سرورق / بین اقوامی / عفرین : ترکوں کی پیش قدمی جاری،عام لوگوں کی ہلاکتوں میں اضافہ –

عفرین : ترکوں کی پیش قدمی جاری،عام لوگوں کی ہلاکتوں میں اضافہ –

دمشق/انقرہ، شورش زدہ شام کے علاقہ غوطہ میں جہاں ایک طرف بشار الاسد کی فوج اور ان کے حامی اندھادھند بمباری سے روزانہ درجنوں افراد ہلاک ہورہے ہیں ،وہیں دوسری جانب عفرین میں ترک افواج کی پیش قدمی جاری ہے ۔ترکوں کے حملہ میں کافی تعداد میں شہریوں کے مارے جانے کی اطلاعات مل رہی ہیں۔
اطلاعات کے مطابق شام کے علاقے عفرین میں ترکی کے فضائی حملوں میں متعدد عام شہری ہلاک ہو گئے ہیں۔ یہ شہری عفرین سے اپنی جان بچانے کے لیے بھاگے تھے۔ کردش میڈیا کا کہنا ہے کہ جمعہ کی رات درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے جبکہ برطانیہ میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم سیرین آبزرویٹری نے ہفتہ کو بھی مزید ہلاکتوں کی اطلاع دی ہے۔ ایک رہائشی نے بی بی سی کو بتایا کہ عفرین میں جمعہ کو گاڑیوں میں موجود افراد پر شیل برسائے گئے جبکہ فضائی حملوں میں ایک ہسپتال کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ اطلاعات کے مطابق عفرین سے کم سے کم 150,000 شہری نقل مکانی کرچکے ہیں۔
دوسری جانب ترکی نے شام کے علاقے عفرین میں عام شہریوں کو نشانہ بنانے کی تردید کی ہے تاہم عفرین کی ایک رہائشی خاتون رانیہ کا کہنا ہے ترکی کی جانب سے داغے جانے والے شیلوں نے گاڑیوں میں موجود عام شہریوں کو نشانہ بنایا۔ ان کا مزید کہنا تھا’’وہاں ہر جانب لاشیں ہی لاشیں تھیں۔‘‘ رانیہ کے بقول ’’رات کو فضائی حملوں میں عفرین کے اسپتال کو نشانہ بنایا گیا، وہاں پر بہت سے متاثرین تھے جبکہ شدید بمباری کی وجہ سے لوگوں کو لاشیں نہیں مل سکیں، کچھ لاشیں اب بھی سٹرک پر موجود ہیں۔‘‘
برطانیہ میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم سیرین آبزرویٹری کا کہنا ہے کہ عفرین کے اسپتال میں 16 افراد ہلاک ہوئے۔کردش ریڈ کریسنٹ کے ایک اہلکار نے اے ایف پی کو بتایا’ ’عفرین میں کام کرنے والا یہ واحد اسپتال تھا۔‘‘ترکی نے شام کے علاقے عفرین کے اسپتال کو نشانہ بنانے کی تردید کی ہے۔ ترکی نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اس نے گذشتہ دو ماہ سے جاری آپریشن میں عام شہریوں کو نقصان نہیں پہنچایا ہے۔ترکی کی فوج نے ہفتہ کو عفرین کے اسپتال کی فضائی تصاویر پیش کیں جو اس کے بقول یہ ثابت کرتی ہیں کہ یہ اطلاعات جھوٹی ہیں۔ترکی کے صدر رجب طیب اردوگان نے اشارہ دیا ہے کہ ان کی افواج عفرین کے قریب پہنچ چکی ہیں۔ ادھر شام کے علاقے مشرقی غوطہ میں بھی حالیہ دنوں کے دوران ہزاروں افراد اپنی جان بچانے کے لیے نکلے ہیں۔
مشرقی غوطہ میں حکومتی افواج نے دوبارہ شدید بمباری شروع کی ہے اور اطلاعات کے مطابق حکومت نے 70 فیصد علاقے پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ مشرقی غوطہ میں موجود باغیوں کا تعلق کسی ایک گروہ سے نہیں بلکہ یہ کئی چھوٹے گروہ ہیں جن میں جہادی بھی شامل ہیں۔ یہ گروہ آپس میں بھی لڑ رہے ہیں اور اس کا فائدہ شامی حکومت کو ہوا ہے۔ شام میں جاری جنگ کے سات سال مکمل ہونے کے موقعے پر پناہ گزینوں کے امور سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے نے گذشتہ روز اسے ایک انتہائی شدید انسانی المیے کے طور پر بیان کیا ہے۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

کروناندھی کی حالت بگڑی –

چنئی (ایجنسیز) تملناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کروناندھی …

جواب دیں

%d bloggers like this: