سرورق / خبریں / مدارس کے اساتذہ کو دوسال سے نہیں ملی تنخواہ، کیا یونک آئی ڈی سے جدید نہیں بن جائیں گے مدارس –

مدارس کے اساتذہ کو دوسال سے نہیں ملی تنخواہ، کیا یونک آئی ڈی سے جدید نہیں بن جائیں گے مدارس –

نئی دہلی: مدرسے کے بچے بھی اسکولی بچوں کی طرح سے پڑھیں۔ پڑھ لکھ کر دوسرے بچوں کی طرح افسر، ڈاکٹراورانجینئربنیں۔ دینی (مذہبی) تعلیم کے ساتھ ہی ساتھ دنیاوی تعلیم بھی حاصل کریں۔ ملک کے مین اسٹریم میں شامل ہوں۔
کچھ اسی مقصد کے ساتھ مرکزی حکومت مدرسوں کو جدید بنانے کی اسکیم پر کام کررہی ہے۔ انسانی وزارت وسائل برائے ترقیات نے اس متعلق ایک اسکیم بھی تیارکی ہے، لیکن صرف ایک یونک آئی ڈی سے مدرسے جدید نہیں بن پائیں گے۔
یوپی میں تقریباً 9 ہزارمدرسوں کو جدید بنایا جاچکا ہے، لیکن اساتذہ کودوسال سے مرکزکے حصہ والی تنخواہ نہیں ملی ہے۔ یوپی کے مدارس پرروشنی ڈالتی اس رپورٹ میں ہم آپ کوبتائیں گے کہ کیسے مشکل ہوتی جارہی ہے مدرسوں کو جدید بنانے کی راہ۔

مدرسوں کو ملے گا یونک آئی ڈی نمبر
ذرائع کی مانیں تو ریاستی حکومت کی تجویزپرمرکزی حکومت یہ لازمی کرنے جارہی ہے کہ مدرسوں کو مدرسہ بورڈ یا ریاستی تعلیمی بورڈ سے منظوری لینی ہوگی۔ اتنا ہی نہیں مدارس کو ایک پورٹل پررجسٹرڈ بھی کرانا ہوگا، جہاں سے انہیں ایک یونک آئی ڈی (ایک خاص نمبر) ملے گی۔ اس نمبر سے سبھی مدارس کو جی پی ایس پر بننے والے ایک نقشے سے جوڑا جائے گا۔ ذرائع کی مانیں تواس کے پیچھے حکومت کا ارادہ کاغذوں پر چلنے والے اور مالی بدعنوانیاں کرنے والے مدرسوں پر لگام لگانا ہے۔

انہیں کہا جاتا جدید مدرسہ
ایک جدید مدرسے میں تین مضامین کے ماہرٹیچر ہوتے ہیں۔ ٹیچروں کے لئے اہلیت ایم اے، بی ایڈ اور گریجویشن رکھی گئی ہے۔ یہ اساتذہ مدرسے میں بچوں کو ریاضی، انگریزی، سائنس اورہندی سمیت دوسرے مضامین پڑھاتےہیں۔ ایم اے اور بی ایڈ ٹیچروں کو 15 ہزار روپئے تو گریجویٹ اساتذہ کو 8 ہزار روپئے کی تنخواہ دی جاتی ہے۔
مرکزاوریوپی حکومت مل کرتنخواہ دیتی ہے۔ ایم اے، بی ایڈ اساتذہ کو 12 ہزارروپئے مرکزی حکومت تو 3 ہزار روپئے یوپی کی حکومت دیتی ہے۔ وہیں گریجویٹ ٹیچروں کو 6 ہزار روپئے مرکزی حکومت تو دوہزار روپئے یوپی حکومت دیتی ہے۔

دوسال سے مرکزی حکومت نے نہیں دی تنخواہ
اسلامک مدرسہ ماڈرنا ئزیشن ٹیچرس ایسوسی ایشن آف انڈیا (آئی ماس) کے قومی صدر اعجاز احمد کا کہنا ہے کہ دو سال سے مرکزی حکومت ہمیں تنخواہ نہیں دے رہی ہے۔ مسلسل دو سال سے تنخواہ نہ ملنے سے گھروالوں کے سامنے بھوکوں مرنے کی نوبت آگئی ہے۔ گھرکی جمع پونجی ختم ہوگئی ہے اورزیورات فروخت ہونے تک کی نوبت آگئی ہے۔ ایک ڈی ایم سے لے کریوپی کے مدرسہ وزیر لکشمی نارائن چودھری تک سے گہار لگا چکے ہیں۔ اس کے باوجود ابھی تک تنخواہ جاری نہیں کی گئی ہے۔

کیا کہتے ہیں یوپی کے اقلیتی فلاح وبہبود کے وزیر
وہیں اعجاز احمد نے بتایا کہ یوپی کے اقلیتی فلاح وبہبود وزیر لکشمی نارائن چودھری نے ملنے پر کہا کہ ہم سب کی تنخواہ مسلسل بھیج رہے ہیں۔ صرف ان مدارس کی تنخواہ روکی گئی ہے، جنہوں نے ابھی تک پورٹل پرمدرسے کا رجسٹریشن نہیں کرایاہے۔ رہی بات مرکزی حکومت کے ذریعہ مدارس کے اساتذہ کی تنخواہ روکنے کا معاملہ تو وہ ابھی میری جانکاری میں نہیں ہے، لیکن پھر بھی ہم مرکزی حکومت کو خط لکھ رہے ہیں، ہم کسی بھی اساتذہ کا برا نہیں ہونے دیں گے۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

بی ایس این ایل صارفین کو بہتر خدمت فراہم کرے۔ منی اپا

کولار۔ ٹیلی کمیونکیشن ، کولار ضلع صلاح بورڈ کے صدر ورکن پارلیمان کے ایچ منی …

جواب دیں

%d bloggers like this: