سرورق / خبریں / قدرتی آفات سے نمٹنے کیلئے ڈاکٹروں کی ٹیم تیار ڈیساسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے بنگلورو میڈیکل کالج کے عملے کوتربیت

قدرتی آفات سے نمٹنے کیلئے ڈاکٹروں کی ٹیم تیار ڈیساسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے بنگلورو میڈیکل کالج کے عملے کوتربیت

بنگلورو – قدرتی آفات کے موقع پر درپیش ہونے والے اموات پر قابو پانے کیلئے ریاست میں پہلی بار ڈاکٹر وں کی ٹیم تیار ہورہی ہے ۔ گزشتہ چند سالوں سے سیلاب زدہ علاقوں میں کئی انسانی جانیں تلف ہورہی ہیں ۔ قدرتی آفات میں پھنسے ہوئے لوگوں کو بروقت طبی سہولت فراہم نہیں ہورہی ہے ۔ مقامی یا قریبی اسپتال پہنچنے سے قبل ہی مریض دم توڑ دیتا ہے ۔ ایسی صورتحال پر قابو پانے کیلئے قدری آفات پر قابو پانے والی (اسٹیٹ ڈیساسٹر مینجمنٹ ) اتھارٹی طبی ماہرین کی ٹیم تیار کی جارہی ہے ۔ بنگلورو میڈیکل کالج کے ڈاکٹروں اور میڈیکل کے طلباء نے اس موقع پر خدمت انجام دینے میں دلچسپی ظاہر کی ہے ۔ٹیم میں تقریباً 200 ڈاکٹروں کو تیار کیا جارہا ہے ۔ یہ ٹیم دن کے 24 گھنٹے مفت خدمت انجام دے گی ۔ بنگلورو سمیت ریاست کے کسی بھی کونے میں قدرتی آفات پیش آنے کی صورت میں یہ ٹیم فوراً متعلقہ مقامات پر پہنچ جائے گی ۔ فی الحال دو ٹیموں کو تیار کیا جارہا ہے ۔ ڈیساسٹر مینجمنٹ کے ماہر ڈاکٹر جی وشواناتھ کے مطابق قدرتی آفات پر قابو پانے کے متعلق سیول ڈیفنس، فائر فورس کا عملہ اور پولیس اہلکاروں کو تربیت دی جاچکی ہے ۔ بارش کے موسم میں درپیش ہونے والے سیلاب زدہ علاقوں میں تباہی ، زمین کھسکنے ، خشک سالی، آتشزدگی جیسی تباہی ہونے کی اطلاع ملنے کے فوری بعد یہ ٹیم متعلقہ مقامات پر پہنچ کر ان کا علاج کرتی ہے ۔ تربیت کے دوران ڈاکٹروں کو دیگر محکموں کے ساتھ دوستانہ ماحول روا رکھنے ، بیک وقت ایک سے زیادہ مریضوں کا علاج کرنے اور دیگر اہم باتیں بتائی جائیں گی ۔ محکمہ محصولات کے پرنسپل سکریٹری گنگارام بڈیریا نے بتایا کہ ریاست میں اس طرح کی وارداتیں درپیش نہ ہوئی ہوں گی لیکن آئندہ ایسی صورتحال درپیش ہونے سے قبل ہی اقدامات کرنا ضروری ہے ۔ بنگلور میڈیکل کالج کے پرنسپل نے خود اس میں دلچسپی ظاہر کی ہے ۔ دیگر میڈیکل کالجوں یا اسپتال کے ڈاکٹروں اور دیگر سماجی تنظیموں کو بھی اس میں دلچسپی کا مظاہرہ کرنا ہوگا ۔ ایسے لوگوں کو بھی تربیت دی جائے گی۔ ڈاکٹر جی وشواناتھ نے بتایا کہ ہر ضلع میں قدرتی آفات پر قابو پانے والے ماہروں کو تعینات کرنے کا فیصلہ اتھارٹی کے زیر غور ہے ۔ فی الحال 12اضلاع میں ماہرین کا تقرر کیا گیا ہے ۔ متعلقہ اضلاع کے ڈپٹی کمشنروں کے ذریعہ تقرری ہوگی ۔ ان ا ضلاع میں اگر قدرتی آفات درپیش ہونے کی صورت میں اس سے نمٹنے کیلئے ولیج اکاؤنٹنٹ سے لے کرتحصیلدار کے درجہ کے عملے کو بھی تربیت دی جائے گی ۔ انہوں نے مزید کہا کہ نیشنل ڈیساسٹر مینجمنٹ ایکٹ 2005 کے تحت ریاستی اسٹیٹ ڈیساسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کا قیام عمل میں آیا ۔ کسی بھی مقام پر قدرتی آفات پیش آنے یا جن مقامات پر ایسی صورتحال درپیش ہوسکتی ہے وہاں پر قبل از وقت اقدامات کرنا اس اتھارٹی کی ذمہ داری ہے ۔ ڈاکٹروں کی ٹیم بھی اس کا ایک حصہ ہوتی ہے ۔ چند سالوں میں سونامی، سیلاب، شمالی کرناٹک میں زبردست بارش ، مسلسل تین سالوں تک خشک سالی کی صورتحال پیدا ہورہی ہے ۔ جس کے پیش نظر ان مقامات پر درپیش ہونے والی تباہی پر قابو پانے کیلئے قبل از وقت اقدامات کرنے کا فیصلہ اتھارٹی کے زیر غور ہے۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

کروناندھی کی حالت بگڑی –

چنئی (ایجنسیز) تملناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کروناندھی …

جواب دیں

%d bloggers like this: