سرورق / خبریں / محکمہ جنگلات کی طرف سے جانوروں کیلئے پانی کے انتظامات-

محکمہ جنگلات کی طرف سے جانوروں کیلئے پانی کے انتظامات-

جنوبی بنگلور کے اطراف جنگلاتی علاقوں میں، چیختی ہرنیں، دھبوں والی ہرنیں اور جنگلی خنزیروں وغیرہ سبزی خور جانور بڑی تعداد میں پائے جاتے ہیں، جو ان حوضوں کی تعمیر سے فائدہ اٹھائیں گے۔اسی کے ساتھ محکمہ جنگلات کی جانب سے اس علاقوں کو،فائر لائنس کی تعمیر کے ذریعہ ممکنہ حد تک آگ سے محفوظ بنانے کی کوشش کی جار ہی ہے۔
بنگلور، (ف ن) گرمیوں کا موسم سر پر ہے، موسم کی شدت زوروں پر ہے ،ایک طرف شہری پانی کا انتظام کرنے کے لئے سرگرداں ہیں تو دوسری جانب محکمہ جنگلات بھی شہر بنگلور اور اطراف کے علاقوں میں مجبور جانوروں کے لئے پانی کا انتظام کرنے کے رخ پر کافی انتظامات کرنے میں مصروف ہے۔تورا ہلی، وی ایم کاول اور بی ایم کاول جیسے جنگلاتی علاقوں میں محکمہ جنگلات کے افسران کی طرف سے پانی کے گڑھے تعمیر کئے جا رہے ہیں۔جنگلات کے اسسٹنٹ کنزرویٹر ، بنگلور شہری ضلع این رویندرا کمار نے بتایا کہ ’’بنیادی طور پر سبزی خور جانوروں کو پانی فراہم کرنے کے لئے تعمیر کردہ پانی کے گڑھوں پر تاڑپال کے شیٹس بچھائے جا رہے ہیں تاکہ پانی گیلی زمین میں جذب ہونے نہ پائے‘‘۔رویندرا کمار جو جنوبی سب ڈویژن کے نگران بھی ہیں کا کہنا ہے کہ’’ہم ان پانی کے حوضوں کو بھرنے کے لئے پانی کے ٹینکر استعمال کر رہے ہیں، اب تک ہم نے تورا ہلی میں اس طرح کے دو حوض تعمیر کئے ہیں، مزید دو حوض چھوٹے جنگل میں اور ایک وی ایم کاول کے محفوظ جنگلاتی علاقہ میں بنائے گئے ہیں۔ان میں سے بعض تالابچے ایسے مقامات پر پائے جاتے ہیں جہاں پانی کی ذخیرہ اندوزی آسان ہے اور ایک دو برساتوں ہی کے بعد یہ تالاب لبریز ہو جائیں گے‘‘۔محکمہ جنگلات تالابوں کو گہرا بنانے، ان سے مٹی کو نکالنے اور بندھ کو مضبوط بنانے کے کام بھی انجام دے رہا ہے۔ایک ماہ قبل، یلہنکا علاقہ کے مندور، جیوتی پورا اور مارا سندرا وغیرہ مقامات پر پرندوں کو پانی فراہم کرنے کے لئے کانکریٹ کے بگونے بھی نصب کئے گئے ہیں۔محکمہ جنگلات کے تعمیر کردہ پانی کے حوض ، ان علاقوں میں سبزی خور جانوروں کی طرف سے استعمال کئے جا رہے ہیں جیسا کہ ان حوضوں کے اطراف ہرنوں کے پیروں کے نشانات سے واضح ہے۔
رویندرا نے بتایا کہ’’سبزی خور جانور گھاس کھا لیتے ہیں اگر چہ کہ وہ سوکھ چکی ہو، ان کے لئے سب سے بڑا مسئلہ پانی کا ہوتا ہے، ان اقدامات کے ذریعہ ہمیں امید ہے کہ اس مسئلہ کو حل کیا جا سکے گا‘‘۔جنوبی بنگلور کے اطراف جنگلاتی علاقوں میں، چیختی ہرنیں، دھبوں والی ہرنیں اور جنگلی خنزیروں وغیرہ سبزی خور جانور بڑی تعداد میں پائے جاتے ہیں، جو ان حوضوں کی تعمیر سے فائدہ اٹھائیں گے۔اسی کے ساتھ محکمہ جنگلات کی جانب سے اس علاقوں کو،فائر لائنس کی تعمیر کے ذریعہ ممکنہ حد تک آگ سے محفوظ بنانے کی کوشش کی جار ہی ہے۔رویندرا نے بتایا کہ ’’ہم نے اینٹوں کے ابھار کے ذریعہ آڑے ترچھے انداز میں فائر لائنس کی تعمیر کی ہے۔اگر آگ لگ بھی جاتی ہے تو اس کے پھیلنے کے اندیشے نہیں ہوتے اس لئے کہ آگ لگنے والی زیادہ اشیاء یہاں موجود نہیں ہونگی‘‘۔محکمہ جنگلات ایک غیر معمولی اقدام میں ، تالابوں کی صفائی کے لئے علاقہ کے کارپوریٹروں کی مدد بھی طلب کر رہا ہے،ہر تالاب پر کام کے لئے 1.5 لاکھ روپیوں سے دو لاکھ روپیوں تک کی لاگت آئے گی۔محکمہ جنگلات کے ڈپٹی کنزرویزر دیپیکا باجپائی نے اپنے ٹوئیٹر اکاؤنٹ پر تحریر کیا ہے کہ جو لوگ مدد کرنا چاہتے ہیں وہ ان سے رابطہ کریں۔انہوں نے کہا کہ وہ علاقہ کے کارپوریٹرس کی جانب دیکھ رہے ہیں جو ان تالابوں کو صاف کرنے اور ان سے مٹی کو نکالنے کے کام کے لئے مالی تعاون فراہم کرسکیں۔دیپیکا نے کہا کہ’’ہم چاہتے ہیں کہ برساتوں کے شروع ہونے سے قبل اس کام کو مکمل کرلیں، اس میں زیادہ کام بھی نہیں ہے، صرف تالابوں کی تہہ سے مٹی نکالنا ہے اور تھوڑا بہت گارے مٹی کا کام ہے‘‘۔تورا ہلی یسٹیٹ ، چھوٹے جنگل اور بی ایم کاول کے درمیان کل آٹھ تالاب موجود ہیں جو توجہ کے طالب ہیں اور محکمہ جنگلات امید کر رہا ہے کہ اسے ان تالابوں کو دوبارہ زندہ کرنے کے لئے کہیں سے کوئی مدد مل جائے گی۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

کروناندھی کی حالت بگڑی –

چنئی (ایجنسیز) تملناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کروناندھی …

جواب دیں

%d bloggers like this: