سرورق / خبریں / فٹ پاتھ ۔۔۔ پیدل چلنے والوں کے لئے راہداری یا دو پہیہ سواریوں کا راستہ –

فٹ پاتھ ۔۔۔ پیدل چلنے والوں کے لئے راہداری یا دو پہیہ سواریوں کا راستہ –

بنگلور، شہری انتظامیہ نے ایک نیا منصوبہ تیار کیا ہے جس کی رو سے شہر کے فٹ پاتھوں پر سائیکل سواروں کے لئے مخصوص راستے کی تعمیر ہوگی، یعنی راہگیروں کے لئے تیار کردہ فٹ پاتھ اب سائیکل سواروں کو بھی راستہ فراہم کریں گے لیکن اس سے قبل انتظامیہ اور بالخصوص ٹریفک پولیس کو ان فٹ پاتھوں پر دو پہیہ موٹر گاڑیوں اور اسکوٹروں کی دوڑ کو روکنے کے سلسلہ میں اقدام کرنا ہوگا۔شہر کے فٹ پاتھوں پر دوپہیہ سواریاں چلانے کا جہاں تک معاملہ ہے اسیا لگتا ہے کہ پولیس اہل کار اس سلسلہ میں ایک ناکام جدو جہد میں مصروف ہیں۔ہر سال اس طرح کے سواروں کے خلاف 16,000 سے 18,000 معاملات کا اندراج ہوتا ہے اور اس تعداد میں پچھلے چھ سالوں سے کوئی کمی واقع نہیں ہوئی ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ اس مسئلہ پر قابو پانے کا واحد راستہ یہ ہے کہ فٹ پاتھ پر ریلنگس لگائی جائیں یا پھر بولارڈ نصب کر دئے جائیں۔ٹرافک پولیس کے پاس موجود معلومات کے مطابق اس سال کے ابتدائی دو مہینوں کے دوران ہی شہر میں اس طرح فٹ پاتھ پر گاڑیاں چلانے والوں کے خلاف 2.735 معاملات درج کئے گئے ہیں ۔ سال 2017 میں تقریباً 18,889 معاملات درج کئے گئے تھے جبکہ اس سے پہلے سال کل 16,069 معاملات کا اندراج ہوا تھا۔اس وقت فٹ پاتھوں پر گاڑی چلانے کے خلاف جو جرمانہ لگایا جاتا ہے وہ صرف ایک سو روپئے کی حقیر رقم ہے، پولیس کا منصوبہ یہ ہے کہ جو لوگ فٹ پاتھ پر گاڑی چلاتے ہیں ان کے خلاف اس معاملہ کے ساتھ ہی خطرناک انداز میں گاڑی چلانے کے معاملہ کو بھی درج کیا جائے جس کے نتیجہ میں مزید تین سو روپئے کا جرمانہ ہوتا ہے، پولیس کو امید ہے کہ یہ اقدام کسی حد تک تبدیلی پیدا کر سکتا ہے۔ٹریفک پولیس کے ایک اعلیٰ افسر نے بتایا کہ ’’بعض معاملات میں ہم لوگ ایسے ڈرائیوروں کے پاس سے ان کے لائسنس ضبط کر رہے ہیں اور انہیں معطل کرنے کے لئے آر ٹی او روانہ کر رہے ہیں‘‘۔افسران نے اس بات کو تسلیم کیا کہ جتنی تعداد میں معاملات کا اندراج ہوتا ہے وہ اصل خلاف ورزیوں کا مکمل نقشہ نہیں ہوتا ، اس لئے کہ بہت سارے معاملات پولیس کے علم میں نہیں آتے اور کئی مقامات پر پولیس موجود نہیں ہوتی۔پولیس افسران کا کہنا ہے کہ جب پولیس اہل کار خاص مصروفیت کے اوقات میں راستوں پر ٹریفک پر قابو پانے کے کام پر لگے ہوئے ہوتے ہیں ، اس وقت فٹ پاتھوں پر نظر رکھنا ان کے لئے ممکن نہیں ہوپاتا ۔ایک اور ٹریفک پولیس افسر نے کہا کہ یہ بات تو ممکن نہیں ہے کہ ہر ایک سو میٹر کے فاصلہ پر ہم ایک پولیس اہل کار کی ذمہ داری لگا دیں، تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ کوئی سواری فٹ پاتھ پر چڑھنے نہ پائے۔اضافی کمشنر برائے پولیس (ٹریفک) آر ہتیندرا کا کہنا ہے کہ ’’ہر ایک مقام پر کانسٹبل کو لگا کر اس سے یہ کہنا کہ وہ گاڑیوں کو روکتا رہے یہ ناقابل عمل بات ہے، اس کے علاوہ مالی اور انسانی وسائل کے نقطہ نظر سے بھی ہم ایسا نہیں کر سکتے۔ فٹ پاتھوں پر گاڑیوں کے چڑھنے کے سلسلہ پر روک لگانے کے لئے ظاہری اسباب کا اختیار کیا جانا ضروری ہے‘‘۔انہوں نے مزید کہا کہ پولیس اس معاملہ میں مزید بیداری پیدا کرنے کی کوشش کرے گی۔السور پولیس کا ایک منصوبہ:السور ٹریفک پولیس نے اس مسئلہ کے حل کے لئے ایک منصوبہ تیار کیا ہے، حال ہی میں یہاں کی پولیس ، جس کے پاس اس طرح کے معاملات کی شکایتوں کا انبار جمع ہو گیا تھا، اس نے فیصلہ کیا کہ وہ تمام فٹ پاتھوں پر بولارڈ نصب کر دے گی۔ہر ایک قطار میں اس کونے سے اس کونے تک چار سے پانچ بولارڈ نصب کئے گئے ہیں، جن کے درمیان صرف اتنی جگہ چھوڑی جاتی ہے کہ پیدل چلنے والے آسانی کے ساتھ گزر جائیں۔اس طرح ایم جی روڈ اور السور میٹرو اسٹیشن کے قریب فٹ پاتھوں کے پچاس میٹر کے رقبہ پر بولارڈس کی کئی قطاریں نصب کی گئی ہیں۔یہاں کے ایک اعلیٰ پولیس افسر نے بتایا کہ اس اقدام کی وجہ سے فٹ پاتھوں پر دو پہیہ سواریوں کے چلائے جانے کے معاملہ پر کافی حد تک قابو حاصل کر لیا گیا ہے۔مذکورہ افسر نے بتایا کہ ’’اندرا نگر کے ایک سو فیٹ روڈ پر ہم نے ایسے بورڈ آویزاں کئے ہیں جن کے ذریعہ عوام کو اس بات کی ہدایت دی گئی ہے کہ اگر وہ کسی فٹ پاتھ پر کسی کو گاڑی چلاتا ہوا دیکھیں تو فوراً پولیس کو اس کی خبر کریں، اس طرح عوام میں بیداری پیدا کی جا رہی ہے، اسی کے ساتھ ان لوگوں کو تنبیہ بھی تحریر کی گئی ہے جو فٹ پاتھوں پر گاڑیاں چلانے کی خواہش پر قابو نہیں پا سکتے ہیں‘‘۔سخت ضابطوں کی ضرورت ہے:جو لوگ فٹ پاتھوں کو گاڑیاں چلانے کے لئے استعمال کرتے ہیں ان کی طرف سے اس کے لئے یہ وجہ عام طور پر بتائی جاتی ہے کہ وہ لوگ اپنی منزل پر پہنچنے کے لئے بہت جلدی میں ہیں ، راستوں پر چونکہ گاڑیاں تقریباً ایک دوسرے کے بمپر سے لگی ہوئی ہوتی ہیں ، ایسی حالت میں فٹ پاتھ ہی انہیں ایک سہارا نظر آتا ہے کہ وہ جلدی سے دوسری گاڑیوں سے آگے نکل جائیں۔منجو تھامس جو پیدل چلنے والوں کے حقوق کے لئے مسلسل جدو جہد کرتی رہی ہیں ، کا کہنا ہے کہ صرف سخت قوانین اور زیادہ جرمانہ ہی اس مسئلہ کا حل ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’جو لوگ فٹ پاتھ پر گاڑیاں چلاتے ہیں ان کا معاملہ بالکل نشہ کی حالت میں گاڑی چلانے والوں ہی کی طرح ہے، چونکہ نشہ کی حالت میں گاڑی چلانے کے تعلق سے سخت قوانین موجود ہیں لوگ احتیاط کرتے ہیں اور شراب پی کر گاڑی نہیں چلاتے یا ایسی حالت میں ٹیکسی لے لیتے ہیں ۔اسی طرح فٹ پاتھوں پر گاڑیاں چلانے کے معاملہ کو روکنے کے لئے ہمیں سخت ضابطوں کی ضرورت ہے ، اس کی وجہ سے لوگ قانون توڑنے سے بچ جائیں گے‘‘۔ماہر نقل و حمل ایم این سری ہری کا کہنا ہے کہ بولارڈس وغیرہ نصب کرنے کے ذریعہ ظاہری رکاوٹوں کا کھڑا کرنا کافی مہنگا ہو سکتا ہے، ان کا کہنا ہے کہ پولیس اس معاملہ کو اس طرح آسان کر سکتی ہے کہ فٹ پاتھوں پر جگہ جگہ سی سی ٹی وی کیمرے نصب کئے جائیں، اور ان لوگوں کو نوٹسیں روانہ کی جائیں جو فٹ پاتھ پر گاڑی چلا کر لے گئے ہوں۔انہوں نے کہا کہ ’’یقیناًبوڈلارڈس کا لگایا جانا اس مسئلہ کا ایک حل ہو سکتا ہے ، لیکن انہیں ہر جگہ لگانے میں بہت زیادہ خرچ آئے گا جبکہ کیمرے سستے ہوتے ہیں اور ان کی وجہ سے خلاف ورزی کرنے والوں تک پولیس کی رسائی آسان ہو جاتی ہے، اسی کے ساتھ ان کیمروں کو قانون اور نظم و ضبط کے معاملہ میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے‘‘۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

کروناندھی کی حالت بگڑی –

چنئی (ایجنسیز) تملناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کروناندھی …

جواب دیں

%d bloggers like this: