سرورق / خبریں / قبل از مانسون کے باوجود آبی ذخائر میں پانی اوسط درجہ سے کم –

قبل از مانسون کے باوجود آبی ذخائر میں پانی اوسط درجہ سے کم –

بنگلور۔ شہر وریاست کے مختلف علاقو ں میں لگاتار قبل از مانسون بارش ہور ہی ہے۔اس سے شہریوں کوتپتی گرمی سے ضرور چھٹکارا ملا ہوگا، اس سے گرمی کا احساس تو کم ہوا ہے لیکن پانی کے ذخائر اور ڈیموں میں کچھ بھی اثر نہیں ہوا ہے۔ ریاست میں کل 13 پانی کے ذخائر و ڈیم موجو د ہیں۔جن میں سے صرف دو ڈیموں میں پانی وافر مقدار میں موجود ہے، ایک شمالی کنڑا کا سپر ا ڈیم جس میں 33؍فیصد اور دوسرا وجئے پور کا نارائن پورا جس میں 39؍ فیصد پانی استعمال کے لئے موجود ہے۔ بقیہ تمام میں پانی 20؍فیصد سے کم ہے جس میں کے آر ایس، کابینی اور ہرنگی کے ذخائر بھی شامل ہیں ، جس پر بنگلور اور میسور پینے کے پانی کے لئے منحصر ہیں۔تاہم صور تحال پچھلے سال کے با لمقابل بہتر ہے کیونکہ اعداد و شمار کے مطابق اس سال کی بہ نسبت پچھلے سال اس وقت پانی کی مقدار بہت کم تھی۔ریاست کرناٹک قدرتی آفات نگراں سنٹر (کے ایس این ڈی ایم سی) کے ڈائرکٹر جی ایم سرینواس نے کہا کہ ریاست میں مانسون بارش کی بہت اشد ضرورت ہے، تا کہ ڈیموں میں پانی جمع ہو سکے جو پینے کے پانی کی ضرورت کے لئے کافی ہو سکے۔انہوں نے کہا ’’عمومی طور پر قبل از مانسون سے پانی کے ذخائروں کے اوسط میں کوئی بڑھوتری نہیں ہوتی۔اس سال ریاست میں سال کی 40؍؍فیصد بارش قبل از مانسون کی صورت میں ہو چکی ہے، باوجود اس کے صرف چندہی ڈیموں میں پانی کے اوسط درجہ میں اضافہ ہوا ہے۔ عام طور پر ان کی اوسط میں اضافہ جولائی ،ا گست اور ستمبر کے مہینہ میں ہوتا ہے، ہمیں اس سال اچھی اور عمدہ بارش کی امید ہے۔‘‘ کے ایس این ڈی ایم سی کے سینئر سائنسدان نے کہا کہ بارش کی قلت سال کے آخر میں پانی کا بحران کھڑا کرسکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ محکمۂ موسمیات نے اوسط مانسون کی پیش گوئی کی تھی۔ توقع ہے کہ بارش آنے والے چند دنوں میں اچھی طرح برسے گی۔ ساحلی اور اندرون کرناٹک میں بہتر بارش کا امکان ہے ۔ انہوں نے امید کی ہے کہ بارش کا یہی رجحان رہے تاکہ پانی کے ذخائر اچھی طرح بھر سکے۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

کروناندھی کی حالت بگڑی –

چنئی (ایجنسیز) تملناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کروناندھی …

جواب دیں

%d bloggers like this: