سرورق / خبریں / علاحدہ ریاست کی تجویز بے وقوفی ہے: سدارامیا

علاحدہ ریاست کی تجویز بے وقوفی ہے: سدارامیا

میسور: اکھنڈا کرناٹک ایکی کرنا ہوراٹا کا مطلب نہ جاننے والوں کی طرف سے علاحدہ ریاست کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔ اس طرح کے مطالبے کو ’’ فولیش آر گیومنٹ‘‘ ہی کہا جاسکتا ہے۔ یہ بات سابق ریاستی وزیر اعلیٰ سدارامیا نے کہی۔ میسور کے رام کرشنا نگر میں واقع اپنی رہائش گاہ پر انہوں نے اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ دکشن کنڑا۔اتر کنڑا کا کوئی فرق نہیں ہے، ایک ہی متحدہ کرناٹک ہے، مگر اکھنڈ کرناٹکا نرمانا، ایکی کرنا اور زبان کی بنیاد پر علاحدہ ریاست کی تشکیل کیلئے تحریک چلانا ٹھیک نہیں ہے۔ یہ نجی مفاد کے سوا کچھ نہیں ہے۔سدارامیا نے کہا کہ وہ خود شمالی کرناٹک کے بادامی اسمبلی حلقہ سے رکن اسمبلی منتخب ہوئے ہیں اور کبھی علاحدہ ریاست کا مطالبہ نہیں کریں گے۔اس معاملے میں بحث بے وقوفی کی دلیل ہے۔ انہوں نے کہا کہ بحیثیت وزیر اعلیٰ شمالی کرناٹک کی مجموعی ترقی کیلئے ہزاروں کروڑ روپئے کا فنڈ جاری کیا تھا، اس کے علاوہ آرٹیکل 371 جاری کر کے حیدرآباد کرناٹک علاقے کیلئے خصوصی فنڈ بھی فراہم کیا گیا تھا، 1500کروڑ روپئے خصوصی فنڈ دیا گیا تھا۔اس دوران سری راملو، امیش کتی نے کبھی کوئی مخالفت نہیں کی تھی مگر آج یہ لوگ علاحدہ ریاست کی تشکیل کی باتیں کررہے ہیں۔ سری راملو اور امیش کتی نے اپنے دور اقتدار میں شمالی کرناٹک کی ترقی کیلئے کیا کیا تھا اس کا جواب ریاست کے عوام کو دینا ہوگا۔ ننجنڈپا رپورٹ میں شمالی کرناٹک کے تعلقہ جات کو پسماندہ قرار دیا گیا ہے، اس کے تحت ان تعلقوں کی ترقی پر خصوصی توجہ دینی ہوگی۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

کروناندھی کی حالت بگڑی –

چنئی (ایجنسیز) تملناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کروناندھی …

جواب دیں

%d bloggers like this: