سرورق / خبریں / مرکزی حکومت زیرالتوا پروجیکٹوں کو مکمل کرنے میں مصروف بان ساگر پروجیکٹ کی افتتاحی تقریب میں مودی کا دعویٰ –

مرکزی حکومت زیرالتوا پروجیکٹوں کو مکمل کرنے میں مصروف بان ساگر پروجیکٹ کی افتتاحی تقریب میں مودی کا دعویٰ –

مرزاپور:(یو این آئی) کانگریس سمیت دیگراپوزیشن جماعتوں پر ترقیاتی پروجیکٹوں کی پیش رفت کو نظرانداز کئے جانے کا الزام لگاتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی نے اتوارکو یہاں کہا کہ غریبوں اورکسانوں کے لئے مگرمچھ کے آنسو بہانے والی حکومتوں سے علاحدہ بھارتیہ جنتا پارٹی(بی جے پی) حکومت معاشرہ کے محروم و استحصال شدہ طبقہ کے مفادات کے لئے دہائیوں سے زیرالتوا پروجیکٹوں کو تیزی سے مکمل کررہی ہے ۔مسٹر مودی نے 3420کروڑ روپے کی لاگت والے بان ساگرپروجیکٹ کا افتتاح کرنے کے بعد ایک عوامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پہلے کی حکومتیں کسانوں کے مفادات کے نام پر نصف پروجیکٹ بناتی تھیں اور لٹکاتی تھیں۔ بان ساگر پروجیکٹ کا خاکہ 4؍دہائی قبل تیار کیا گیا تھا ۔ اگر یہ پروجیکٹ وقت پرمکمل ہوتا تو اس کا فائدہ 2؍دہائی پہلے ملنے لگتا۔ دو دہائی برباد ہوگئیں۔وزیراعظم نے کہاکہ جو لوگ کسانوں کیلئے مگر مچھ کے آنسو بہاتے ہیں ان سے پوچھنا چاہئے کہ ایسے آبپاشی پروجیکٹ انہیں کیوں نظر نہیں آتے ، کئی ریاستوں میں ایسے اٹکے ، لٹکے اور بھٹکے پروجیکٹ ہیں۔ ریاست میں وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی حکومت بننے کے بعد پورے پوروانچل اور ریاست کی ترقی کی رفتار میں اضافہ ہوا ہے اور اس کے نتائج نظر آنے لگے ہیں۔بان ساگر پروجیکٹ کے علاوہ مسٹر مودی نے چنار میں کچھوا روڈ کے بالو گھاٹ پر گنگا پر پل کا افتتاح کیا جبکہ مرزا پور میں سرکاری میڈیکل کالج سمیت دیگر ترقیاتی پروجیکٹوں کا افتتاح کیا۔وزیراعظم مو دی نے کہاکہ تقریباً 3,500کروڑ کے بان ساگر پروجیکٹ سے صرف مرزا پور ہی نہیں بلکہ سون بھدر، بھدوہی، الٰہ آباد اور چندولی کی 1.5لاکھ ہیکٹےئر زمین کو آبپاشی کی سہولت ملے گی اور ا سکا فائدہ اس علاقہ کے2؍ لاکھ سے بھی زائد کسانوں کو راست طورپر ملے گا۔ اس علاقہ کے لئے یہاں کے غریب، محروم ، استحصال شدہ لوگوں کے لئے جو خواب اپنا دل کے بانی سونے لال پٹیل جیسے وقف لوگوں نے دیکھے انہیں شرمندہ تعبیر کرنے کی طرف ان کی حکومت مسلسل آگے بڑھ رہی ہے ۔انہوں نے کہاکہ 1978میں بان ساگر پروجیکٹ کا سنگ بنیاد رکھا گیا تھا۔ اس کے بعد کانگریس ، سماج وادی پارٹی (ایس پی) اور بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کی حکومتیں بنیں اور گئیں لیکن صرف باتیں اور وعدے ہوئے ، عوام کو کچھ نہیں ملا۔ 2014میں عوام نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پر اعتماد ظاہر کیا اور کام کرنے کا موقع دیا۔ بی جے پی حکومت نے اٹکے لٹکے اور بھٹکے پروجیکٹوں کی تلاش شروع کی تو یہ بان ساگر پروجیکٹ بھی ملا۔ اسے مکمل کرنے کیلئے پوری توانائی لگا دی گئی۔مسٹر مودی نے کہاکہ وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی حکومت نے تیزی سے کام کیا اور یہ پروجیکٹ تیار ہوکر آپ کی زندگی کو خوشحال کرنے کے لئے تیا رہے ۔ دیگر اٹکے پروجیکٹوں میں سے سرجو نہر پروجیکٹ اور وسطی گنگا ساگر پروجیکٹ پر بھی اب تیزی سے کام چل رہا ہے ۔وزیراعظم مو دی نے کہا کہ وہ جو کسانوں کے لئے مگر مچھ کے آنسو بہارہے ہیں ان کے وقت میں سہارا قیمت پر خریداری نہیں ہوتی تھی۔ کسانوں کو فائدہ نہیں پہنچایا جاتا تھا۔ سہارا قیمت بڑھانے کی بات پہلے ہی ہوچکی تھی لیکن سیاست میں ڈوبے لوگوں کو غریبوں اور کسانوں کی پرواہ نہیں تھی ۔ برسوں سے فائل دبائے رکھی۔انہوں نے کہاکہ بی جے پی حکومت نے سہارا قیمت ڈیڑھ گنا کرنے کو حتمی شکل دی۔ اس فیصلے سے یو پی اور پوروانچل کے کسانوں کو بہت فائدہ ہونے والا ہے ۔ اب اناج کی زیادہ قیمت ملے گی۔وزیراعظم نے کہاکہ آیوشمان یوجنا کو جلد مرکزی حکومت پورے ملک میں نافذ کردے گی۔ 5؍ لاکھ روپے تک کے علاج کا خرچ حکومت اٹھائے گی۔ لوگ مصیبتوں میں نہیں پھنسیں گے ، بیماری کی حالت میں انہیں مالی بحران نہیں جھیلنا پڑے گا۔ پیسوں کی کمی سے علاج نہیں رکے گا۔ ملک کے غریبوں کو سکیورٹی کوچ دیا جارہا ہے ۔ اب غریبوں کے بھی بینک اکاؤنٹ کھل رہے ہیں، رسوئی گیس کا سلنڈر ان کی رسوئی میں بھی پہنچ رہا ہے ۔ امیر اور غریب کی سوچ کو مرکزی حکومت ختم کررہی ہے ۔

مرزاپور:(یو این آئی) کانگریس سمیت دیگراپوزیشن جماعتوں پر ترقیاتی پروجیکٹوں کی پیش رفت کو نظرانداز کئے جانے کا الزام لگاتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی نے اتوارکو یہاں کہا کہ غریبوں اورکسانوں کے لئے مگرمچھ کے آنسو بہانے والی حکومتوں سے علاحدہ بھارتیہ جنتا پارٹی(بی جے پی) حکومت معاشرہ کے محروم و استحصال شدہ طبقہ کے مفادات کے لئے دہائیوں سے زیرالتوا پروجیکٹوں کو تیزی سے مکمل کررہی ہے ۔مسٹر مودی نے 3420کروڑ روپے کی لاگت والے بان ساگرپروجیکٹ کا افتتاح کرنے کے بعد ایک عوامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پہلے کی حکومتیں کسانوں کے مفادات کے نام پر نصف پروجیکٹ بناتی تھیں اور لٹکاتی تھیں۔ بان ساگر پروجیکٹ کا خاکہ 4؍دہائی قبل تیار کیا گیا تھا ۔ اگر یہ پروجیکٹ وقت پرمکمل ہوتا تو اس کا فائدہ 2؍دہائی پہلے ملنے لگتا۔ دو دہائی برباد ہوگئیں۔وزیراعظم نے کہاکہ جو لوگ کسانوں کیلئے مگر مچھ کے آنسو بہاتے ہیں ان سے پوچھنا چاہئے کہ ایسے آبپاشی پروجیکٹ انہیں کیوں نظر نہیں آتے ، کئی ریاستوں میں ایسے اٹکے ، لٹکے اور بھٹکے پروجیکٹ ہیں۔ ریاست میں وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی حکومت بننے کے بعد پورے پوروانچل اور ریاست کی ترقی کی رفتار میں اضافہ ہوا ہے اور اس کے نتائج نظر آنے لگے ہیں۔بان ساگر پروجیکٹ کے علاوہ مسٹر مودی نے چنار میں کچھوا روڈ کے بالو گھاٹ پر گنگا پر پل کا افتتاح کیا جبکہ مرزا پور میں سرکاری میڈیکل کالج سمیت دیگر ترقیاتی پروجیکٹوں کا افتتاح کیا۔وزیراعظم مو دی نے کہاکہ تقریباً 3,500کروڑ کے بان ساگر پروجیکٹ سے صرف مرزا پور ہی نہیں بلکہ سون بھدر، بھدوہی، الٰہ آباد اور چندولی کی 1.5لاکھ ہیکٹےئر زمین کو آبپاشی کی سہولت ملے گی اور ا سکا فائدہ اس علاقہ کے2؍ لاکھ سے بھی زائد کسانوں کو راست طورپر ملے گا۔ اس علاقہ کے لئے یہاں کے غریب، محروم ، استحصال شدہ لوگوں کے لئے جو خواب اپنا دل کے بانی سونے لال پٹیل جیسے وقف لوگوں نے دیکھے انہیں شرمندہ تعبیر کرنے کی طرف ان کی حکومت مسلسل آگے بڑھ رہی ہے ۔انہوں نے کہاکہ 1978میں بان ساگر پروجیکٹ کا سنگ بنیاد رکھا گیا تھا۔ اس کے بعد کانگریس ، سماج وادی پارٹی (ایس پی) اور بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کی حکومتیں بنیں اور گئیں لیکن صرف باتیں اور وعدے ہوئے ، عوام کو کچھ نہیں ملا۔ 2014میں عوام نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پر اعتماد ظاہر کیا اور کام کرنے کا موقع دیا۔ بی جے پی حکومت نے اٹکے لٹکے اور بھٹکے پروجیکٹوں کی تلاش شروع کی تو یہ بان ساگر پروجیکٹ بھی ملا۔ اسے مکمل کرنے کیلئے پوری توانائی لگا دی گئی۔مسٹر مودی نے کہاکہ وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی حکومت نے تیزی سے کام کیا اور یہ پروجیکٹ تیار ہوکر آپ کی زندگی کو خوشحال کرنے کے لئے تیا رہے ۔ دیگر اٹکے پروجیکٹوں میں سے سرجو نہر پروجیکٹ اور وسطی گنگا ساگر پروجیکٹ پر بھی اب تیزی سے کام چل رہا ہے ۔وزیراعظم مو دی نے کہا کہ وہ جو کسانوں کے لئے مگر مچھ کے آنسو بہارہے ہیں ان کے وقت میں سہارا قیمت پر خریداری نہیں ہوتی تھی۔ کسانوں کو فائدہ نہیں پہنچایا جاتا تھا۔ سہارا قیمت بڑھانے کی بات پہلے ہی ہوچکی تھی لیکن سیاست میں ڈوبے لوگوں کو غریبوں اور کسانوں کی پرواہ نہیں تھی ۔ برسوں سے فائل دبائے رکھی۔انہوں نے کہاکہ بی جے پی حکومت نے سہارا قیمت ڈیڑھ گنا کرنے کو حتمی شکل دی۔ اس فیصلے سے یو پی اور پوروانچل کے کسانوں کو بہت فائدہ ہونے والا ہے ۔ اب اناج کی زیادہ قیمت ملے گی۔وزیراعظم نے کہاکہ آیوشمان یوجنا کو جلد مرکزی حکومت پورے ملک میں نافذ کردے گی۔ 5؍ لاکھ روپے تک کے علاج کا خرچ حکومت اٹھائے گی۔ لوگ مصیبتوں میں نہیں پھنسیں گے ، بیماری کی حالت میں انہیں مالی بحران نہیں جھیلنا پڑے گا۔ پیسوں کی کمی سے علاج نہیں رکے گا۔ ملک کے غریبوں کو سکیورٹی کوچ دیا جارہا ہے ۔ اب غریبوں کے بھی بینک اکاؤنٹ کھل رہے ہیں، رسوئی گیس کا سلنڈر ان کی رسوئی میں بھی پہنچ رہا ہے ۔ امیر اور غریب کی سوچ کو مرکزی حکومت ختم کررہی ہے ۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

کروناندھی کی حالت بگڑی –

چنئی (ایجنسیز) تملناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کروناندھی …

جواب دیں

%d bloggers like this: