سرورق / بین اقوامی / فضائی حملوں سے شام کے فضائی حملوں سے شام –

فضائی حملوں سے شام کے فضائی حملوں سے شام –

واشنگٹن، شام پر کئے گئے فضائی حملوں کے بعد مغربی ممالک کا کہنا ہے کہ اس سے اس کا کیمیائی ہتھیاروں کاپروگرام مکمل طورپر مفلوج ہو گیا ہے لیکن یہ نہیں کہا جا سکتا ہے کہ صدر بشار الاسد اس کے بعد ایسے کسی پروگرام کو پورا نہیں کریں گے۔ شام میں گزشتہ ہفتہ کیمیائی حملوں کے بعد امریکہ، برطانیہ اور فرانس نے شام پر جمعہ کی رات 105 سےزائد میزائل داغے اور ہوائی حملے کئے۔ ان حملوں کا مقصد ضلع بارزہ میں ایک ریسر چ اینڈ ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن تھا اور ایسے ہی حملے حمص میں واقع میں دو تحقیقی اداروں پر کئے گئے۔ ان ممالک کا کہنا ہے کہ اس حملے کا مقصد شام کے کیمیائی پروگرام کی صلاحیت کو مفلوج کرنا تھا اور ان کا ارادہ اسد حکومت كاگرانا یا اس خانہ جنگی میں مداخلت کرنا نہیں ہے۔ ان حملوں كوشام نے غیر قانونی کارروائی قرار دیا ہے۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے فضائی حملوں کے بعد ایک ٹويٹ کرکے کہا ’’مشن پورا ہوا‘‘۔ امریکی وزارت دفاع پنٹاگن میں لیفٹیننٹ جنرل کینتھ میکنزی نے بتایا کہ ہمارا خیال ہے کہ بارزه میں حملہ کرکے ہم نے شامی کیمیائی ہتھیاروں کے پروگرام کو مکمل طور پرتباہ کر دیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس پروگرام کے کچھ حصے ابھی باقی ہیں اور وہ اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتے ہیں کہ شام مستقبل میں ایسی کسی سرگرمی کو انجام نہیں دے گا۔
اقوام متحدہ میں امریکی سفیر نکی ہیلی نے ایک ہنگامی اجلاس میں کہا تھا کہ اگر شام پھر زہریلی گیس کا استعمال کرتا ہے تو امریکہ پوری طرح تیار ہے۔ ان حملوں کے بارے میں شام کے دوست ممالک کے ایک افسر نے بتایا کہ حملوں سے کچھ دن پہلے روس کے مشورہ پر شہریوں کو وہاں سے چلے جانے کی ہدایات دے دی گئی تھی۔
روسی وزیر خارجہ سرگئی لاؤروف نے کہا ہے کہ یہ حملے ناقابل قبول ہیں اور مکمل طور غیر قانونی ہیں۔ شامی میڈیا نے انہیں بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا ہے اور ایران کے رہنما آیت اللہ علی خامنہ ای نے انہیں جرم قرار دیتے ہوئے مغربی ممالک کے رہنماؤں کو مجرم قرار دیا ہے۔ روس نے کہا ہے کہ اس کے ساتھی کے خلاف کی گئی اس کارروائی کا صحیح وقت پر جواب دیا جائے گا۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

کروناندھی کی حالت بگڑی –

چنئی (ایجنسیز) تملناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کروناندھی …

جواب دیں

%d bloggers like this: