سرورق / خبریں / متحدہ اپوزیشن کا پلان 2019 : بی جے پی سے 400 سیٹوں پر ہوگا ون ٹو ون مقابلہ –

متحدہ اپوزیشن کا پلان 2019 : بی جے پی سے 400 سیٹوں پر ہوگا ون ٹو ون مقابلہ –

نئی دہلی، گزشتہ ماہ کرناٹک کے وزیر اعلی ایچ ڈی کمار سوامی کی حلف برداری تقریب میں تقریبا سبھی اپوزیشن پارٹیوں کے لیڈروں نے شرکت کی تھی ، وہ صرف ایک تصویر کا موقع نہیں تھا بلکہ اپوزیشن پارٹیوں کے لیڈروں کے درمیان دوستی کی ایک نئی شروعات تھی ۔ وہ دوستی اب ایک بیٹل پلان 2019 یعنی انتخابی حکمت عملی کی شکل لے چکی ہے۔
ذرائع کی مانیں تو 2019 کیلئے متحد اپوزیشن نے 543 میں سے 400 ایسی سیٹوں کو نشان زد کیا ہے ، جن پر اپوزیشن بی جے پی کے ساتھ ون ٹو ون مقابلہ کرے گا۔ این سی پی لیڈر مجید میمن نے اس منصوبہ کی تصدیق کردی ہے۔ انہوں نے نیوز 18 سے کہا کہ اس سلسلہ میں کرناٹک کے نتائج سے پہلے ہی منصوبہ بندی شروع ہوگئی تھی ۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر سے تمل ناڈو تک ، عبداللہ سے لے کر اسٹالن تک تقریبا سبھی غیر بی جے پی پارٹیوں نے اپنے داخلی اختلافات کو ختم کرکے ہاتھ ملانے کا فیصلہ کیا ہے۔
کانگریس کے ایک خفیہ ذرائع کے مطابق یہ واضح ہے کہ ایک بات سبھی پر نافذ نہیں ہوتی ، اس لئے یہ منصوبہ بنایا گیا ہے ۔اس منصوبہ پر ہر ریاست میں وہاں کے حالات کے اعتبار سے کام کیا جائے گا۔
مایا وتی کی بی ایس پی اور اکھلیش یادو کی ایس پی کے اتحاد کو اس منصوبہ کی سب سے بڑی کامیابی کے طور پر دیکھا جارہا ہے ۔ مارچ سے اب تک ہوئے تین لوک سبھا ضمنی انتخابات میں دونوں پارٹیوں نے مشترکہ امیدوار میدان میں اتارا اور تینوں پر جیت حاصل کی۔
سماجوادی پارٹی کے ایک لیڈر کے مطابق کچھ سیٹوں پر اتحاد کا منصوبہ ہے جبکہ کچھ پر اتحاد نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ کبھی کبھی اتحاد فائدہ مند ہوتا ہے ، جیسے کیرانہ میں ہوا ، لیکن کبھی کبھی یہ نقصان دہ بھی ہوتا ہے جیسے پھولپور میں ہوا۔ ایس پی لیڈر کے مطابق اچھی بات یہ رہی کہ مشرقی اترپردیش میں کانگریس اتحاد کا حصہ نہیں بنی ۔ کیونکہ اس کی شبیہ برہمن وادی پارٹی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کے پھولپور امیدوار منیش مشرا بھی براہمن ہی تھے۔
سب سے پہلے ممتا بنرجی نے دیا مشورہ
ضمنی نتائج کے بعد مغربی بنگال کی وزیر اعلی ممتا بنرجی سب سے پہلے ون ٹو ون مقابلہ کا منصوبہ لے کر آئیں ۔ اس سال مارچ میں ممتا بنرجی دہلی آئی تھیں ۔ انہوں نے ایک پلان پیش کیا کہ 2019 میں اپوزیشن کو کیوں ایک ساتھ الیکشن لڑنا چاہئے ۔ ٹی ایم سی لیڈر نے واضح کردیا کہ کانگریس کو علاقائی پارٹیوں کو حمایت دینی ہوگی۔
راجستھان ، ایم پی اور چھتیس گڑھ کے نتائج طے کریں گے کانگریس کی طاقت
کانگریس لیڈروں کا ماننا ہے کہ 2019 کے اتحاد میں کانگریس کا رول اہم ہوگا۔ حالانکہ وہ اس بات سے بھی باخبر ہیں کہ راجستھان ، مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ کے اگلے اسمبلی انتخابات کے نتائج سے ہی ان کی طاقت طے ہوگی۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

کروناندھی کی حالت بگڑی –

چنئی (ایجنسیز) تملناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کروناندھی …

جواب دیں

%d bloggers like this: