سرورق / خبریں / ماہ رمضان : تہار جیل کے 59 ہندو قیدیوں نے بھی رکھا مسلم قیدیوں کے ساتھ روزہ

ماہ رمضان : تہار جیل کے 59 ہندو قیدیوں نے بھی رکھا مسلم قیدیوں کے ساتھ روزہ

نئی دہلی، ویسے تو تہار جیل اکثر خبروں میں رہتا ہے ۔ کبھی کسی لیڈر کو لے کر تو کبھی کسی خطرناک مجرم کو لے کر ۔ لیکن اس مربتہ کسی اچھی وجہ سے وہ خبروں میں بنا ہوا ہے ۔وہ خبر یہ ہے کہ ہندوستان کی سب سے بڑی جیل ، تہار جیل میں اس بار 59 ہندو قیدی، 2,299 مسلم قیدیوں کے ساتھ پورے اہتمام سے روزہ رکھ رہے ہیں ۔واضح ہے کہ ان کے مزہب میں ایسا کچھ نہیں ہے لیکن اپنی کسی نہ کسی وجوہات سے یہ قیدی پوری شدت سے روزہ رکھ رہے ہیں ۔
ایک 45 سالہ خاتون قیدی کہتیں ہیں کہ وہ اپنے بیٹے کی سلامتی کے لئے روزہ ررکھ رہی ہیں ۔ وہ خاتون اغوا کرنے کے معاملہ میں گرفتار ہوئی تھی اور ابھی عدالت کو اس کے کیس کا فیصلہ سنانا ہے ۔وہیں دوسری جانب ایک دوسرے قیدی نے کہا کہ وہ اس لئے روزہ رکھ رہا ہےتا کہ وہ جلدی قید سے آزاد ہو جائیں۔
ہندوستان ٹائمس میں شائع ہوئی خبر کے مطابق ایک 21 سالہ قیدی جو کچھ ماہ قبل جیل میں آیا ہے وہ بھی روزہ رکھ رہا ہے ۔ اس نے پولیس اہلکاروں کو بتایا کہ وہ روزہ اسلئے رکھ رہا ہے کیوں کہ وہ ساتھی مسلم روزدار کا ساتھ دینا چاہتا ہے ۔قابل ذکر ہے کہ تقریباََ 97 خواتین قیدی ہیں جو روزہ رکھ رہی ہیں۔
جیل کے اہلکاروں نے بتایا کہ باہر کی شدید گرمی کو دیکھتے ہوئے ان لوگوں نے روزداروں کے لئے خاص انتظامات کئے ہیں ۔ واضح رہےکہ اتوار کے روز دہلی کا درجہ حرارت 45 تک پہونچ گیا تھا۔
جیل کے تمام سپرنٹنڈنٹ کو افتار میں شرکت کرنے کی ہدایت دی گئی ہے ۔ جیل کے ڈی جی اجے کشیپ کہتے ہیں کہ ماہ رنضان کے شروع ہونے سے قبل تمام جیلوں کی ایک ساتھ میٹنگ ہوئ تھی ۔جس میں کہا گیا تھا کہ تمام جیلوں میں روز سہر اور افطار کا وقت بورڈ پر لکھا جائے گا۔ ہم نے روزہ دار قیدیوں کےلئے روح افزا اور کھجور کا اہمام کرتے ہیں ۔ اور ہمارے یہاں نماز ادا کرنے کے لئے ان قیدیوں کو ایک خصوصی جگہ بھی فراہم کی گئی ہے ۔اور جیل کی ٹائمنگ بھی ایسی ہیں جس سے روزہ دار قیدیوں کو کوئی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے ‘‘۔
ہندو روزہ دار سے متعلق جیل کے ایک افسر نے بیایا کہ ’’ جیل کے اندر قیدیوں کے پاس ایک چیز ہے اور وہ ہے وقت ۔ ہر کوئی اپنی زندگی میں پریشان ہے ۔ اور بہت سے ایسے قیدی ہیں جو مزہب کے ذریعہ اپنی پریشانی کا حل تلاش کرتے ہیں ۔ جیل کے اندر ہم بہت قسم کےچیزیں دیکھتے ہیں جیسے کبھی کسی قیدی کا دوسرے مزہب کی جانب متوجہ ہونا تو کبھی اپنے ہی مزہب سے امید کھو دینا‘‘۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

کروناندھی کی حالت بگڑی –

چنئی (ایجنسیز) تملناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کروناندھی …

جواب دیں

%d bloggers like this: