سرورق / بین اقوامی / غزہ کی پٹی کے عوام کو اسرائیل میں کام کی اجازت سے کشیدگی کم ہونے کی امید –

غزہ کی پٹی کے عوام کو اسرائیل میں کام کی اجازت سے کشیدگی کم ہونے کی امید –

یروشلم، اسرائیل غزہ سرحد پر کشیدگی کو کم کرنے کی سمت میں کام کر رہے قطر کے سفیر محمد العمادی کا خیال ہے کہ اگر غزہ کی پٹی میں رہنے والے پانچ ہزار لوگوں کو اسرائیل میں ’ورک پرمٹ‘کی اجازت مل جائے تو اس سے دونوں کے درمیان کشیدگی کم ہو سکے گی۔ مسٹر عمادی نے اتوار كوسعودی عرب کے سرکاری ٹیلی ویژن کو دیے انٹرویو میں کہا کہ اگر ایسا ہوتا ہے تو اس سے اسرائیل کے خلاف ہونے والے مظاہروں میں کمی آئے گی اور سرحد پار سے آگ کو بھڑكا دینے والی پتنگوں ،غباروں اور دیگر اشیا کے واقعات بھی کم ہو سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ کچھ ہفتوں سے فلسطینی اسرائیلی سرحد میں فصل والے کھیتوں کو ایسی پتنگوں، غباروں اور دیگر اشیا سے نشانہ بنا رہے ہیں جو آگ لگانے میں مددگار ہوتے ہیں۔ اس سال مارچ سے اب تک اسرائیل کے خلاف جاری مظاہروں میں اسرائیلی فوجیوں کی فائرنگ میں کم از کم 136 فلسطینی شہری ہلاک ہو گئے ہیں اور اس کے بدلے میں غزہ کی پٹی میں رہنے والے فلسطینی شہری سرحد کی طرف اس طرح کی پتنگیں اور ب غباروں کو اڑا رہے ہیں جن کے چیمبر میں آتشگیر مادہ بھرے ہوتے ہیں۔ اس سے اسرائیلی فصلوں کو کافی بربادی جھیلنی پڑ رہی ہے۔ غزہ پٹی پر اسلامی شدت پسند گروہ حماس کا کنٹرول ہے اور اسرائیل نے سیکورٹی وجوہات کے سبب اس علاقے کے لوگوں اور اشیا پر اسرائیلی سرحد میں داخلہ پر پابندی عائد کررکھی ہے۔ مسٹر عمادی کا کہنا ہے کہ غزہ کی پٹی میں جو لوگ رہ رہے ہیں وہ بہت غریب ہیں اور ان کے پاس روزگار اور ذریعہ معاش کے وسائل بھی کم ہیں اور اگر ان لوگوں کو اسرائیل میں’ورک پرمٹ ‘ پر جانے کی اجازت مل جاتی ہے تو اس طرح کے واقعات میں کافی کمی آ سکتی ہے۔
مسٹر امادي نے کہا ’’اس کے شروعات کچھ اس طرح کی جا سکتی ہے کہ یہاں رہنے والے پانچ ہزار لوگوں کو اسرائیل میں کام کرنے کا موقع ملے تو یہاں سے اسرائیل کے خلاف ہونے والے مظاہروں اور اس طرح کے مواد بھیجے جانے میں خود بہ خود کمی آ جائے گی‘‘۔انهوں نے اسرائیل اور فلسطین کے درمیان اس وقت ثالثی کی تھی جب ان کے درمیان کافی کشیدگی پیدا ہوگئی تھی۔ اس دوران اسرائیل نے اپنے ان دو شہریوں کی واپسی کا مطالبہ کیا ہے جو غزہ کی پٹی میں چلے گئے تھے اور اس وقت حماس کی گرفت میں ہیں۔ اس کے علاوہ 2014 میں لڑائی میں مارے گئے اپنے دو فوجیوں کی لاشوں کی بھی مانگ کی ہے۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

کانگریس پارٹی سے مجھے کوئی بیزارگی نہیں: کمار سوامی

رام نگرم: مجھے کانگریس پارٹی کی طرف سے کوئی الجھن نہیں ہے اور نہ ہی …

جواب دیں

%d bloggers like this: