سرورق / خبریں / عام انتخابات سے قبل مودی کے خلاف اپوزیشن کا زبردست اتحاد کمارسوامی کی حلف برداری تقریب میں 13سیاسی پارٹیوں کے سربراہ کی شرکت –

عام انتخابات سے قبل مودی کے خلاف اپوزیشن کا زبردست اتحاد کمارسوامی کی حلف برداری تقریب میں 13سیاسی پارٹیوں کے سربراہ کی شرکت –

بنگلورو۔(ڈیلی پاسبان)ایچ ڈی کمارسوامی نے چہارشنبہ کی شام کرناٹک کے 24 ویں وزیراعلیٰ کے طورپر حلف لیا ۔ ان کے ساتھ کانگریس کے ریاستی صدر جی پرمیشور نے بھی نائب وزیراعلیٰ کی حیثیت سے حلف لیا ہے ۔ کمارسوامی کی حلف برداری تقریب نے نہ صرف ریاست کے سیاست میں ایک نیا طوفان برپا کیا ہے بلکہ اس تقریب نے 2019 میں ہونے والے لوک سبھا انتخابات میں مودی مخالف محاذ کی ایک واضح تصویر بھی ملک کے سامنے پیش کردی ہے ۔ جہاں سونیا گاندھی، مایاوتی اورممتابنرجی سمیت 13 ریاستی وقومی سیاسی پارٹیوں کے سربراہ نے مودی کے خلاف ایک آواز میں ہلہ بول کر اتحاد کا ثبوت دیا ہے ۔ اس تقریب میں ملک کی تقریباً تمام اپوزیشن پارٹیوں کا اتحاد نظر آیا ۔ حالانکہ سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ کیا 2019 تک یہ اپوزیشن اتحاد قائم رہے گا کیونکہ گزشتہ دنوں تلنگانہ وزیر اعلیٰ کے چندر شیکھر راؤ کانگریس سے علاحدہ ایک تیسرا محاذ بنانے کا ارادہ ظاہر کرچکے ہیں جس پر حزب اختلاف نے پہلے ہی سے دورائیں موجود ہیں ۔ کچھ پارٹیاں کانگریس سے الگ ہوکر تیسرا محاذ بنانے پر مصر ہیں تو کچھ اپوزیشن پارٹیاں کانگریس کے بغیر تیسرے محاذ کا تصور بھی نہیں کرتیں ۔ اس اٹھا پھٹک کے درمیان بنگلورو کی سرزمین پر نئے منتخب وزیراعلیٰ کی حلف برداری تقریب میں حزب اختلاف کی 13 پارٹیوں کا ایک ساتھ آنا مودی کے خلاف تو سمجھ میں آتا ہے لیکن تیسرے محاذ کے قیام پر اتحاد ہونا یہ موجودہ دورمیں مشکل لگتا ہے ۔ جنتادل (یو) سے الگ ہوکر مودی کے خلاف مورچہ کھولنے والے سینئر سیاسی لیڈر شردیادو نے گذشتہ دنوں بہت ہی واضح طورپرکہا تھاکہ تیسرے محاذ کی 2019 سے قبل قطعی ضرورت نہیں ہے بلکہ وقت کا تقاضا یہ ہے کہ تمام سیکولر پارٹیاں فرقہ پرست پارٹی کے خلاف 2019میں ہونے والے عام انتخابات میں ایک ساتھ کھڑے ہوجائیں ۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو مودی اور آر ایس ایس نظریہ کو ہرانا آسان ہوگا ورنہ مشکل۔ کمارسوامی کی حلف برداری تقریب میں یوپی اے کی چیرپرسن سونیا گاندھی، کانگریس کے صدر راہل گاندھی، مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتابنرجی ،سماجوادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو، بہوجن سماج پارٹی کی صدر مایاوتی ،راشٹریہ جنتادل کے لیڈر تیجسوی یادو ،آندھرا پردیش کے وزیر اعلیٰ چندرابابونائیڈو، سی پی ایم کے سیتارام یچوری، آر ایل ڈی سربراہ اور سابق مرکزی وزیر اجیت سنگھ، رکن راجیہ سبھا شردیادو سمیت تمام حزب اختلاف کے بڑے لیڈرکرناٹک کے اس سیاسی حلف برداری منچ پر اپنے اتحاد کا پیغام دیتے نظر آئے ۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

کروناندھی کی حالت بگڑی –

چنئی (ایجنسیز) تملناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کروناندھی …

جواب دیں

%d bloggers like this: