سرورق / بین اقوامی / عیدگاہوں میں غیرمسلم مہمانوں کے ساتھ عمدہ سلوک کا مظاہرہ کریں –

عیدگاہوں میں غیرمسلم مہمانوں کے ساتھ عمدہ سلوک کا مظاہرہ کریں –

دنیا بھر کے مسلمان ہر سال دو مرتبہ عید گاہوں میں یا کھلے میدانوں میںیا پھر عیدگاہ میسر نہ ہونے کے باعث کہیں کہیں بڑی مسجدوں میں نماز عیدکی ادائی کے لئے جمع ہوتے ہیں اور اسلامی تعلیمات کے مطابق نماز عید اداکرکے عید مناتے ہیں۔ مذہب اسلام نے عید منانے کے جو طریقے مسلمانوں کو بتلائے اور سکھلائے ہیں وہ دنیا بھر کی دیگر قوموں کے عید منانے کے طریقوں سے بالکل الگ اور نرالے ہیں۔ مسلمانوں کی عید میں نہ رقص ہوتا ہے نہ ناچنا گانا ہوتا ہے نہ باجے بجائے جاتے ہیں نہ ایک دوسرے پر رنگ اچھالے جاتے ہیں۔ نہ شراب کی مستی ہوتی ہے اور پٹاخے پھوڑے جاتے ہیں۔ بلکہ بڑے حساب کتاب کے ساتھ فطرہ نکالنا اور مستحق احباب تک پہنچانا پڑتا ہے ۔ پھر عیدگاہوں کو مزین کرکے وہاں نماز عید کے لئے جمع ہونا پڑتا ہے اور پھر اپنے گھروں میں بہترین اور لذیذ پکوان کرکے اپنے دوست و احباب پڑوس اور مسکینوں کے ساتھ مل کر ایک ساتھ کھانے کا مزہ اٹھاکر اللہ کا شکر ادا کرنا پڑتا ہے ۔
چونکہ ہم ہمارے وطن میں غیر مسلم برادران کے درمیان گزر بسر کرتے ہیں۔لہٰذا ہمارے غیر مسلم برادران وطن بھی ہمارے عید منانے کے طریقوں کو بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ کئی عیدگاہوں میں ہمارے غیر مسلم برادران وطن کو مدعو کیا جاتا ہے یا وہ خود ہمارے ساتھ نماز میں شامل ہونے کی خاطر چلے آتے ہیں۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ عیدگاہ کمیٹی یا مسجد کمیٹی کے اراکین سیاسی لیڈروں کو بھی عیدگاہ آنے کی دعوت دیتے ہیں۔ یہ بہت اچھی بات ہے کہ ہمارے غیر مسلم بھائیوں کو عیدگاہ بلا کر ہمارے عید بنانے کے اسلامی طور طریقے کو قریب سے دیکھنے کا موقع فراہم کیا جائے اورپھر نماز عید کے بعد ان مہمانوں کو ہمارے ساتھ عید کے کھانے میں شریک کیا جائے ۔ مذہب اسلام میں ہماری خوشیوں میں ہمارے غیر مسلم بھائیوں کو شریک کرنے کے بارے میں ممانعت نہیں ہے بلکہ ہمارے علمائے کرام ہمیں اس کی ترغیب دیتے ہیں تاکہ ہمارے درمیان اچھے تعلقات فروغ پائیں۔ جمعیۃ العلماء ہند نے غیر مسلم بھائیوں کے ساتھ ملک بھر میں ایک مشترکہ کھان پان پروگرام چلا کر عملی طورپر ایک ساتھ کھانا کھا کر دکھلایا کہ ہمیں بھی ایسا کرنا چاہئے ۔
عید کے دن جب ساری دنیا کے غیر مسلموں کی نظر مسلمانوں پر مرکوز رہتی ہے ۔ اس وقت ہمیں چاہئے کہ ہم اسلامی تعلیمات کا صحیح صحیح مظاہرہ کریں تاکہ اسلام کے بارے میں کوئی غلط فہمی پیدا نہ ہونے پائے ۔ لیکن کئی عیدگاہوں میں دیکھاگیا ہے کہ چند ذمہ داران مسجد یا عیدگاہ کمیٹی کے احباب اپنے رسوخ کے سیاسی لیڈروں کو عید کی نماز میں شرکت کے لئے مدعو کرتے ہیں اور ان غیر مسلم لیڈروں کی آؤ بھگت بالکل اخلاق سے گری ہوئی حرکتوں سے کرتے ہیں۔ ہمارے غیر مسلم بھائی چاہتے ہیں کہ ان کی وجہ سے نماز میں کوئی خلل یا فرق نہ پڑے لیکن مسلمان ذمہ داروں کی حرکتیں ان کے اس عمدہ خیال کے بالکل برعکس ہوا کرتی ہیں۔ سب سے پہلے وہ اپنے مہمانوں کو جگہ بنانے کے لئے دوسروں کو ادھر ادھر دھکے دیتے ہیں جو بالکل اسلام کے خلاف حرکت ہے ۔ پھر ان غیر مسلم احباب کے سروں پر ٹوپیاں ٹھونسی جاتی ہیں، جو بالکل غلط ہے کیوں کہ ہمیں چاہئے کہ ہمارا طریقہ ان پر مسلط نہ کریں وہ جس طرح ہیں، اسی طرح رہنے دیں، نہ ان پر نماز فرض ہوتی ہے اور نہ انہیں ٹوپی پہننے سے یا نہ پہننے سے کوئی فرق پڑتا ۔پھر جب عید کی نماز ادا کی جارہی ہوتی ہے تو اکثر دیکھا گیا ہے کہ ان ذمہ داروں کی نگاہ خیال زیادہ تر مہمانوں یا سیاسی لیڈر کی جانب رہتا ہے۔ اس طرح کی حرکت کو صرف نماز کا مذاق اڑانے کے برابرہی سمجھا جاسکتا ہے ۔ ہمیں ایسی حرکتوں سے پرہیز کرنا چاہئے ۔ پھر جب نماز ختم ہوتی ہے تو بہت سارے مصلیان ان غیر مسلم لیڈروں سے ملاقات کے لئے دھکا پیل کرنے لگتے ہیں، اور ذمہ دار اپنی قوت ان لوگوں کو دور ہٹانے میں لگاتے ہوئے نظر آتے ہیں پھر اس مہمان یا سیاسی لیڈر کی شال پوشی اور گلپوشی کی جاتی ہے ۔
نماز کے بعد ہمارے ساتھ نماز عید میں شرکت کے لئے آئے ہوئے غیر مسلم مہمان کو اس طرح شال پوشی یا گلپوشی کرنا ایک بہت ہی گھٹیا اور غیر اسلامی حرکت ہے ۔ ایسی حرکتوں کو ہمارے غیر مسلم برادران وطن بھی اچھا نہیں گردانتے یا سمجھتے ۔ پھر بھی ہمارے چند احباب ایسی حرکتیں کرکے ان مہمانوں کی نظر میں خود بھی گرجاتے ہیں اور مذہب اسلام کی قدر کو بھی ان کی نظروں سے گرانے کا کام انجام دیتے ہیں۔ ہمیں چاہئے کہ ہم ایسی بے جا اور بے تکی اور تہذیب سے عاری حرکتوں سے بچیں۔ کئی جگہ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ غیر مسلم برادران وطن کو عیدگاہ میں مسلمانوں سے خطاب کرنے کا موقع دیتے ہوئے ان کے ہاتھوں میں زبردستی مولانا یا خطیب حضرات کا مائیک ٹھونس دیا جاتا ہے ۔ جبکہ ہمارے غیر مسلم بھائی خود مسلمانوں کی جانب سے ایسی گری ہوئی حرکتوں کی توقع نہیں کرتے ۔
چند ناعاقبت اندیش اور اسلامی مذہبی تعلیم سے ناواقف ذمہ داروں کی ایسی بے تکی حرکتوں کے باعث مجبوراً مائک پر وہ کچھ نہ کچھ بولنے لگتے ہیں، جو بات نہ ہی مذہبی اسلام سے تعلق رکھتی ہے اور نہ عید کے بارے میں ہوتی ہے ۔ ہمیں چاہئے کہ ہم ہمارے غیر مسلم برادران وطن کو ضرور عیدگاہ بلائیں لیکن ان پر دباؤ نہ ڈالیں کہ وہ نماز پڑھیں یا پہلی صف میں ہی آکر بیٹھیں بلکہ انہیں بتلایا جائے کہ وہ قریب ہی کسی کرسی پر نماز ہونے تک تشریف رکھ سکتے ہیں یا پھر اگر وہ خود نمازوں کے ساتھ کھڑے ہونا چاہتے ہیں تو پھر ان کی اپنی مرضی ہے کہ وہ کھڑے ہوں یا بیٹھے رہیں ۔
ان کے سروں پر ٹوپیاں ٹھونسنے کا کام نہ کریں۔ پھر نماز ختم ہونے کے بعد خطبہ کے دوران سب کے سب خطبہ کی جانب اپنا دھیان مرکوز کریں نہ کہ مہمانوں کی طرف۔ پھر جب خطبہ اور دعا ختم ہوجائے تو جس طرح مسلمان ایک دوسرے سے ملتے ہیں، اسی طرح ان غیر مسلم مہمان سے بھی ایک کے بعد دوسرے آرام سے ملاقات کریں وہ بھی اگر وہ مہمان پسند کریں تب ۔ اور پھر عیدگاہوں میں نماز عید کے بعد شال پوشی گل پوشی اور مائک دے کر غیر مسلم بھائیوں کو بھی منبر کے قریب سے خطاب کرنے کا موقع دینا جیسی حرکتیں ہمیں غیر مسلم بھائیوں کی نظروں میں جوکر بنادے گا اور اسی کے ساتھ مذہب اسلام کی نماز عید کی ، عیدگاہ کی ، مسلمانوں کے مجمع کی جس میں علماء حضرات، حفاظ، قراء بھی موجود ہوں، ان سب کی توہین ہوگی ۔
لہٰذا ہمیں چاہئے کہ ہم غیر مسلم بھائیوں کو ہماری عیدگاہوں میں ضرور مدعو کریں لیکن اخلاق اور بھرم کے ساتھ پیش آئیں۔ خود ہماری نظروں میں اور ان غیر مسلم بھائیوں کی نظروں میں ذلیل ہونے جیسی حرکتوں سے بچیں اور بازآئیں۔ البتہ اپنے اپنے گھروں کو بلا کر وہاں شال پوشی اور گلپوشی کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

کروناندھی کی حالت بگڑی –

چنئی (ایجنسیز) تملناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کروناندھی …

جواب دیں

%d bloggers like this: