سرورق / خبریں / مسلم خواتین کا مسئلہ تین طلاق نہیں بلکہ تعلیم، روزگاراورتحفظ ہے: ڈاکٹر اسماء زہرہ

مسلم خواتین کا مسئلہ تین طلاق نہیں بلکہ تعلیم، روزگاراورتحفظ ہے: ڈاکٹر اسماء زہرہ

جے پور، تین طلاق مسلم خواتین کا مسئلہ ہونے کے نظریہ کو مسترد کرتے ہوئے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی خواتین ونگ کی صدر ڈاکٹر اسماء زہرہ نے کہاکہ مسلم خواتین کا مسئلہ تین طلاق نہیں بلکہ تعلیم، روزگاراورتحفظ ہے۔ یہ بات انہوں نے آج یہاں جے پور میں تین طلاق بل کے خلاف مسلم خواتین کی ریلی سے یک روز قبل پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
انہوں نے کہاکہ ہمارے یہاں شادی بیا ہ جنم جنم کا بندھن نہیں ہے بلکہ سول کنٹریکٹ ہے، کوئی بھی مسلم خاتون شوہر سے الگ ہوسکتی ہے اور دوسری شادی کرسکتی ہے۔ انہوں نے دعوی کیا کہ حکومت تین طلاق بل کے ذریعہ مسلم خواتین پر ظلم کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کون طے کرے گا کہ مرد نے تین طلاق دی ہے یا ایک طلاق ۔ جب تک عدالت تین طلاق کے بارے میں فیصلہ کرے گی اس وقت تک عورت کی زندگی برباد ہوچکی ہوگی۔
انہوں نے تین طلاق بل کو خامیوں سے پر قرار دیتے ہوئے کہاکہ کسی بھی ماہر قانون نے اسے ا چھا نہیں کہا ہے بلکہ اسے تضادات سے بھرپور قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ اس بل کو تاریخی بل اور مسلم خواتین کو بااختیار بنانے والا بل قرار دیا جارہا ہے جب کہ صحیح صورت حال یہ ہے کہ جب مرد تین سال کے لئے جیل چلا جائے گا تو خواتین بااختیار کیسے ہوجائیں گی اور جیل جانے والا شوہر اور اس کے خاندان والے عورت کو قبول کریں گے۔
ڈاکٹراسماء زہرہ نے کہاکہ تین سو خواتین کے کہنے پر حکومت تین طلاق بل لے آئی جب کہ اس کے خلاف کروڑوں خواتین ہیں مگر ان کی بات نہیں سنی جارہی ہے۔ انہوں نے دعوی کیا کہ اس وقت دو کروڑ 80لاکھ مسلم خواتین اس بل کے خلاف دستخط کرچکی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ لوک سبھا میں اس بل پر بھرپور طریقے سے بحث نہیں ہوئی اورنہ ہی پیش کی گئی 17ترمیموں کو منظور کیا گیالہذا راجیہ سبھا میں اس بل کو ہرگز پاس نہیں کیا جاناچاہئے۔
مسلم پرسنل لاء بورد کے سکریٹری اور مسلم پرسنل سوشل میڈیا کے انچارج مولانا عمرین رحمانی نے تین طلاق بل کی خامیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ یہ بل شریعت سے ٹکرانے والااور آئین کے خلاف اور مسلم مردوں کو دشواری میں ڈالنے والا ہے۔ انہوں نے کہاکہ اس بل میں جو التزامات کئے گئے ہیں اس سے طلاق کو کالعدم قرار دیا گیا ہے لیکن تین سال کی سزا اور جرمانہ کا نظم ہے۔ شق تین کے تحت جس میں تین طلاق کو غیر قانونی قرار دیا گیا ہے مگر اس میں سزا کا التزام ہے۔
انہوں نے کہاکہ حکومت نے اس بل کو پیش کرنے سے پہلے مسلمانوں سے کوئی مشورہ نہیں کیاہے جب کہ دنیا کے کسی ملک میں جب کسی طبقے کے لئے قانون سازی کی جاتی ہے تو اس سے مشورہ کیا جاتا ہے۔ مگر حکومت نے اس سلسلے میں کوئی مشورہ نہیں کیا اور جب مسلم پرسنل لاء بورڈ کے صدر مولانا رابع حسنی ندوی نے اس سلسلے میں وزیر اعظم نریندر مودی کو خط اس سلسلے میں خط لکھ کر خامیوں کی نشاندہی کی۔ لیکن ہاں اب تک کوئی جوا ب موصول نہیں ہوا. ۔
مسلم پرسنل لا بورڈ کی رکن اور سماجی کارکن فاطمہ مظفر مسلمانوں میں طلاق کی زیادہ شرح سے انکار کرتے ہوئے کہاکہ کسی بھی مذہب کے مقابلے میں مسلمانوں کی طلاق کی شرح بہت کم ہے ۔ انہوں نے تمل ناڈو کی مثال پیش کرتے ہوئے کہاکہ وہاں طلاق کا مسئلہ شاذ و نادر ہی پیش آتاہے اور مسلمان خوشگوار ازدواجی زندگی گزارتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ مسلمانوں کا مسئلہ جہالت اور پسماندگی ہے اور انہیں تعلیم یافتہ اور بااختیار بنانے کی ضرورت ہے نہ تین طلاق بل کی۔
انہوں نے حکومت پر الزام عائد کیا کہ تین طلاق بل لاکر حکومت نے جموری تانے بانے کوبرباد کرنے کی کوشش کی ہے جب کہ جمہوریت، متنوع معاشرہ اور کثیر رنگارنگی ہندوستان کی شناخت ہے۔
مسلم پرسنل لا بورڈ کی رکن جے پور مسلم خواتین ریلی کی کنوینر یاسمین فاروقی نے ہمیں طلاق پر کسی قانون کی ضرورت نہیں ہے۔ الگ ہونے کا ہتھیار ہمارے پاس پہلے سے موجود ہے۔ انہوں نے تین طلاق بل کو مسلمانوں کے خلاف سازش قرار دیتے ہوئے کہاکہ آئین میں تبدیلی کی کوشش کی جارہی ہے اور یہ بل آئین کے خلاف ہے۔ انہوں نے الزام لگا یاکہ مسلمانوں کو کمزور کڑی سمجھتے ہوئے حکومت تین طلاق بل پیش کیا ہے جب کہ لاکھوں خواتین کہہ رہ ہیںیہ بل مسلم خواتین کے خلاف ہے۔
انہوں نے دعوی کیا کہ حکومت ملک کو ایک رنگ میں رنگناچاہ رہی ہے جس سے اس کی تنوع ختم ہوجائے۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

کروناندھی کی حالت بگڑی –

چنئی (ایجنسیز) تملناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کروناندھی …

جواب دیں

%d bloggers like this: