سرورق / بین اقوامی / مسجد اقصیٰ میں اجتماعی افطار قبلہ اول سے تعلق کا ذریعہ –

مسجد اقصیٰ میں اجتماعی افطار قبلہ اول سے تعلق کا ذریعہ –

مقبوضہ بیت المقدس: بیت المقدس کی ایک 63 سالہ روزہ دار عفاف قطنانی اپنے بچوں کے ہمراہ افطاری کا سامان لئے مسجد اقصیٰ کے باب السلسلہ کے سامنے پہنچیں تو صہیونی فوجیوں نے انہیں روک لیا۔ قابض فوج اور پولیس نے قطنانی کے سامان کی تلاشی لینے کے بعد ان کے ہاتھ میں اٹھائے برتن میں موجود کھانا گرانے کا حکم دیا تاہم طویل بحث کے بعد قطنانی اور اس کے اقارب اپنے اپنے کھانے لئے مسجد اقصیٰ میں داخل ہوگئے۔مسجد اقصیٰ میں قبۃالصخرہ کے گیلری بیت المقدس میں ان فلسطینی خاندانوں کے اجتماعی افطارکا مرکز رہتی ہے جو ماہ صیام کے تمام ایام بالخصوص رمضان کے آخری عشرے میں اپنے گھروں کے بجائے مسجد میں اجتماعی افطاری کو ترجیح دیتے ہیں۔ مسجد اقصیٰ کے اطراف میں واقع قصبوں وادی الجوز، سلوان، حارہ السعدیہ، راس العامود اور جبل المکبر کے فلسطینی اجتماعی طورپر ماہ صیام کے دنوں میں افطاری مسجد اقصیٰ میں کرتے ہیں۔مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق مسجد اقصیٰ میں اجتماعی افطار اتنا آسان بھی نہیں کیونکہ صہیونی فوج اور پولیس اہلکار مسجد میں افطاری کے لئے آنے والے روزہ داروں کو طرح طرح سے ہراساں کرتے ہیں۔ کئی بار ان کے پکے کھانے اور دیگر افطاری کے سامان ضبط کرلئے جاتے یا انہیں زمین پر گرا دیا جاتا ہے۔ مگر فلسطینی شہری صہیونیوں کی اس ہٹ دھرمی کے باوجود مسجد اقصیٰ میں افطاری کو ایک چیلنج کے طورپر لیتے ہیں اور تمام تر رکاوٹوں کے باوجود مسجد ہی میں روزہ افطار کرنے کو پہلی ترجیح دیتے ہیں۔
شاندار منظر:القدس کے روزہ دار خاندان کی شکل میں مسجد اقصیٰ میں اپنے افطاری کے سامان کے ساتھ داخل ہوتے اور اپنے اپنے حلقے بنا کر روزہ افطاری کے لئے بیٹھ جاتے ہیں۔ یہ ایک انتہائی شاندار منظر ہوتا ہے جس میں ایک ہی وقت میں فلسطینیوں کی عظمت، وقت کی پابندی اور ثابت قدمی کی جھلک دیکھی جاسکتی ہے۔فلسطینی خاندان مسجد میں داخل ہونے کے بعد اپنے اپنے مخصوص مقامات پر دستر خوان بچھاتے اور ان پر بیٹھ جاتے ہیں۔ گرما گرم کھانے دستر خوان پر رکھے جاتے ہیں۔ بچے، بوڑھے، عورتیں اور مرد سب اللہ کے اس عظیم گھر میں روزہ افطار کرنے کو اپنے لئے ابدی سعادت خیال کرتے ہیں۔مسجد کے شمالی دروازے کے قریب قایتبائی سبیل ہے جہاں ٹھنڈہ پانی روزہ داروں کی افطاری کے سامان کا اہم جزو ہے۔ وہاں پرایک خاندان بیٹھا ہے جس کے افراد کی تعداد تیس سے زائد ہے۔خاندان کی ایک بڑی عورت 72 سالہ ام محمد سلوان سے اپنے خاندان کے ہمراہ وہاں آئی ہیں۔ اس کے چار شادہ شدہ بیٹے ہیں اور وہ بیٹے اپنے تمام بچوں کے ہمراہ دستر خوان پر جمع ہیں۔مرکزاطلاعات فلسطین سے بات کرتے ہوئے امر محمد نے بتایا کہ اس کے خاندان کے افراد کی تعداد 32 ہے اور وہ گھر میں کھانا تیارکرنے کیبعد برتنوں میں ڈال کر وہاں لاتے ہیں۔
قبلہ اول سے ربط کا چیلنج:جبل المکبر سے مسجد اقصیٰ میں افطاری کے لئے آئے 66 سالہ الحاج حسن ابو جبل جو اپنے خاندان کے ہمراہ ایک چٹائی پر بیٹھے ہیں کا کہنا ہے کہ مسجد اقصیٰ میں افطاری ایک چیلنج اور وہ اس چیلنج کو قبلہ اول سے تعلق کے طورپر قبول کرتے ہیں۔ان کے صاحبزادے جمیل نے ہاتھ میں بھارتی کھجور سے تیار کردہ ایک مشروب اٹھا رکھا ہے اور ساتھ ہی وہ پلاسٹک کے کپ روزہ داروں کے سامنے رکھ رہے ہیں۔مرکزاطلاعات فلسطین کے نامہ نگار سے بات کرتے ہوئے جمیل نے کہا کہ مسجد اقصیٰ میں اجتماعی افطار قبلہ اول کی نصرت کا ایک ذریعہ ہے۔ ہم مسجد اقصیٰ کے ساتھ اپنے تعلق کو ثابت قدمی کے ساتھ آگے بڑھانے کے لئے یہاں پر روزہ افطار کرتے ہیں۔ابو جبل کا کہنا ہے کہ مسجد اقصیٰ میں افطاری ایک انفرادی آئیڈیا تھا مگر جب ہم نے یہ آئیڈیا دیگر لوگوں کے ساتھ شیئرکیا تو قبلہ اول کے پڑوسیوں کو یہ بہت پسند آیا۔ ہم نے افطاری کو بھی قبلہ اول سے تعلق مربوط کرنے کا ایک سنہری موقع جانا۔ان کا کہنا تھا کہ بیت المقدس کے فلسطینی باشندے معرکہ الاقصیٰ کا ہراول دستہ ہیں۔ قبلہ اول کے حوالے سے کئی بھی ذمہ داری سب سے پہلے انہیں ادا کرنا ہوتی ہے۔ انہی کو اسرائیلی پولیس کے لگائے الیکٹرنک دروازوں سے گذرنا اور روز مرہ کی بنیاد پر قبلہ اول کو یہودیانے کی سازشوں کا مقابلہ کرنا ہوتا ہے۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

مراٹھواڑہ میں زوردار بارش –

اورنگ آباد : مراٹھواڑہ میں اورنگ آباد ، عثمان آباد،لاتور ،ہنگولی ، پربھنی اور ناندیڑ …

جواب دیں

%d bloggers like this: