سرورق / خبریں / محبوبہ مفتی کی وزارتی کونسل میں بڑے پیمانے میں تبدیلیاں، 6 نئے چہرے شامل –

محبوبہ مفتی کی وزارتی کونسل میں بڑے پیمانے میں تبدیلیاں، 6 نئے چہرے شامل –

جموں ، جموں وکشمیر میں وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کی وزارتی کونسل میں پیرکے روز بڑے پیمانے میں تبدیلیاں لائی گئیں۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی طرف سے پانچ نئے چہروں کو وزارتی کونسل میں شامل کیا گیا جبکہ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی طرف سے ایک نئے چہرے کو شامل کیا گیا۔ پی ڈی پی کی طرف سے ایک سابق وزیر مملکت کی وزارتی کونسل میں واپسی کردی گئی۔ یہ تین سالہ قدیم پی ڈی پی ، بی جے پی مخلوط حکومت کی کابینہ میں اب تک سب سے بڑا پھیر بدل ہے۔ وزارتی کونسل میں شامل کئے جانے والے وزراء کو یہاں کنونشن سنٹر میں ریاستی گورنر نریندر ناتھ ووہرا نے عہدے اور رازداری کا حلف دلایا۔
حلف برداری کی تقریب میں ریاستی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی، بی جے پی کے قومی جنرل سکریٹری رام مادھو ، وزیر اعظم دفتر میں وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ، پی ڈی پی وزراء اور بی جے پی لیڈران نے شرکت کی۔ بی جے پی کی طرف سے نائب وزیر اعلیٰ ڈاکٹر نرمل سنگھ، وزیر صحت وطبی تعلیم بالی بھگت اور وزیر مملکت پریا سیٹھی کی وزارت کونسل سے چھٹی کردی گئی جبکہ پی ڈی پی کی طرف سے قانون و انصاف کے وزیر عبدالحق خان کو وزارتی کونسل سے باہر کیا گیا۔ بی جے پی کی طرف سے وزیر مملکت سنیل شرما کو کابینہ درجے کے وزیر کی حیثیت سے وزارتی کونسل میں شامل کیا گیا۔ بی جے پی کی طرف سے وزارت کونسل میں شامل کئے جانے والے پانچ نئے چہروں میں پارٹی ریاستی صدر و ممبر اسمبلی جموں ویسٹ ست شرما، اسمبلی سپیکر و ممبر اسمبلی گاندھی نگر کویندر گپتا، ممبر اسمبلی سانبہ دیویندر کمار منیال، ممبر اسمبلی کٹھوعہ راجیو جسروٹیہ اور ممبر اسمبلی ڈوڈہ شکتی راج پاریہار شامل ہیں۔ یہ سبھی پانچ بھاجپا وزراء گذشتہ اسمبلی انتخابات میں پہلی بار جیت حاصل کرکے اسمبلی میں پہنچنے میں کامیاب ہوئے تھے۔
کویندر گپتا بی جے پی سینئر لیڈر نرمل سنگھ کی جگہ پر ریاست کے نائب وزیر اعلیٰ ہوں گے۔ بی جے پی کی طرف سے کویندر گپتا، ست شرما، سنیل شرما، راجیو جسروٹیہ اور ڈی کے منیال نے بحیثیت کابینی وزراء جبکہ شکتی پریہار نے بحیثیت وزیر مملکت حلف اٹھایا۔ پی ڈی پی کے خلیل بندھ اور اشرف میر نے بھی بحیثیت کابینی وزراء حلف اٹھایا۔ بی جے پی کی طرف سے وزارتی کونسل میں بھاری پھیر بدل ظاہری طور پر پارٹی کی ساکھ کو بہتر بنانے کے لئے کیا گیا ہے۔ جن پانچ نئے چہروں کو شامل کیا گیا ہے وہ جموں خطہ کے پانچ مختلف اضلاع جیسے جموں، کٹھوعہ، سانبہ اور ڈوڈہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ تاہم بی جے پی کی طرف سے کسی خاتون لیڈر کو کابینہ میں شامل نہیں کیا گیا۔ پی ڈی پی کی طرف سے سینئر وزیر عبدالحق خان کی کابینہ سے چھٹی کی گئی جبکہ ممبر اسمبلی پلوامہ محمد خلیل بندھ کو نئے چہرے کے طور پر شامل کیا گیا۔ ممبر اسمبلی سونہ وار محمد اشرف میر کو ایک بار پھر وزارتی کونسل میں شامل کیا گیا۔
محمد خلیل بندھ کو کابینہ میں شامل کرکے جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ کو وزارتی کونسل میں نمائندگی دی گئی۔ بی جے پی ذرائع نے یو این آئی کو بتایا کہ وزارتی کونسل میں شامل کئے جانے والے پانچ وزراء کے ناموں کو بی جے پی قومی صدر امت شرما اور قومی جنرل سکریٹری رام مادھو نے حتمی شکل دی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ نئے وزراء کو پارٹی ہائی کمان کی طرف سے براہ راست رابطہ کیا گیا تھا اور انہیں حلف برداری کے لئے تیار رہنے کے لئے کہا گیا تھا۔
ذرائع نے بتایا ’گذشتہ ایک ہفتے کے دوران بھاجپا کے ریاستی لیڈران کی پارٹی ہائی کمان کے ساتھ متعدد میٹنگیں ہوئیں۔ ہائی کمان نے ہی نئے وزراء کی حتمی فہرست ترتیب دی تھی‘۔ پارٹی کے قومی جنرل سکریٹری رام مادھونے کہا کہ پارٹی کی طرف سے کابینہ میں بڑے پیمانے کا پھیر بدل کٹھوعہ واقعہ کے پیش نظر نہیں کیا گیا۔ اُن کا کہنا تھا ’ریاست میں بی جے پی ، پی ڈی پی مخلوط حکومت نے اپنے تین سال مکمل کرلئے ہیں۔ ہم نے اس کو دیکھتے ہوئے پانچ نئے چہروں کو موقعہ دینے کا فیصلہ لیا‘۔
واضح رہے کہ ریاستی کابینہ میں شامل سبھی 9 بھاجپا وزراء نے 17 اپریل کو اپنے استعفیٰ نامے ریاستی بھاجپا صدر ست شرما کو سونپ کر پورے ملک میں ایک نئی سیاست بحث کوجنم دیا تھا ۔ وزراء کی جانب سے یہ استعفیٰ نامے دو بھاجپا وزراء چندر پرکاش گنگا اور چودھری لال سنگھ کے ریاستی کابینہ سے مستعفی ہوجانے کے چار روز بعد پیش کئے گئے تھے۔ تاہم ست شرما نے استعفیٰ ناموں سے پیدا شدہ کنفوژن کو دور کرتے ہوئے کہا تھا کہ وزراء سے استعفیٰ نامے لینے کا واحد مقصد ریاستی کابینہ میں وسیع پیمانے کے ردوبدل کے لئے راہ ہموار کرنا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ بی جے پی وزراء کی جانب سے اپنے استعفیٰ نامے پیش کرنے سے حکومت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اور ریاست میں مخلوط حکومت معمول کے مطابق کام کرتی رہے گی۔
بتادیں کہ وحشیانہ کٹھوعہ واقعہ کی وجہ سے ریاست کی مخلوط حکومت میں شامل دو بھاجپا وزراء چندر پرکاش گنگا اور لال سنگھ کو گذشتہ ہفتے اپنے عہدوں سے استعفیٰ دینا پڑا تھا۔ بی جے پی کے اِن دو وزراء نے یکم مارچ کو ضلع کٹھوعہ میں کمسن بچی کے عصمت دری و قتل کیس کے ملزمان کے حق میں ہندو ایکتا منچ کے بینر تلے منعقد ہونے والے ایک جلسہ میں شرکت کرکے سول و پولیس انتظامیہ کے عہدیداروں کو گرفتاریاں عمل میں نہ لانے کی ہدایات دی تھیں۔ کٹھوعہ میں جلسہ سے خطاب کے دوران ان وزراء نے ایک مخصوص کیمونٹی کے لوگوں کو یقین دلایا تھا کہ کیس کو سی بی آئی کے حوالے کیا جائے گا۔ تاہم دونوں مستعفی وزراء کا کہنا ہے کہ انہیں پارٹی کی طرف سے وہاں جانے کے لئے کہا گیا تھا۔
لال سنگھ اور چندر پرکاش گنگا کے مستعفی ہوجانے کے بعد ریاستی کابینہ میں بی جے پی وزراء کی تعداد 6 رہ گئی تھی۔ ان میں پیپلز کانفرنس کے سربراہ اور بی جے پی کے حمایتی سجاد غنی لون بھی شامل ہیں۔ کابینہ میں بی جے پی کے وزرائے مملکت کی تعداد تین ہے۔ ریاستی کابینہ میں زیادہ سے زیادہ وزراء کی تعداد 25 ہوسکتی ہے۔ ان میں سے طے شدہ معاہدے کے مطابق پی ڈی پی کے پاس 14 اور بی جے پی کے پاس 11 ہیں۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

کروناندھی کی حالت بگڑی –

چنئی (ایجنسیز) تملناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کروناندھی …

جواب دیں

%d bloggers like this: