سرورق / بین اقوامی / فیس بک کا اعتراف -کیمبرج انالٹیكا نے 8.7 کروڑافراد کے ڈیٹا کا کیا غلط استعمال، آئندہ ہفتہ زكربرگ کی امریکی کانگریس کے سامنے پیشی-

فیس بک کا اعتراف -کیمبرج انالٹیكا نے 8.7 کروڑافراد کے ڈیٹا کا کیا غلط استعمال، آئندہ ہفتہ زكربرگ کی امریکی کانگریس کے سامنے پیشی-

سان فرانسسکو، سوشل نیٹ ورکنگ سائٹ فیس بک نے تسلیم کیا کہ برطانوی سیاسی کنسلٹنسی کمپنی کیمبرج انالٹیكا نے آٹھ کروڑ 70 لاکھ سے زائد فیس بک صارفین کے ذاتی ڈیٹا کا غلط استعمال کیا۔ فیس بک کے چیف ٹیکنالوجی افسر مائیک اسكروفر نے مختلف میڈیا گروپوں کی جانب سے کئے جا رہے دعوے سے زیادہ اس تعداد کی جانکاری اپنے کارپوریٹ بلاگ پوسٹ پر دیتے ہوئے قبول کیا کہ آٹھ کروڑ 70 لاکھ افراد کی معلومات کیمبرج انالٹیكا کے ساتھ غلط طریقے سے شیئر کی گئی ۔ انہوں نے بتایا کہ کمپنی کے صارفین کے ذاتی ڈیٹا پر زیادہ کنٹرول کے لئے سخت قدم اٹھا رہی ہے۔ کمپنی تیسرے فریق کے ایپ ڈیولپرز کے لئے دستیاب ذاتی ڈیٹا پر بھی پابندی لگا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مذکورہ آٹھ کروڑ 70 لاکھ صارفین میں سے زیادہ تر امریکہ کے ہیں۔
قابل غور ہے کہ امریکی اور برطانوی میڈیا نے گزشتہ ماہ دعوی کیا تھا کہ برطانوی کنسلٹنسی کمپنی کیمبرج انالٹیكا نے پانچ کروڑ فیس بک صارفین کے ڈیٹا کا امریکی صدارتی انتخابات میں غلط استعمال کیا تھا۔امریکہ میں 2016 کے صدارتی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ نے اس کمپنی کی خدمات حاصل کی تھی۔ فیس بک نے کروڑوں صارفین کے ڈیٹا لیک ہونے کے انکشاف کے بعد ان کے ذاتی ڈیٹا پر زیادہ کنٹرول دینے کے لئے مارچ کے آخری میں بڑی تبدیلیوں کا اعلان کیا تھا۔ گذشتہ 17 مارچ کو فیس بک کا ڈیٹا لیک ہونے کی خفیہ رپورٹ کے بعد کمپنی کوا سٹاک مارکیٹ میں 100 ارب ڈالر سے زیادہ کا نقصان ہوا ہے۔ ڈیٹا لیک کے انکشاف کے بعد فیس بک کے حصص میں تقریبا 18 فیصد کمی آئی ہے۔
کمپنی کے چیف پرائیویسی آفیسر ایرن ایگن نے کہا، “فیس بک کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر مارک ز كربرگ کے گزشتہ ہفتے کے اعلان کے مطابق ہم آنے والے ہفتوں میں کچھ ایسی تبدیلیاں کریں گے جن سے صارفین کو اپنی ذاتی معلومات پر زیادہ کنٹرول حاصل ہو سکے گا۔
اس کے علاوہ فیس بک پر پرائیویسی سیٹنگ اور مینو کو بھی آسان بنایا جا رہا ہے تاکہ صارف ان میں آسانی سے تبدیلی کر سکیں‘‘۔ فیس بک میں نئے پرائیویسی شارٹ کٹ مینو بھی بنائے جارہے ہیں جن سے صارفین کو اپنے اکاؤنٹ اور ذاتی معلومات پر پہلے سے زیادہ کنٹرول رہے گا۔اس کے تحت صارف اس کا جائزہ لے سکیں گے کہ انہوں نے کیا شیئر کیا ہے اس کے علاوہ اسے ڈیلیٹ بھی کر سکیں گے۔ اس کے علاوہ وہ سبھی پوسٹس جن پر صارف نے ری ایكٹ کیا ہے جو فرینڈ رکوئسٹ بھیجی ہے اور فیس بک پر جس کے بارے میں سرچ کیا ہے، سبھی کا جائزہ لیا جا سکے گا۔ صارف فیس بک کے ساتھ شیئر کئے ڈیٹا کو ڈاؤن لوڈبھی کر سکیں گے۔ اس میں اپ لوڈ کردہ تصویر، كا نٹیکسٹ اور ٹائم لائن پر موجود پوسٹ کو ڈاؤن لوڈ کیا جا سکے گا اور کسی دوسری جگہ شیئر کئے جانے کی بھی سہولت رہے گی ۔ آنے والے ہفتوں میں کمپنی اپنی ٹرم آف سروس اور ڈیٹا پالیسی کو اچھی طرح سے صارف کے سامنے رکھے گی اور یہ بتائے گی کہ ان سے کس طرح کی معلومات لی جا رہی ہے اور اس کا کیا استعمال کیا جا رہا ہے۔ سی ای او زكربرگ نے اس پر معافی مانگتے ہوئے فیس بک پر لکھا تھا کہ صارفین کے ڈیٹا کو خفیہ رکھنے کے معاملہ میں ان کی کمپنی نے غلطی کی ہے۔ کسی کے ذاتی ڈیٹا کا غلط استعمال روکنے کے لئے اقدامات کئے جائیں گے۔

آئندہ ہفتہ زكربرگ کی امریکی کانگریس کے سامنے پیشی

واشنگٹن، سوشل نیٹ ورکنگ سائٹ فیس بک کے سی ای او مارک زكربرگ برطانوی پولیٹیکل کنسلٹنسی کمپنی کیمبرج انالٹیكا کی جانب سے صارفین کے ڈیٹا کو امریکی صدارتی انتخابات میں غلط طریقے سے استعمال کئے جانے پر آئندہ ہفتے کانگریس کی کمیٹیوں کے سامنے پوچھ گچھ کا سامنا کریں گے۔ امریکی ممبران پارلیمنٹ نے کل یہ اطلاع دی۔ زكربرگ 10 اپریل کو امریکی سینیٹ جوڈیشل اور کامرس کی مشترکہ سماعت کے دوران پیش ہوں گے۔مسٹرزكربرگ اگلے روز یعنی 11 اپریل کو امریکی ایوان کی انرجی اور کامرس کمیٹی کے سامنے بھی پیش ہوں گے۔
ایوان پینل کے ریپبلکن چیئرمین گریگ والڈن اور ٹاپ ڈیموکریٹ فرینک پیلون نے ایک بیان میں کہا’’یہ سماعت اہم صارفین ڈیٹا پرائیویسی کے مسائل پر روشنی ڈالنے اور تمام امریکیوں کو بہتر طریقے سے سمجھنے میں مددگار ہو گی‘‘۔ فیس بک نے تسلیم کیا کہ کیمبرج انالٹیكا نے آٹھ کروڑ 70 لاکھ سے زائد فیس بک صارفین کے ذاتی ڈیٹا کا غلط استعمال کیا۔ کیمبرج انالٹیكا نے ڈونالڈ ٹرمپ کے صدارتی انتخابات کے دوران ان کے صارفین کے ڈیٹا کا استعمال کیا تھا۔
فیس بک نے اگرچہ مارچ میں کہا تھا کہ اس نے کیمبرج انالٹیكا اور اس کی اصل کمپنی کے تمام اکاؤنٹوں کو ملتوی کر دیا ہے۔ ساتھ ہی کہا تھا کہ کیمبرج انالٹیكا کے پاس کوئی ڈیٹا ہے یا نہیں اس کی پڑتال کے لئے فارنسک آڈیٹر کو لگایا گیا ہے۔
زكربرگ نے مارچ میں کہا تھا کہ وہ کانگریس کے سامنے بیان دینے كوتیار ہیں۔ لیکن انہوں نے بر طانوی ممبران پارلیمنٹ کے پارلیمانی کمیٹی کو واقعہ کی تفصیلات دینے سے متعلق دعوت کو ٹھکرا دیا تھا۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

کروناندھی کی حالت بگڑی –

چنئی (ایجنسیز) تملناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کروناندھی …

جواب دیں

%d bloggers like this: