سرورق / خبریں / مرکزی حکومت کا کشمیر میں فوجی آپریشنز کو ایک ماہ تک معطل رکھنے کا اعلان

مرکزی حکومت کا کشمیر میں فوجی آپریشنز کو ایک ماہ تک معطل رکھنے کا اعلان

نئی دہلی ؍سری نگر ، مرکزی حکومت نے ایک غیرمعمولی اقدام اٹھاتے ہوئے وادی کشمیر میں ماہ رمضان کے دوران فوجی آپریشنزکو معطل رکھنے کا اعلان کردیا ہے۔ تاہم جنگجوؤں کی طرف سے حملے کی صورت میں سیکورٹی فورسز کو جوابی کاروائی کا حق دیا گیا ہے۔ اس غیرمعمولی اقدام کا اعلان بدھ کو سہ پہر کے وقت مرکزی وزارت داخلہ کے آفیشل ٹویٹر اکاؤنٹ پر کیا گیا۔ وزارت داخلہ کے اس اعلان کے ساتھ ہی وادی میں جنگجوؤں کے خلاف جاری آپریشن آل آوٹ اور کارڈن اینڈ سرچ آپریشنز پر بریک لگ گئی ہے۔
واضح رہے کہ محترمہ مفتی نے ایک ہفتہ قبل 9 مئی کو سری نگر کے ایس کے آئی سی سی میں بلائی گئی کُل جماعتی اجلاس کی صدارت کرنے کے بعد کہا تھا کہ ماہ رمضان اور سالانہ امرناتھ یاترا کے پیش نظر مرکزی سرکار سے وادی کشمیر میں یکطرفہ فائر بندی کا مطالبہ کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا تھا کہ جنگجو مخالف آپریشنوں سے عام لوگوں کو تکالیف اور پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ وزارت داخلہ کے آفیشل ٹویٹر اکاؤنٹ پر تین سلسلہ وار ٹویٹس میں کہا گیا ’مرکزی سرکار نے سیکورٹی فورسز سے کہا ہے کہ وہ رمضان المبارک کے دوران جموں وکشمیر میں آپریشنز نہ چلائیں۔ یہ فیصلہ اس لئے اٹھایا گیا ہے تاکہ (کشمیری) مسلمان رمضان المبارک کے روزے ایک پرامن ماحول میں رکھ سکیں۔
وزیر داخلہ شری راجناتھ سنگھ نے جموں وکشمیر کی وزیر اعلیٰ کو فیصلے سے آگاہ کیا ہے‘۔ تاہم حملے کی صورت میں سیکورٹی فورسز کو جوابی کاروائی کا حق دیا گیا ہے۔
ٹویٹ میں کہا گیا ’حملے یا اگر معصوم لوگوں کی جانوں کو بچانا مقصود ہو تو سیکورٹی فورسز جوابی کاروائی کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔ سرکار کو توقع ہے کہ ہر ایک اس پہل میں اپنا تعاون کرے گا تاکہ مسلمان بھائی اور بہنیں رمضان کے روزے بغیر کسی تکلیف کے رکھ سکیں‘۔
وزارت داخلہ نے کہا کہ اسلام کے نام پر بیوقوفانہ تشدد اور دہشت گردی کے مرتکب ہونے والی طاقتوں کو الگ تھلگ کرنے کی ضرورت ہے۔ ٹویٹ میں کہا گیا ’ایسی طاقتوں کو الگ تھلگ کرنے کی ضرورت ہے جو بیوقوفانہ تشدد اور دہشت گردی کا مرتکب ہوکر اسلام کا نام بدنام کرتی ہیں‘۔
بتادیں کہ سری نگر میں 9 مئی کا کُل جماعتی اجلاس وادی میں ہلاکتوں کے نہ تھمنے والے سلسلے کی وجہ سے پیدا شدہ کشیدہ صورتحال کے تناظر میں بلایا گیا تھا۔ اس میں ریاست کی تمام جماعتوں بشمول نیشنل کانفرنس، کانگریس، بی جے پی، سی پی آئی ایم، پی ڈی ایف، عوامی اتحاد پارٹی اور ڈی پی این کے نمائندوں نے شرکت کی تھی۔
وزیر اعلیٰ محترمہ مفتی نے اجلاس کے اختتام پر نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا ’اجلاس میں یہ بات ہوئی کہ ہم سب کو حکومت ہندوستان سے اپیل کرنی چاہیے کہ رمضان کے مبارک مہینے ، سالانہ امرناتھ یاترا اور عیدالفطر کے پیش نظر فائر بندی کا اعلان کیا جائے‘۔
انہوں نے کہا تھا ’ جس طرح سے سابق وزیر اعظم واجپائی جی نے سنہ 2000 میں یہاں یکطرفہ فائر بندی کی تھی، اُن ہی خطوط پر حکومت ہندوستان کو بھی سوچنا چاہیے‘۔
محترمہ مفتی نے کہا کہ فائر بندی کے اعلان سے مقامی لوگوں کو راحت نصیب ہوگی۔ اُن کا کہنا تھا ’ اس وقت جو مسلح تصادم ہورہے ہیں، کریک ڈاونس ہورہے ہیں اور سرچ آپریشنز ہورہے ہیں، ان سے عام لوگوں کو بہت زیادہ تکلیف کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ چونکہ رمضان کا مہینہ شروع ہورہا ہے اور اس کے بعد یاترا کا مہینہ شروع ہورہا ہے تو ہمیں ایسے اقدامات اٹھانے کی کوشش کرنی چاہیے جن کے ذریعے یہاں کے لوگوں کا اعتماد بحال ہو اور ایک اچھا ماحول بنے جس میں عید بھی اچھی ہو اور یاترا بھی خوش اسلوبی سے گذر اپنے تکمیل کو پہنچ جائے‘۔
تاہم ریاستی حکومت میں شامل اتحادی جماعت بی جے پی نے وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کی فائر بندی سے متعلق تجویز یہ کہتے ہوئے مسترد کی تھی کہ کشمیر میں جنگجوؤں اور پتھربازوں کے خلاف جاری جنگ اپنے آخری مرحلے میں داخل ہوچکی ہے۔ پارٹی نے کہا تھا کہ جنگ کے آخری مرحلے میں پاؤں واپس کھینچنا کوئی عقلمندی نہیں ہے۔
جنگجوؤں کا صفایا کرکے اس جنگ کو بغیر کسی بریک کے مکمل کیا جانا چاہے۔ بی جے پی جموں وکشمیر یونٹ کے ترجمان اعلیٰ سنیل سیٹھی نے 10 مئی کو جموں کے ترکوٹہ نگر میں واقع پارٹی دفتر پر نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا تھا ’ہم واضح طور پر کہہ دینا چاہتے ہیں کہ ملی ٹنسی کے خلاف جو مہم چل رہی ہے وہ اپنے آخری مرحلے میں ہے۔ آخری مرحلے پر اپنے پاؤں واپس کھینچنا کوئی عقلمندی نہیں ہے۔ جنگجوؤں کا صفایا کرکے اس جنگ کو اپنے اختتام پر پہنچایا جائے۔ جنگ اپنے اختتام کو پہنچ گئی تو کشمیر میں اسی طرح امن بحال ہوگا جیسے پنجاب میں ہوا تھا‘۔ وادی میں گذشتہ 50 دنوں کے دوران تشدد کے مختلف واقعات میں کم از کم 70 انسانی جانیں ضائع ہوئی ہیں۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

بھونگیر حادثہ۔تلنگانہ کے وزیراعلی کا اظہار افسوس

حیدرآبادتلنگانہ کے وزیراعلی کے چندرشیکھر راو نے ضلع یادادری بھونگیر میں پیش آئے سڑک حادثہ …

جواب دیں

%d bloggers like this: