سرورق / خبریں / لنگراج اورآر ایل ایس کالج سے قدیم اردو شعبہ بند کرنے کی سازش اقلیتی امور کے وزیر ضمیر احمدخان سے مداخلت کی گزارش –

لنگراج اورآر ایل ایس کالج سے قدیم اردو شعبہ بند کرنے کی سازش اقلیتی امور کے وزیر ضمیر احمدخان سے مداخلت کی گزارش –

بیلگاوی:بیلگاوی کے قدیم لنگراج کالج اور راجہ لکھم گوڈا سائنس کالج میں پچھلے 50؍سال سے جاری اردو شعبہ کو بند کرنے سازشیں چل رہی ہیں۔ لنگراج کالج کے پرنسپل کے مطابق اردو شعبہ میں امسال پری یونی ورسٹی کے لئے محض 5؍ اردو طلباء نے اردو مضمون کو ترجیح دی ہے جبکہ راجہ لکھم گوڈا سائنس کالج میں پری یونی ورسٹی کیلئے17؍طلبا ء نے اردو مضمون لیا تھا لیکن کالج والوں نے انہیں اردو مضمون دینے سے انکار کردیا۔ واضح رہے کہ اردو مضمون طلباء کو اپنے مجموعی رزلٹ کے فیصد تناسب میں اضافہ میں معاون ثابت ہوتا ہے۔ اردو کی بجائے اگر کوئی دوسری زبان لینے پر مجبور کیا جائے تو پی یو سی بورڈ سے امتحان دینے کے بعد ان کے فیصد تناسب میں گراوٹ ہوگی اور اس طرح مسابقتی طور پر اگلے مرحلہ میں ایسے طلباء کو پروفیشنل کورسس میں مشکلات درپیش آئیں گی۔اردو شعبہ کی بقا کے لئے لنگراج کالج کے صدر شعبہ اردو پروفیسر شوکت منیار نے کالج کیلئے اپنی خدمات سبکدوشی کے بعد بھی جاری رکھی تھیں۔کالج میں ان کے علاوہ ایک اور اسسٹنٹ لکچرر اقبال احمد کرمڑی بھی پارٹ ٹائم خدمات انجام دے رہے ہیں۔کالج سے اگر اردو شعبہ ختم کردیا جاتا ہے تو شہر کے مختلف ہائی اسکولس سے ایس ایس ایل سی کے پاس ہونے کے بعد اردوطلباء کیلئے اردو کو بطور مضمون لینے میں رکاوٹ ہوگی۔ لنگراج کالج میں ادھر پچھلے چند دنوں سے کچھ فرقہ پرست عناصر کا دبدبہ دیکھا جارہا ہے۔چند ماہ قبل اچانک کالج کی طالبات کو برقعہ اور اسکارف نہ پہننے کا فرمان جاری ہواتھا۔اس وقت یہاں کے ایک معتبر اور ملی مفاد میں کام کرنے والے شاہد میمن نے ایک وفد کے ذریعہ سوامی جی سے ملاقات کرکے مسلم طالبات کو برقعہ اور اسکارف پہننے پر پابندی پر مداخلت کی درخواست کی تھی اور سوامی جی نے اس فرمان کو واپس لینے میں معاونت کی تھی۔ لنگراج اور آر ایل ایس کالج سے اردو شعبہ کو ختم ہونے سے بچانے کیلئے شہر کے ایک محب اردو ع۔صمد خانہ پوری نے ریاستی سطح پر معروف کرناٹک مائنارٹی ہائی اسکولس ایمپلائز اسوسی ایشن کے صدر سلیم کتور کی توسط سے ریاستی اقلیتی امور کے وزیر بی زیڈ ضمیر احمد سے ایک یاد داشت کے ذریعہ گزارش کی ہے کہ ان دو کالجوں میں اردو شعبہ کو برقرار رکھنے میں مداخلت کریں۔ درایں اثناء مقامی اردو والوں نے بھی طے کیا ہے کہ موزوں وقت پر کرناتک لنگایت ایجوکیشن سوسائٹی (کے ایل ای)کے صدر رکن پارلیمان پربھاکر کورے اوربورڈ آف مینجمنٹ کے ممبر مہانتیش کوٹگی مٹھ سے ملاقات کرکے اردو شعبہ ختم نہ کرنے کی اپیل کریں۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

کروناندھی کی حالت بگڑی –

چنئی (ایجنسیز) تملناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کروناندھی …

جواب دیں

%d bloggers like this: