سرورق / خبریں / طلاق کے بعد میاں بیوی دوبارہ مل گئے بچی کو غائب کرنے پرشوہر کے خلاف عصمت دری کی شکایت-

طلاق کے بعد میاں بیوی دوبارہ مل گئے بچی کو غائب کرنے پرشوہر کے خلاف عصمت دری کی شکایت-

بنگلور( پی ین ین ):۔کے آر پورم پولیس تھانہ میں ایک عجیب و غریب معاملہ سامنے آیا ہے پولیس نے بتایا کہ روی نامی ایک نوجوان اور ایک لڑکی دیویا رانی نے محبت کی شادی کی تھی اور ایک بچی بھی پیدا ہوئی ہے اور میاں بیوی کے درمیان اختلافات اوران بن ہونے کی وجہ سے طلاق ہوجاتا ہے ۔تین سال بعد دونوں کو اپنی غلطی کا احساس ہوتا ہے اور دونوں ایک ساتھ گزارہ کرتے ہیں اور یویا رانی دوبارہ بچی کو جنم دیتی ہے۔ شوہر نے پہلی لڑکی کو غائب کرنے پر شوہر کے خلاف عصمت دری اور دھوکہ دینے کی شکایت درج کراری ہے ۔دیویا رانی صرف شوہر کے علاوہ اس کے خاندان کے چار افراد کے خلاف بھی شکایت درج کرائی ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ روی اور دیویا رانی نے 14مارچ 2007کو محبت کی شادی کی تھی ۔چند دنوں بعد دونوں کے درمیان اختلافات اور ان بن ہونے کے بعد وہ 7ماہ کی بیٹی کے ساتھ میکے چلی گئی اور سال 2009 میں طلاق ہوگیا۔روی نے بیٹی کو بیوی کے حوالے کرنے اور طلاق دینے کے لئے راضی ہوگیا اور دونوں کے درمیان طلاق کے بعد الگ رہنے لگے ۔سال 2013میں روی نے دیویا رانی سے ملاقات کی اور تمام اختلافات کو بھلا کر دوبارہ ساتھ رہنے کی بات سامنے رکھی ۔دونوں رام مورتی نگر میں ایک کرائے کا مکان لیکر رہنے لگے ۔پہلی بیٹی کے مستقبل کو سنوارنے اور اسے عمدہ تعلیم دینے کے بہانے ساتھ لے گیا اور ابھی تک کہیں غائب کرکے رکھا ہے ۔روی نے کئی مرتبہ دیویا رانی سے زبردستی کی جس کی وجہ سے دیویا رانی نے 20مارچ 2017کو ایک لڑکے کو جنم دیا۔ خاندان چلانے کے لئے روی نے رقم دینے سے انکار کردیا اور وہ مجبور ہوکر ملازمت کرنے لگی اور روی اس پر ظلم کرکے تنخواہ چھین کر اس کی خوب پٹائی کرتا تھا۔ روی نے دیویا رانی کو دوبارہ نظر انداز کرنے پر وہ دوبارہ میکے چلی گئی۔اب دیویا رانی نے شوہر کے خلاف عصمت دری اور دھوکہ دینے کی شکایت درج کرائی ہے۔پولیس نے بتایا کہ طلاق کے بعد دوبارہ شادی کئے ایک ساتھ گزارہ کرنے سے لڑکا ایک ناجائز اولاد ہے اب یہ سنگین معاملہ حل کرنے کے لئے پولیس ماہرین قانون سے مشورہ حاصل کررہی ہے۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

کروناندھی کی حالت بگڑی –

چنئی (ایجنسیز) تملناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کروناندھی …

جواب دیں

%d bloggers like this: