سرورق / خبریں / مظفرنگر فساد متاثرین کو اپنے گھر میں عید منانے کی امید –

مظفرنگر فساد متاثرین کو اپنے گھر میں عید منانے کی امید –

مظفرنگر: 2013 کے مظفرنگر فساد کے بعد اپنے گھر بار چھوڑ کر مہاجر بن چکے لوگوں کے لئے کیرانہ ضمنی انتخاب امید کی کرن بن کر آیا ہے۔ فساد متاثرین کو اب امید ہو چلی ہے کہ شاید اب وہ اپنے اس گھر پر عید منا سکتے ہیں جسے فساد کی وجہ سے وہ چھوڑنے پر مجبور ہو گئے تھے۔ کیرانہ ضمنی انتخاب میں اتحاد کی تبسم حسن کی جیت ہوئی ہے اور جاٹوں اور مسلمانوں کے تعلقات بہتر ہوئے ہیں۔محمد ندیم کو اپنے گاؤں کی عید آج بھی یاد آتی ہے۔ کٹبا گاؤں کی جس مسجد میں وہ عید کی نماز ادا کرتے تھے وہ اب ویران پڑی ہے۔ ندیم نے کہا، ’’عید کا دن بہت مزے میں گزرتا تھا۔ میرا دوسست سچن پورے دن میرے ساتھ رہتا تھا۔ گاؤں کے جاٹ طبقہ سے وابستہ کئی لوگ ہمارے گھر آتے تھے اور امی مجھے شیر بانٹنے کے لئے پڑوس میں بھیجتی تھیں۔‘‘ ندیم نے مزید کہا، ’’جاٹ لڑکے مجھ سے پوچھتے تھے کہ ندیم تیری عید کب ہے! اب ان سے بات ہوگی تو میں یہی کہوں گا کہ جو عید تم نے ہم سے چھین لی تھی وہ واپس لوٹا دو، کیوں کہ اب عید میں وہ بات نہیں رہی۔‘‘حال ہی میں کیرانہ سے رکن پارلیمنٹ منتخب ہوئی تبسم حسن کے جیتنے کے بعد دئے گئے بیانات سے دونوں طبقات کے تعلقات بہتر ہوئے ہیں۔ ان کے صاحبزادے اور رکن اسمبلی ناہید منور حسن کے مطابق صرف عید ہی نہیں بلکہ دیوالی بھی جاٹ اور مسلمان مل کر منائیں گے۔ ان کی یہ بات 3 مہینے پہلے چرتھاول میں پہنچے آر ایل ڈی کے سربراہ اجیت سنگھ کے خواب کو پورا کرتی نظر آ رہی ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ ’’میں چاہتا ہوں کہ جاٹ اور مسلمان عید اور دیوالی مل کر منائیں۔ اب عید آ گئی ہے اور عید کا مطلب ہی خوشی ہوتا ہے۔‘‘فساد 4 سال پہلے ہوا تھا اور سینکڑوں گاؤں سے متاثرین نے ہجرت کی تھی۔ درجنوں ایسے گاؤں ہیں جہاں ابھی تک مسلمان واپس نہیں آئے ہیں۔ ان گاؤں میں مساجد ویران ہیں۔ عید پر وہ خوشی نظر نہیں آتی جو پہلے ہوتی تھی۔ ان گاؤں میں سے ایک درجن سے زیادہ کیرانہ لوک سبھا حلقہ انتخاب میں آتے ہیں جہاں حال ہی میں جاٹوں نے یکطرفہ طور پر ووٹنگ کر کے مسلم امیدوار تبسم حسن کو کامیاب بنایاہے۔ اسی لوک سبھا کے گاؤں لانک، بہاوڑی اور لساڑھ میں بڑے پیمانے پر تشدد کے واقعات پیش آئے تھے۔ ان گاؤں کے جاٹوں نے تبسم حسن کو ووٹ دیا ہے۔کیرانہ لوک سبھا سیٹ کے نتیجہ نے جاٹ اور مسلم طبقہ کے بیچ تعلقات کو بہتر کرنے میں تعاون دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں کی ان گاؤں میں واپسی کی امید پیدا ہو گئی ہے۔ سابق راجیہ سبھا ممبر ہریندر ملک کہتے ہیں،’’یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ متاثرین کو ان گاؤں میں لے کر جائیں۔ مسجدوں کو آباد کریں اور عید اور دیوالی مل کر منائیں گے۔‘‘حالانکہ گاؤں اور قصبوں سے شہروں میں آکر آباد ہو چکے لوگ اب کاروباری وجوہات کے سبب واپس نہیں جانا چاہتے لیکن جاٹوں کو اپنے یہاں بلانا چاہتے ہیں اور عید پر ان کے گھر جانے کی خواہش رکھتے ہیں۔فساد کے بعد سے کیرانہ میں مقیم میر حسن (47) کہتے ہیں، ’’ہمیں واپس جانے میں کوئی اعتراض نہیں لیکن بہت مشکل سے دوبارہ کاروبار کھڑا کیا ہے۔ جاٹوں کے لئے میرے دل میں میل نہیں اور میں عید پر انہیں اپنے یہاں آنے کی دعوت دوں گا۔‘‘ مسجدوں کے سوال پر میر حسن خاموش ہو جاتے ہیں۔ ایک درجن سے زیادہ گاؤں میں مسجدوں پر تالا لگا ہے۔فساد متاثرین کے لئے کام کرنے والی تنظیم پیغام انسانیت کے سربراہ حاجی آصف راہی کہتے ہیں، ’’مسلمانوں کو اب ان گاؤں میں واپس چلے جانا چاہئے۔ کیوں کہ جاٹوں کو ندامت کا احساس ہے۔ انہیں احساس ہے کہ جو کچھ ہوا تھا وہ نہیں ہونا چاہئے تھا۔ بی جے پی رہنماؤں نے سازش کر کے امن خراب کیا ہے۔ ‘‘ آصف راہی مزید کہتے ہیں، ’’پیغام انسانیت ایسے گاؤں میں عید ملن پروگرام کا انعقاد کر رہی ہے۔ مسجدوں میں پھر سے اذان پڑھی جاتی ہے تو اس سے اچھی اور کیا بات ہو سکتی ہے۔‘‘کوال سے ملحق پموڑا گاؤں کے سابق پردھان محمد سجاد کہتے ہیں، ’’فساد کے متاثرین گاؤں کی مسجدوں اور عید کو کبھی نہیں بھول سکتے۔ 2013 میں فساد کے بعد کیمپ میں عید منائی گئی تھی اور ہر طرف ماتم تھا۔ شیر نہیں بنی تھی اور بچوں نے کپڑے بھی نہیں پہنے تھے۔ سجاد مزید کہتے ہیں ’’لیکن اب حالات تبدیل ہو چکے ہیں، بلکہ یوں کہیں کہ جن حالات میں گاؤں میں رہتے تھے ان سے بھی بہتر حالات اب ہیں۔ اب جاٹ ہی اس کی پہل کریں گے۔ کوشش تو وہ پہلے بھی کر رہے تھے لیکن اب اعتماد میں اضافہ ہوا ہے۔‘‘کیرانہ انتخاب سے پہلے بھی جاٹ۔مسلم اتحاد کی کوشش کی جا رہی تھی لیکن چناوی نتیجہ نے اس کو فروغ دیا۔بھارتیہ کسان مزدور کے صدر غلام محمد جولا گزشتہ دنوں سے جاٹ۔مسلم اتحاد کے لئے کوشش کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں، ’’زیادہ تر لوگ واپس چلے گئے ہیں۔ کچھ بچے ہوئے ہیں جو گاؤں واپس نہیں جانا چاہتے۔ ‘‘غلام محمد کہتے ہیں کہ اگر مستقل طور پر یہ لوگ واپس نہیں جانا چاہتے تو کوئی بات نہیں عید منانے ہی چلے جائیں، جس طرح شہر کے لوگ گاؤں عید منانے آتے ہیں۔ ویسی ضرورت اس بات کی ہے کہ دونوں طبقوں کے بیچ اگر کوئی فرق ابھی تک موجود ہو تو اسے دور کیا جائے۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

کروناندھی کی حالت بگڑی –

چنئی (ایجنسیز) تملناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کروناندھی …

جواب دیں

%d bloggers like this: