سرورق / خبریں / مجھ پر چاہے جتنے مقدمہ کرلو، کوئی فرق نہیں پڑتا : راہل

مجھ پر چاہے جتنے مقدمہ کرلو، کوئی فرق نہیں پڑتا : راہل

بھیونڈی(مہاراشٹر)، کانگریس کے صدر راہل گاندھی نے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) فوجداری ہتک عزت معاملہ میں اپنے اوپر لگے الزامات کو خارج کرتے ہوئے کہاکہ وہ قصوروار نہیں ہیں اور اس معاملہ میں لڑائی وہ ہی جیتیں گے۔ بھیونڈی کی عدالت نے منگل کو مسٹر گاندھی پر تعزیرات ہند کی دفعہ 499اور 500کے تحت الزام طے کئے ہیں۔ گزشتہ عام انتخابات کے دوران 6مارچ 2014کو مسٹر گاندھی نے بھیونڈی میں ایک انتخابی ریلی کے دوران سنگھ کو مہاتما گاندھی کے قتل کا ذمہ دار ٹھہرایا تھا ۔ ان کے اس بیان پر سنگھ کے کارکن راجیش کنٹے نے مسٹر گاندھی پر فوجداری ہتک عزت کا معاملہ دائر کیا تھا۔
الزام طے ہونے کے بعد عدالت سے باہر نکلے کانگریس صدر نے میڈیا سے بات چیت میں الزامات کو خارج کرتے ہوئے کہاکہ وہ قصوروار نہیں ہیں۔ مسٹر گاندھی نے میڈیا سے بات چیت کے دوران کہاکہ ان کے خلاف ایک ایک کرکے کئی مقدمے درج کئے جارہے ہے لیکن مہنگائی، پٹرول کی آسمان چھوتی قیمتوں پر وزیراعظم کچھ نہیں کہتے ہیں۔
ڈی آئی جی ہری نارائن چاری مشرا نے واقعہ کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ بھیو مہاراج نے سلور اسپرنگ میں واقع اپنی رہائش گاہ پر خود کو گولی مار لی۔ انہوں نے اپنی دائیں کنپٹی پر گولی چلائی۔ ان کی لاش پوسٹ مارٹم کے لئے بھیجی گئی ہے۔
اسی درمیان فارنسک ماہرین کی ٹیم بھیو مہاراج کے گھر پہنچ کر جانچ میں مصروف ہوگئی ہے۔ بھیو مہاراج نے ماڈلنگ کی دنیا سے اپنا کیریر شروع کیا تھا اور اس کے بعد روحانیت کے سفر پر چلنا طے کیا۔ ان کے عقیدتمندوں میں لتا منگیشکر سے لیکر کئی اہم شخصیات شامل ہیں۔ راشٹریہ سیوم سیوک سنگھ کے پرمکھ موہن بھاگوت، ریاست کے وزیراعلی شیوراج سنگھ چوہان، سابق صدر پرتبھا پاٹل سمیت کئی اہم شخصیتیں ان سے ملاقات کے لئے ان کے آشرم آچکی ہیں۔
بھیو جی مہاراجہ 2011میں اس وقت سرخیوں میں آئے تھے جب سماجی کارکن انا ہزارے کی بھوک ہڑتال ختم کرانے کے لئے اس وقت کی مرکزی حکومت نے انہیں اپنا سفیر بناکر بھیجا تھا۔ بھیو مہاراج نے پہلی بیوی کے انتقال کے بعد 2016میں گوالیار کی ایک ڈاکٹر سے دوسری شادی کی تھی۔ انہیں گزشتہ دنوں مدھیہ پردیش حکومت نے ماحولیات کے تحفظ کے لئے وزیر کا درجہ دیا تھا۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

مراٹھواڑہ میں زوردار بارش –

اورنگ آباد : مراٹھواڑہ میں اورنگ آباد ، عثمان آباد،لاتور ،ہنگولی ، پربھنی اور ناندیڑ …

جواب دیں

%d bloggers like this: