سرورق / خبریں / مودی،عوام سے کئے گئے وعدے نباہنے میں ناکام اپوزیشن پارٹیاں عدم اعتماد تحریک پیش کریں گی:کانگریس

مودی،عوام سے کئے گئے وعدے نباہنے میں ناکام اپوزیشن پارٹیاں عدم اعتماد تحریک پیش کریں گی:کانگریس

نئی دہلی۔ (یواین آئی)کانگریس نے کہاہے کہ اپوزیشن پارٹیاں چہارشنبہ سے شروع ہورہے پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس میں مودی حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کریں گی اور اسکے تعلق سے تقریباً ایک درجن پارٹیوں میں اتفاق پیداہوگیاہے اور کچھ دیگر پارٹیوں کو ساتھ لانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔راجیہ سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر غلام نبی آزاد اور لوک سبھا میں کانگریس کے لیڈر ملکاارجن کھرگے نے منگل کو یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں منعقدہ پریس کانفرنس میں کہاکہ اپوزیشن پارٹیوں کے ساتھ پیر کے روز ہوئی میٹنگ میں اس بارے میں تفصیلی بات چیت ہوئی ہے اور12پارٹیوں نے عدم اعتماد کی تحریک لانے پر اتفاق کیاہے ۔دیگر اپوزیشن پارٹیوں کو بھی اس کے لئے راضی کرنے کے لئے بات چیت کی جائیگی اور انھیں سمجھانے کی کوشش کی جائیگی۔کھرگے نے کہاکہ حکومت کی طرف سے آندھرپردیش کو خصوصی ریاست کا درجہ دینے کی یقین دہانی کرائی گئی تھی اور بی جے پی نے بھی 2014کے انتخابی منشور میں یہ وعدہ کیاتھا لیکن پچھلے چار سال کے دوران آندھرپردیش کے لوگوں سے کئے گئے وعدے پر مودی حکومت نے کوئی توجہ نہیں دی ۔انھوں نے کہاکہ بی جے پی حکومت نے عوام سے جو وعدے کئے تھے انھیں پوراکرنے میں وہ ناکام رہی ہے ۔اس نے ہر سال دوکروڑ لوگوں کو روزگار دینے ،کسانوں کو انکی فصل پر لاگت کی ڈیڑھ گنا کم ازکم امدادی قیمت دینے ،کالادھن واپس لانے ،روپئے کو مضبو ط کرنے جیسے کئی وعدے کئے تھے لیکن اس نے ان وعدوں کو پورانہیں کیاہے اور اب لوگوں کی توجہ ہٹانے کے لئے منافرت پھیلانے کی پالیسی اختیار کی جارہی ہے ۔ کانگریس لیڈر نے کہاکہ مودی حکومت سبھی محاذ پر ناکام رہی ہے اور عدم اعتماد کی تحریک پر بحث کے دوران ان سبھی موضوعات پر پارلیمنٹ میں تفصیلی بحث کی جائیگی۔
اجلاس میں موجود رہنے اراکین کو بی جے پی کی تاکید:دریں اثناء بھارتیہ جنتا پارٹی نے اپوزیشن کے سخت تیور کے پیش نظر پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے دوران دونوں ایوانوں میں پارٹی کے بیشتر اراکین کے موجود رہنے کی حکمت عملی طے کی ہے ۔پارٹی ذرائع نے آج بتایا کہ بی جے پی پارلیمانی پارٹی کی ایکزیکیوٹیو کی یہاں ہوئی میٹنگ میں اس بات پر زور دیا گیا کہ اجلاس کے دوران تمام اراکین ایوان میں موجود رہیں۔ بیشتر اپوزیشن جماعتیں اجلاس کے دوران مختلف امور پر متحد رہنے کا اشارے دے چکی ہیں۔ اسی کے پیش نظر بی جے پی نے یہ حکمت عملی بنائی ہے کہ کسی بھی معاملہ پر اپوزیشن کو سخت جواب دیا جائے اور اس کے لئے پارٹی کے بیشتر اراکین کی موجودگی ضروری ہے ۔ایکزیکیوٹیو کی میٹنگ میں بی جے پی کے صدر امیت شاہ اور وزیراعظم نریندر مودی بھی موجود تھے لیکن ذرائع کے مطابق دونوں لیڈروں نے کوئی تقریر نہیں کی۔ پارٹی کے دیگر لیڈروں نے اس بات پر زور دیاکہ اپوزیشن جماعتوں کے ذریعہ اٹھائے جانے والے امور پر پارٹی کی طرف سے تمام حقائق کے ساتھ جواب دیاجائے گا۔اپوزیشن نے مودی حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لانے کے اشارے دے ئے ہیں۔ اس کے علاوہ بے روزگاری، کسانوں کے مسائل، ملازمت میں ریزرویشن، پیٹ پیٹ کر قتل کے واقعات اور کچھ دیگر تازہ امور پر حکومت کو گھیرنے کی بات کہہ چکی ہے ۔مانسون اجلاس کل سے شروع ہوگا اور 10 اگست تک چلے گا۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

کروناندھی کی حالت بگڑی –

چنئی (ایجنسیز) تملناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کروناندھی …

جواب دیں