سرورق / خبریں / مرکز کی مداخلت سے کرناٹک میں ’’ناٹک‘‘ جاری اپوزیشن کی مخالفت کے باوجود وزیراعلیٰ کی حیثیت سے ایڈی یورپا کی حلف برداری

مرکز کی مداخلت سے کرناٹک میں ’’ناٹک‘‘ جاری اپوزیشن کی مخالفت کے باوجود وزیراعلیٰ کی حیثیت سے ایڈی یورپا کی حلف برداری

بنگلورو:(منیراحمد آزاد۔چیف رپورٹر) بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ریاستی صدر بی ایس ایڈی یورپا نے آج کرناٹک کے 25ویں وزیراعلیٰ کی حیثیت سے عہدہ کی رازداری کا حلف لے لیا۔ ایڈی یورپا کابینہ کے دیگر ارکان کی حلف برداری کا پروگرام بعد میں ہوگا جس کا بی جے پی نے اعلان کیا ہے۔ ایڈی یورپا نے تیسری مرتبہ کرناٹک کے وزیراعلیٰ کا عہدہ سنبھالاہے۔ کرناٹک میں لنگایت طبقہ کے قدآور لیڈر ایڈی یورپا آٹھویں مرتبہ شیموگہ ضلع کے شکاری پور اسمبلی حلقہ سے منتخب ہوئے ہیں۔ وہ 2014ء میں شیموگہ لوک سبھا حلقہ سے پارلیمان کے لئے منتخب ہوئے تھے۔ 2007ء میں وہ پہلی بار سات دنوں کے لئے کرناٹک کے وزیراعلیٰ بنے تھے اور 30؍مئی 2008ء کو دوسری مرتبہ وزیراعلیٰ کا عہدہ سنبھالا تھا۔ لیکن ماہ جولائی 2011ء میں بدعنوانی کے الزامات کی وجہ سے انہیں وزیراعلیٰ کے عہدے سے استعفیٰ دینا پڑا تھا۔ یہ حلف برداری تقریب عجلت میں منعقد کی گئی تھی اس لئے وزیراعظم نریندرمودی اور بی جے پی کے قومی صدر امیت شاہ اس تقریب میں شامل نہ ہوسکے۔
سپریم کورٹ سے رجوع: قابل غور یہ ہے کہ مسٹر ایڈی یورپا کو کل رات دیر گئے ریاستی گورنر وجوبھائی والا نے حکومت بنانے کے لئے مدعوکیاتھا۔ کل ہی گورنر کے اس اقدام کے خلاف کانگریس اور جے ڈی ایس نے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔ اس عرضی پر کل رات سوا دوبجے سے صبح ساڑھے پانچ بجے تک جاری سماعت کے بعد جسٹس ارجن کمار سیکری، جسٹس ایس اے بوب ڈے اور جسٹس اشوک بھوشن پر مشتمل تین رکنی بنچ نے کہاتھاکہ وہ کرناٹک کے گورنر کے حکم پر روک لگانے کے حق میں نہیں ہیں اور مسٹر ایڈی یورپا کی حلف برداری تقریب پر روک نہیں لگائی جاسکتی۔ عدالت نے تاہم یہ واضح کیاکہ ایڈی یورپا کا وزیراعلیٰ کے عہدہ پر بنے رہنا اس مقدمہ کے حتمی فیصلہ پر منحصر کرے گا۔ عدالت نے اس معاملہ کی اگلی سماعت کے لئے بروز جمعہ ساڑھے 10؍بجے کا وقت مقرر کیا ہے۔ ساتھ ہی بی جے پی کو نوٹس جاری کرکے ان دو مکتوب کی نقل عدالت کے سامنے پیش کرنے کوکہاہے جو اس کی طرف سے گورنر کو بھیجے گئے تھے۔ 224؍رکنی اسمبلی کے لئے 222؍حلقوں میں انتخابات ہوئے تھے۔ دوحلقوں میں انتخابات ملتوی کردیئے گئے تھے۔ ان انتخابات میں بی جے پی کو 104، کانگریس کو78، جے ڈی ایس کو 38 اور آزاد کو دو نشستوں پر فتح حاصل ہوئی ہے۔ بی جے پی سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری ہے۔ اس لئے گورنر نے بی جے پی کو حکومت بنانے کے لئے مدعو کیا اور اکثریت ثابت کرنے کے لئے 15؍دنوں کا وقت دیاہے۔
تاریخ میں دوسری مرتبہ آدھی رات کو سپریم کورٹ کھلا
آزاد ہندوستان کی تاریخ میں دوسری مرتبہ آدھی راست کو سپریم کورٹ کھلا۔ اس معاملہ کی سماعت راست کے 1:45بجے شروع ہوئی۔ معاملہ میں مرکزی حکومت کی جانب سے ایڈیشنل سالسٹر جنرل تشار مہتا، بی جے پی کی جانب سے سابق اٹارنی جنرل مکل روہتگی اور کانگریس کی جانب سے ابھیشک متوسنگھوی عدالت میں پیش ہوئے۔ اس سے پہلے 2015ء میں ممبئی بم دھماکہ معاملہ کے ملزم یعقوب میمن کو پھانسی کے لئے سپریم کورٹ 3؍بجے کھولا گیاتھا۔ اس دوران 90؍منٹ تک سماعت ہوئی تھی جس کے بعد سپریم کورٹ نے یعقوب کی پھانسی کی اپیل رد کردی تھی۔ اسے صبح 7؍بجے ناگپور کی سنٹرل جیل میں پھانسی کی سزا دی گئی تھی۔ ویسے ایک سیاسی معاملہ کو لے کر یہ پہلی مرتبہ ہواہے کہ سپریم کورٹ نے آدھی رات میں کارروائی کی۔
دستور کی مخالفت۔سدارامیا
سینئر کانگریس لیڈر و سابق وزیراعلیٰ سدارامیا نے آج کہاکہ بی جے پی دستور کی مخالفت کررہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ یہ معاملہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے۔ ہم عوام کو بتائیں گے کہ بی جے پی دستور کے خلاف جارہی ہے۔اریاستی گورنر پر تنقید کرتے ہوئے کانگریس نے کہاکہ ریاست میں حکومت سازی کے لئے ایڈی یورپا کو مدعو کرکے گورنر نے اپنے اس باوقار دفتر کو شرمسار کردیا۔
کانگریس اور جے ڈی ایس کا دھرنا: اکثریت نہ ہونے کے باوجود ایڈی یورپا کو گورنر کی جانب سے حلف دلائے جانے کے خلاف جے ڈی ایس اورکانگریس کے ارکان اسمبلی نے راج بھون کے باہر احتجاج کیا۔اس احتجاج میں کرناٹک کے سبکدوش وزیراعلیٰ سدارامیا کے ساتھ ساتھ کئی سینئر لیڈروں نے حصہ لیا۔اس موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے سدارامیا نے کہا کہ کانگریس اور جے ڈی ایس کے تمام 118؍ ارکان اسمبلی یہاں ہیں ۔انہوں نے گورنر کے رویہ پر نکتہ چینی کی ۔اسی دورا ن اس مسئلہ پر ودھان سودھامیں گاندھی جی کے مجسمہ کے سامنے کانگریس نے دھرنا دیا۔اس دھرنے میں غلام نبی آزاد ،اشوک کہلوٹ ،ملک ارجن کھرگے ،کے سی وینوگوپال کے ساتھ ساتھ سابق وزیراعظم دیوے گوڑا نے شرکت کی۔ کانگریس اور جے ڈی ایس کے وزیراعلیٰ کے مشترکہ امیدوار کماراسوامی نے اسی دوران کہا کہ مودی حکومت مرکزی حکومت کے اداروں کا غلط استعمال کر رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ وہ جانتے ہیں کہ ارکان اسمبلی کو دھمکایا جارہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ مرکزی حکومت انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ کا استعمال کر رہی ہے۔ کمارسوامی نے کہا کہ وہ ان کے والد سے خواہش کریں گے کہ وہ تمام علاقائی جماعتوں سے بات کریں اور انہیں یہ بتائیں کہ کس طرح بی جے پی جمہوری نظام کو برباد کر رہی ہے۔انہوں نے کہاکہ ہم ملک کے مفاد ات کے تحفظ کے لئے ایک ساتھ آگے آئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ہمارا منصوبہ ہمارے ارکان اسمبلی کا تحفظ ہے ۔بی جے پی اور ان کے وزرا ہمارے ارکان اسمبلی کو خریدنے کی کوشش کر رہے ہیں۔عوام کو چاہئے کہ وہ مرکزی حکومت کے رویہ کے بارے میں سمجھے۔ بی جے پی کے پاس اکثریت نہیں ہے۔گورنر کا رویہ نامناسب ہے ۔گورنر نے اپنے دفتر کا غلط استعمال کیا۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

کروناندھی کی حالت بگڑی –

چنئی (ایجنسیز) تملناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کروناندھی …

جواب دیں

%d bloggers like this: