہیمانہ ماب لنچنگ کی وارداتیں جن میں ہمیشہ این ڈی اے سرکار قاتلوں کے ساتھ رہی ہے ۔
حالاں کہ امید کی جارہی تھی کہ مسلمانوں اور دیگراقلیتوں کیلئے بہ ظاہر جارحانہ رویہ دکھانے والے وزیر اعظم نریندر مودی عملی طور پر مسلمانوں کے دشمن نہیں ہیں اوروزارت عظمیٰ کا قلمدان سنبھالنے کے بعد ملک کے دیگر طبقات کی طرح کسانوں ،مزدوروں ،مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کی فلاح وبہبود کیلئے بھی یکساں فراخ دلی سے کام کریں گے۔مئی2014ء میں انہوں نے عہدہ اوررازداری کاحلف لینے کے بعد جو تقریر کی تھی اس میں بھی انہوں نے پرعزم لہجے میں کہا تھا کہ ملک کے سواسو کروڑ باشندوں نے ان پر اعتماد کیا ہے ،لہٰذا وہ سبھی کی امیدوں اور توقعات پرکھرا اترنے کی ایماندارانہ کوشش کریں گے۔ملک کی سب سے زیادہ پسماندہ اقلیت مسلمانوں کے بارے میں وزیر اعظم نریندر مودی نے بارہا کہا ہے کہ وہ مسلم نو جوانوں کے ایک ہاتھ میں قرآن اور دوسرے ہاتھ میں کمپیوٹر دیکھنا چا ہتے ہیں۔مگر یہ ان کے ضمیر کی آواز تھی یا ظاہری طور پر واہ واہی حاصل کرنے اور تالیاں بٹور نے کا سیاسی پینترا تھا ،جب ہم اس کوعمل کی کسوٹی پر دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں تو مایوسی ہی ہاتھ لگتی ہے۔وزیر اعظم نے زبان سے چاہے جو بھی کہاہو، مگر حقیقت یہی ہے کہ گزشتہ چار برسوں میں مسلمانوں کی ترقی یا فلاح بہبود کے نام پر رتی برابر بھی کوئی کام نہیں ہوسکاہے۔حالاں کہ مودی جی نے یہ دعویٰ کیا تھاکہ اقلیت اکثریت کی طبقاتی کھائی کو ختم کرکے وہ سبھی طبقات کو بہ حیثیت ہندوستانی شہری ترقی کا یکساں موقع فراہم کریں گے۔
چناں چہ رواں مانسون اجلاس میں متعدد اراکین پارلیمنٹ کے ذریعہ اقلیتوں اور مسلمانوں کیلئے اب تک کئے گئے اقدامات کے بارے میں سوال پوچھے جانے پر نہ صرف بی جے پی کیمپ چراغ پا ہوگیا، بلکہ بہت سے میڈیا ہاؤسز بھی جز بز ہوگئے جو گودی میڈیا کے طور پر پہچان حاصل کرچکے ہیں۔ لیکن بھونپو میڈیا اور مودی حکومت کے لاکھ چھپانے کے باوجود چند حقائق دنیاکے سامنے آہی گئے ،اقلیتوں کیلئے موجودہ حکومت نے کیا کیا ہے اس کا ثبوت دینے سے پہلے سیدھا سا جواب یہی ہے کہ مودی حکومت نے مسلمانوں کی ترقی کے نام پر صرف جملے بازی کی ہے ۔اب جبکہ مرکزی سرکار اپنے چار سال مکمل ہونے کا تاریخی جشن منانے کی تیاری میں جٹ گئی ہے تو ہمیں یہ جائزہ لینا ہوگا کہ جس حکومت نے پارلیمنٹ کی پہلی تقریر میں کہا تھا کہ انہیں سواسو کروڑ ہندوستانیوں نے اپنا رہنما منتخب کیا ہے،لہٰذا تمام طبقات کی ترقی اور فلاح وبہبود کیلئے قدم اٹھانا ان کا پہلا فرض ہے۔مگر ان چار برسوں میں مودی حکومت غریبوں،مزدوروں اورمتوسط طبقہ کی پریشانیاں دور کرنے کے بجائے صرف تین فیصد ساہوکاروں اور سرمایہ داروں کو فائدہ پہنچانے میں مگن ہوگئی اور غریبوں اور عام ہندوستانیوں کو مشکلات اور پریشانیوں کی کھائی میں ڈھکیلنے کی مہم شروع کردی گئی ۔
پہلے تو صرف مذہب اور اقلیت و اکثریت کی بنیاد پر فصیلیں تیار کی جاتی تھیں،مگر ایسا پہلی بار دیکھنے کو مل رہا ہے کہ ملک میں امیر وغریب کے درمیان خلیج تیار کردی گئی ہے۔اور مذہب و ذات پات کے ساتھ تفریق کی ایک نئی تقسیم پر کام شروع کردیا گیاہے۔چونکہ این ڈی اے حکومت جلدہی اپنی چوتھی سالگرہ منانے جارہی ہے ،لہٰذا اب یہ ضروری ہوگیا ہے کہ یہ معلوم کیا جائے کہ بی جے پی حکومت نے ان چار برسوں میں عام ہندوستانیوں بالخصوص غریب ومزدور اور کسانوں کی اور اقلیتوں کی بھلائی کیلئے کون کون سے منصوبے مرتب کئے ہیں اور ان منصوبوں پر کتنا عمل ہواہے۔
واضح رہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے پارلیمنٹ میں اپنے پہلے خطاب میں صرف غریب کسان گاؤں مزدور اور حاشیہ پر ڈال دیے گئے ہندوستانیوں کے دکھوں کا اظہار کرتے ہوئے یہ اعتماد جگایا تھا کہ ملک میں کسانوں اور غریبوں کے اچھے دن آنے والے ہیں۔ وزیر اعظم کے ذریعہ ایسا ظاہر کیا جانے لگا کہ ملک میں پہلی بار ’’غریبی ہٹاؤ‘‘ کا نعرہ جملہ سے آگے ایمانداری کے ساتھ بلند کیا جارہا ہے اور بی جے پی سرکار ملک سے غریبی کو ہرقیمت پر ختم کرکے ہی دم لے گی۔ اسی پہلے خطاب میں وزیر اعظم مودی نے کسانوں کے ساتھ مزدوروں اور غریبوں کی فلاح کیلئے کئی نئے منصوبوں کا بھی اعلان کیا تھا۔مگر آج چار سال مکمل ہونے پر ان میں سے کوئی بھی منصوبہ زمینی سطح پر کہیں بھی دیکھنے کو نہیں مل رہا ہے۔
اب اگر چار سال بعد بی جے پی حکومت اپنی کامیابیاں شمارکرا رہی ہے تو سب سے پہلے سوال کسان، غریبوں اور مزدور وں کا ہی ہونا چاہئے کہ کیا واقعی ان کے دن بدل گئے ہیں؟اس کا اندازہ لگانے کیلئے ایک سوئل کارڈکی مثال کو سامنے رکھیں، مودی حکومت کی جانب سے جس کی بھرپور تشہیر کی گئی تھی اور جملے بازی پر یقین کرکے کسان مزدور یہ امید لگا بیٹھے تھے کہ اس سیول ہیلتھ کارڈ کے ذریعہ ان کی زمینیں سبزہ زار ہوکر سونا اگلنے لگیں گی،لیکن بی جے پی کے زیر قیادت حکومت راجستھان کے شری گنگا نگر کے کسان، یوپی کے میرٹھ کے کسان، چھتیس گڑھ کے کسان یعنی یہ سبھی ایسے کسان ہیں جنہوں نے آج تک سیول ہیلتھ کارڈ کا نام ہی نہیں سنا ہے تو سمجھا جاسکتا ہے کہ انہیں اس سیول ہیلتھ کارڈ کا کوئی فائدہ کیسے ملا ہوگا۔اسی طرح فصل بیمہ منصوبہ بھی حکومت کا منہ چڑھارہا ہے ،جس فصل بیمہ منصوبہ کا حکومت ہند ڈھنڈورا پیٹ رہی ہے ،اس کی سچائی یہ ہے کہ معاوضہ کے چند روپیوں پر آکر یہ منصوبہ اٹک گیا اور اس کا فائدہ بھی تمام کسانوں کو نہیں مل سکا۔کہاں کسانوں کی آمدنی دوگنی کرنے کے دعوے کئے جارہے تھے ، لیکن آج صورت حال یہ ہے کہ کسانوں کو ان کی فصل کی اصل لاگت بھی نہیں مل رہی ہے ۔ مجبور کسانوں نے مہاراشٹر سے لکھنؤ تک اپنی پیداوار کو سڑکوں پر پھینک کر حکومت کے سامنے اپنی بے چینی کا برملا اظہار کیا ہے ،جس کا سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ مدھیہ پردیش میں جہاں کم از کم امدادی قیمت پر فصل خریدے جانے کا ڈنکا پیٹا گیا اور شیوراج سنگھ چوہان نے واہ واہی لوٹنے کی بھرپور کوشش بھی کی۔مگر وہیں سے یہ رپورٹ آئی کہ کسان امدادی قیمت حاصل کرنے کیلئے پانچ پانچ دن تک لائنوں میں لگے رہے ،مگر ناامیدی کے سواکوئی بھی چیز ان کے ہاتھ نہیں لگی۔ مدھیہ پردیش کی زرعی پیداوار منڈی میں ایسے حالات بن گئے کہ کسانوں نے جم کرحکومت اور بی جے پی کے خلاف نعرے بازی کی ،جس سے یہ سوال خود بخود کھڑا ہوجاتا ہے کہ کسانوں کی آمدنی دوگنی کرنے کا وعدہ کہاں چلاگیا۔
گذشتہ چار برسوں میں مرکزی حکومت کے تحت آنے محکمے جیسے بینکوں، ریلوے اور مرکزی نیم فوجی دستوں میں اقلیتوں کے کتنے امیدواروں کا تقررعمل میں آیا اس سوال کا حکومت کے پاس کوئی جواب نہیں ہے۔ آپ وزارت اقلیتی امور کی ویب سائٹ دیکھیں جس میں بتایا جاتا ہے کہ مسلمانوں اور عیسائیوں کے بشمول کتنے اقلیتوں کو مختلف سرکاری محکموں میں ملازمتیں ملی ہیں۔ اقلیتی امور کی ویب سائٹ پر 2013ء تک کاہی ڈاٹا ہے۔یعنی مودی سرکار کے2014ء میں اقتدار میں آنے کے بعدسے اب تک جب اقلیتوں کیلئے کچھ ہواہی نہیں ہے تو اس کا ڈاٹا وزارت اقلیتی امور کی ویب پر نظر کیسے آئے گا۔مطلب واضح ہے کہ چار برس کے بعد این ڈی سرکار کے ہاتھ میں دنیاکودکھانے کیلئے نفرت پھیلانے والے منصوبوں کے سوا کو ئی اچھی چیز ہے ہی نہیں۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

میٹرو کی پنک لائن کے نئے سیکشن کا افتتاح روزانہ سفر کرنے والے مسافروں کی تعداد بڑھ کر39لاکھ –

نئی دہلی:( یواین آئی) شہری امور کے مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری اور دہلی کے …

جواب دیں

%d bloggers like this: