سرورق / خبریں / ضمیر احمد خان کا کمار سوامی کو چیلنج ہنگامہ کون کرے گااور رسوا کن شکست کا سامنا کسے کرنا پڑے گا،اس کا فیصلہ آنے والا وقت ہی کرے گا-

ضمیر احمد خان کا کمار سوامی کو چیلنج ہنگامہ کون کرے گااور رسوا کن شکست کا سامنا کسے کرنا پڑے گا،اس کا فیصلہ آنے والا وقت ہی کرے گا-

میسور یکم اپریل ( نامہ نگار)کسی خاص مسئلے پر بحث کرنے کے لئے وزیر اعلیٰ سدارامیا کی دعوت پر بنگلور کے اسمبلی حلقہ چامراج پیٹ کے سابق رکن اسمبلی بی زیڈ ضمیر احمد خان وزیر اعلیٰ سدارامیا سے ملاقات کرنے کل بروز ہفتہ میسور پہنچے۔ اور وزیر اعلیٰ سدرامیا سے ملاقات کے بعد نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے ضمیر احمد خان نے بتایا کہ حال ہی میں میسور کے راجیو نگر علاقے میں جنتا دل ( یس ) کی جانب سے منعقد کردہ ایک انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیر اعلیٰ و ریاستی جنتا دل ( یس ) کے صدر ہچ ڈی کمار سوامی نے ان پر بے بنیاد الزامات لگائے تھے اور کہا کہ ضمیر احمد خان ایک ہی نمبر کی دو بسوں کو چلانے والے ہیں ۔ اس پر ضمیر احمد خان نے بتایا کہ اس بس کے مالک وہ نہیں تھے بلکہ انکے چچا نور اللہ خان تھے اور صرف ایک نمبر کی دو بسوں کو نہیں چلایا گیا بلکہ بس حادثہ کے بعد جو اسپیر بس ہوتی ہے اس بس کو حادثہ ہونے والی بس کا نمبر لگاکر دوڑایا گیا اور بعدمیں ایک مقدمہ دائر کیا گیا اور عدالت نے انہیں کلین چٹ بھی دی تھی ۔ یہ معاملہ ہوکر ایک سال سے زائد کا عرصہ گزر گیا ہے۔ اتنے دن خاموش رہ کر اس معاملہ کو اب اٹھانے سے کوئی فائدہ نہیں ہے صرف انہیں سیاسی طور پر بدنام کرنے کی کمار سوامی کی ایک شرارت ہے۔ میری نیک نامی کے لئے کمار سوامی جیسے قائد سے سرٹی فکیٹ کی کوئی ضرورت نہیں ہے میری قوم کی دعائیں ہی میرے لئے کافی ہیں۔اس موقع پر ضمیر احمد خان نے بتایا کہ ہندو رسم و رواج کے تحت کمار سوامی بیک وقت ایک ہی شادی کرسکتے ہیں اور ایک ہی بیوی کے ساتھ زندگی بسر کرسکتے ہیں لیکن کمار سوامی تو اپنے ہی مذہب کی توہین کرتے ہوئے دو دو بیویوں کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں اس کے بارے میں کمار سوامی وضاحت پیش کریں اور صفائی پیش کریں۔ کمار سوامی یہ بھول رہے ہیں کہ بی بی یم پی میں کوڑا کرکٹ صاف کرنے کے کنٹراکٹ میں 70فیصد کمیشن کے طور پر جو لوٹ کررہے ہیں اس کا جواب کون دے گا۔ اسی طرح کمار سوامی کے اور بھی معاملات ہیں اور بتاتا جاؤں تو ایک لمبی فہرست بن جائے گی ۔میسور میں چائے فروخت کرنے کے معاملے کو کمار سوامی نے ناٹک قرار دیا ہے اور غریبوں کی مدد کرنے اور وہ بھی ایک معذور کی مالی امداد کرنا ایک ناٹک تھا تو میں ہر دن اورہر پل ایسے ناٹک کرنے پر فخر محسوس کروں گا۔ کمار سوامی کو تو صرف تجوریاں بھرنا آتا ہے لیکن میں میری کمائی کا آدھے سے زائد حصہ ضرورت مند ، غریب اور لاچاروں کو دیتا ہوں یہ کوئی سستی شہرت و شعبدہ بازی نہیں ہے ۔میرے اللہ اور میرے رسول ؐ کو خوش کرنے اور آخر ت کو سنوارنے کے لئے کرتا ہوں اور یہ سب باتیں کمار سوامی کو کیسے سمجھ میں آئیں گی۔ کمار سوامی نے اس جلسے میں بتایا تھا کہ انہوں نے مجھے سیاست سکھائی تھی تو میرا کہنا یہ ہے کہ سال 2004 میں ایک ساتھ اور کمار سوامی نے پہلی مرتبہ اسمبلی انتخابات میں حصہ لیا تھا اور شری کمار سوامی جیت گئے تھے اور میں ہار گیا تھا اور یہ اوپر والے کا فیصلہ تھا ۔ میری تقدیر کا فیصلہ تو میرا مالک کرے گا۔کوئی اور نہیں۔ کمار سوامی تو ہر گز نہیں۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

کروناندھی کی حالت بگڑی –

چنئی (ایجنسیز) تملناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کروناندھی …

جواب دیں

%d bloggers like this: