سرورق / خبریں / علیحدگی پسندوں کیلئے کوئی مخصوص دعوت نامہ نہیں، وہ بحیثیت بھارتی شہری کبھی بھی مذاکرات کی میز پر آسکتے ہیں: جتیندر سنگھ

علیحدگی پسندوں کیلئے کوئی مخصوص دعوت نامہ نہیں، وہ بحیثیت بھارتی شہری کبھی بھی مذاکرات کی میز پر آسکتے ہیں: جتیندر سنگھ

جموں ، وزیر اعظم دفتر میں وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ کشمیری علیحدگی پسند قائدین اور پاکستان سے مذاکرات کے حوالے سے کوئی بھی فیصلہ قومی مفاد کو مدنظر رکھ کر ہی کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ علیحدگی پسند قائدین کو مذاکرات کے لئے کوئی مخصوص دعوت نامہ نہیں بھیجا جائے گا بلکہ بھارتی شہری ہونے کی حیثیت سے وہ کبھی بھی مذاکرات کی میز پر آسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان 1947 سے اپنی شرارتوں سے باز نہیں آیا ہے، لیکن بقول ان کے وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت والی بی جے پی سرکار گذشتہ چار برسوں سے پاکستان کی شرارتوں کا دندان شکن جواب دیتی آئی ہے۔ وزیر اعظم دفتر میں وزیر مملکت اور ادھم پور پارلیمانی حلقے سے بی جے پی رکن پارلیمان جتیندر سنگھ نے ان باتوں کا اظہار جمعہ کے روز یہاں بی جے پی حکومت کی چار سالہ حصولیابیوں پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ چار برسوں میں وادی کشمیر میں 600 جنگجوؤں کو ہلاک کیا جاچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وادی میں جنگجویت اپنی آخری سانسیں لے رہی ہے۔ نامہ نگار کے ایک سوال کہ ’اس کی کیا وجہ ہے کہ مودی حکومت اچانک مذاکرات کی باتیں کرنے لگی ہے‘ کے جواب میں ڈاکٹر جتیندر نے کہا ’کیا آج تک کوئی بات چیت ہوئی ہے؟ کیا گذشتہ دو تین برسوں کے دوران کوئی بات چیت ہوئی؟ بھارتی سرکار جو بھی فیصلہ لے گی، وہ قومی مفاد میں ہوگا۔ جس طرح کی کاروائی اب ہورہی ہے، بظاہر اب جنگجویت اپنی آخری سانسیں لے رہی ہے۔ اس کا احساس پاکستان کو بھی ہونے لگا ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ علیحدگی پسند قائدین کو مذاکرات کے لئے کوئی مخصوص دعوت نامہ نہیں بھیجا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا ’جہاں تک علیحدگی پسندوں کا تعلق ہے، وزیر داخلہ (راجناتھ سنگھ) نے کچھ ہی دن پہلے کہا کہ مذاکرات کے لئے ہر ایک کا خیرمقدم ہے۔ لیکن یہ کسی نے نہیں کہا کہ علیحدگی پسندوں کو دعوت نامہ بھیجنا ہے۔ بھارت کا کوئی بھی شہری آکر بات چیت کرسکتا ہے۔ اپنی بات سامنے رکھ سکتا ہے‘۔
جتیندر سنگھ نے ظاہری طور پر نیشنل کانفرنس کے صدر و رکن پارلیمان ڈاکٹر فاروق عبداللہ کے بیانات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ’کشمیر سے کوئی بلند لیڈر اٹھ کر کہتا ہے کہ پاکستان سے بات چیت کی جائے۔ ہم اس میں بہہ جاتے ہیں۔ بھارت کی سرکار وہی کرے گی، جو ملک کے مفاد میں ہوگا۔ جمہوریت میں ہر ایک کو اپنی بات سامنے رکھنے کا حق حاصل ہے۔ میں کسی کا نام نہیں لوں گا۔ کشمیر سے کوئی لیڈر کہتا ہے کہ پاکستان سے بات چیت کرو، کیاہم اس کے کہنے پر چلیں گے؟‘۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان 1947 سے اپنی شرارتوں سے باز نہیں آیا ہے، لیکن بقول ان کے بی جے پی سرکار گذشتہ چار برسوں سے پاکستان کی شرارتوں کا دندان شکن جواب دیتی آئی ہے۔ انہوں نے کہا ’پاکستان 1947 سے اپنی شرارتوں سے باز نہیں آیا ہے۔ لیکن اس بار جس طرح کی جوابی کاروائی ہوئی ہے، اس سے پاکستان کو کافی نقصان پہنچا ہے‘۔ جتیندر سنگھ نے کہا کہ مرکزی حکومت نے ایک اچھی نیت سے رمضان المبارک کے پیش نظر مشروط سیز فائر کا اعلان کیا لیکن جنگجوؤں نے رمضان المبارک کا کوئی احترام نہیں کیا۔ انہوں نے کہا ’یہ ایک مشروط سیز فائر ہے۔ اس کا اعلان ایک اچھی نیت سے کیا گیا۔ لیکن جب دوسری طرف سے مثبت ردعمل نہیں آیا، آپریشنز کو جاری رکھا گیا‘۔ وزیر مملکت نے کہا کہ گذشتہ چار برسوں میں وادی کشمیر میں 600 جنگجوؤں کو ہلاک کیا جاچکا ہے۔ انہوں نے کہا ’بی جے پی دُور حکومت میں وادی میں اب تک 600 جنگجوؤں کو ہلاک کیا جاچکا ہے۔
یہ تعداد یو پی اے اول اور یو پی اے دوم سے بہت زیادہ ہے۔ جہاں تک مذاکرات کی بات ہے، وزیر داخلہ گذشتہ برس تین دنوں تک یہاں موجود رہے۔ وہ مسلسل اس بات کو دہرا رہے ہیں کہ مذاکرات کے لئے ہر ایک کا خیرمقدم ہے۔ جب وہ گذشتہ برس جموں میں رہے تو 50 کے قریب وفود ان سے ملاقی ہوئے۔ سری نگر میں 70 سے 75 وفود ان سے ملاقی ہوئے۔ کسی کو ملاقات سے روکا نہیں گیا۔ اگر کوئی کہتا ہے کہ مجھے دعوت نامہ نہیں ملا، تو اس کا جواب ہے کہ کسی کو دعوت نامہ نہیں بھیجا گیا تھا۔ جب وزیر داخلہ کہتے ہیں کہ مذاکرات کے لئے ہر ایک کا خیرمقدم ہے تو دعوت ناموں کی ضرورت نہیں ہے‘۔ جتیندر سنگھ نے کہا کہ جموں وکشمیر میں حلقہ جات کی از سر نو حد بندی ایجنڈا آف الائنس کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہا ’حلقہ جات کی از سر نو حدبندی ایجنڈا آف الائنس کا حصہ ہے۔ حکومت کے پاس حدبندی نہ کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ اس لئے ایک کمیٹی تشکیل دی جانی چاہیے۔ میں نے یہ تجویز پہلے ہی پیش کی ہے‘۔ وزیر مملکت نے کہا کہ پی ڈی پی اور بی جے پی نے مخلوط حکومت نظریاتی ایجنڈوں کو یکطرف رکھ کر ترقیاتی ایجنڈے پر بنائی ہے۔ انہوں نے کہا ’ہر ایک مخلوط سرکار ایجنڈا آف الائنس پر چلتی ہے۔ دونوں جماعتوں نے اپنا نظریاتی ایجنڈا یکطرف رکھا اور اس ایجنڈا آف الائنس کو ترقی کی بنیاد پر مرتب کیا ‘۔
جتیندر سنگھ نے کہا کہ مودی حکومت کے چار برسوں کے دوران کسی بھی وزیر پر اسکام یا کرپشن کا الزام نہیں لگا۔ انہوں نے کہا ’اس حکومت کو معرض وجود میں آئے چار سال ہوگئے ہیں۔ اب تک مودی حکومت میں شامل کسی ایک بھی وزیر پر اسکام یا کرپشن کا الزام نہیں لگا ہے۔ جو اسکام اور کرپشن سکنڈل آج منظر عام پر آرہے ہیں، وہ سابقہ یو پی اے حکومت کی دین ہیں‘۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

مراٹھواڑہ میں زوردار بارش –

اورنگ آباد : مراٹھواڑہ میں اورنگ آباد ، عثمان آباد،لاتور ،ہنگولی ، پربھنی اور ناندیڑ …

جواب دیں

%d bloggers like this: