سرورق / خبریں / لنگن مکی ڈیم سے شہرکوپینے کے پانی کی سربراہی ڈی پی اے آر تیار کرنے نائب وزیر اعلیٰ کی افسروں کو ہدایت

لنگن مکی ڈیم سے شہرکوپینے کے پانی کی سربراہی ڈی پی اے آر تیار کرنے نائب وزیر اعلیٰ کی افسروں کو ہدایت

بنگلور – لنگن مکی ڈیم سے شہرکو پینے کا پانی حاصل کرنے کے متعلق منصوبہ بندی رپورٹ (ڈی پی اے آر) تیار کرنے کی ہدایت دی گئی ہے ۔ یتنا ہولے پروجیکٹ سے دستیاب ہونے والا پانی استعمال کیا جائے گا ۔ نائب وزیر اعلیٰ ڈاکٹر جی پرمیشور نے یہ بات بتائی ۔ گزشتہ روزشہر کے ارکان اسمبلی، پارلیمانی اراکین ، بروہت بنگلورو مہانگر پالیکے (بی بی ایم پی) ، بنگلورو ڈیولپمنٹ اتھارٹی سمیت شہر کے مختلف اداروں کے افسروں کی میٹنگ طلب کی گئی ۔ میٹنگ کے بعدجی پرمیشور نے میڈیا کو بتایا کہ لنگن مکی ڈیم سے تکنیکی طور پر بنگلورو کو پانی سربراہ کرنا ناممکن نہیں ہے ۔ تقریباً 250 تا 300 کلو میٹر کے فاصلے سے یہ پانی حاصل کرنا پڑتا ہے ۔ اس کا جائزہ لینے کے بعد ڈی پی اے آر تیار کرنے کیلئے متعلقہ افسروں کو ہدایت دے دی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ شہر کے لئے مزید 24 ٹی ایم سی پانی کی ضرورت ہے ۔ کاویری کے تمام فیس کا پانی ختم ہوگیا ہے اس لئے متبادل انتظام کیا جائے گا ۔ انہوں نے مزید بتایا کہ شہر میں پینے کی پانی کی قلت کو دور کرنے کی غرض سے حکومت کی طرف سے کوششیں جاری ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ شہر میں کچرے کی نکاسی ، ٹریفک جام سمیت کئی مسائل درپیش ہیں ۔ شہرمیں 4,500 میٹرک ٹن کچرا پیدا ہورہا ہے ۔ اس کے ساتھ ہی اپارٹمنٹس سے ایک ہزار میٹرک ٹن کچرا پیدا ہوتا ہے جس کی وجہ خود نکاسی کرلیتے ہیں ۔ کچرے کی نکاسی کرنے والے کنٹراکٹروں کو گزشتہ 4 مہینوں سے رقم ادا نہیں کی گئی تھی ۔ اسمبلی انتخابات کے پیش نظر انہیں رقم ادا کرنے میں تاخیر ہوئی تھی ۔ اب بقایاجات ادا کرنے کیلئے متعلقہ افسروں کو ہدایت دے دی گئی ہے ۔ انہوں نے مزید بتایا کہ 6 ڈمپنگ یارڈس میں سے 2 ڈمپنگ یارڈ میں بجلی پیدا کرنے کیلئے اجازت دی گئی ہے ۔ عنقریب ان یارڈس میں بجلی کی پیداوار کے لئے درکار مناسب انتظامات کئے جائیں گے ۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے جی پرمیشور نے بتایا کہ حکومت نے بی بی ایم پی کو حصوں میں تقسیم کرنے کے متعلق کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے ۔ نہ کسی نے کوئی تجویز پیش کی ہے ۔ اس سلسلہ میں ریٹائرڈ چیف سکریٹری بی ایس پاٹل کی رپورٹ کا مطالعہ کیا جارہا ہے ۔ رپورٹ میں انہوں نے پالیکے کی ازسر نو تشکیل کی ضرو رت بتائی ہے اس لئے اس کو تقسیم کا نام دینادرست نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بنگلورو کی ترقی کے متعلق تمام اداروں کو ایک ہی پلاٹ فارم پر لانے پر غور کیا جارہا ہے ۔ ایک دوسرے سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ بنگلورو ڈیولپمنٹ اتھارٹی (بی ڈی اے) کی ملکیت والی تقریباً 5 ہزار ایکڑ اراضی پر غیر قانونی قبضہ ہوا ہے ۔جسے ہٹانے کیلئے قانونی سہارا لیا جارہاہے۔ اس اراضی کی مالیت تقریباً 25 ہزار کروڑ روپئے ہے۔اس کے ساتھ ہی اکرما ۔ سکرما کے منصوبے پر بھی غور کیا جارہا ہے ۔ اس منصوبے کے نفاذ سے درمیانی طبقے کے لوگوں کو فائدہ پہنچے گا ۔ کئی سال قبل ہی اس منصبوبے کو نافذ کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا لیکن چند وجوہات کے سبب اس کو نافذ کرنا ممکن نہیں ہوسکا ۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

کروناندھی کی حالت بگڑی –

چنئی (ایجنسیز) تملناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کروناندھی …

جواب دیں

%d bloggers like this: