سرورق / خبریں / ضمنی الیکشن میں بی جے پی کا ریکارڈ رہا ہے خراب، صرف 23 لوک سبھا سیٹوں میں جیتی چار

ضمنی الیکشن میں بی جے پی کا ریکارڈ رہا ہے خراب، صرف 23 لوک سبھا سیٹوں میں جیتی چار

نئی دہلی، ملک کی 11 ریاستوں میں چار لوک سبھا اور دس اسمبلی سیٹوں کے لیے ہوئے ضمنی انتخابات کے بعد ووٹوں کی گنتی جاری ہے۔ گزشتہ دنوں بی جے پی صدر امت شاہ نے کہا تھا کہ ریاستی انتخابات جیتنے سے بڑا نہیں ہے ضمنی انتخابات میں ہارنا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ضمنی انتخابات کے نتائج حکمراں پارٹی کے لئے ساکھ کی لڑائی ہے۔
اس سال مارچ میں اتر پردیش میں ہوئے ضمنی انتخابات میں بی جے پی کو بڑا جھٹکا لگا تھا۔ وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کے علاقے گورکھپور اور نائب وزیر اعلی کیشو پرساد موریہ کی الہ آباد میں پھول پور سیٹ پر بی جے پی کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بی جے پی کو بہار کے ارریہ میں لوک سبھا کے ضمنی انتخابات میں بھی شکست جھیلنی پڑی۔ اس سیٹ پر آر جے ڈی کو ایک بار پھر سے کامیابی ملی۔ 2014 کے عام انتخابات میں تاریخی فتح کے بعد گزشتہ چار سالوں میں بی جے پی کی کارکردگی میں بھاری کمی آئی ہے۔ بی جے پی کو 2014 سے لے کر مارچ 2018 کے درمیان 23 لوک سبھا ضمنی انتخابات میں سے صرف 4 سیٹوں پر کامیابی ملی ہے۔
دو ہزار چودہ کے بعد سے لے کر اب تک کانگریس کو ضمنی انتخابات میں 5 لوک سبھا نشستوں پر جیت ملی ہے۔ ان پانچ نشستوں میں سے کانگریس نے امرتسر لوک سبھا نشست کو برقرار رکھا اور باقی بی جے پی سے چار نشستیں چھین لیں۔ گزشتہ چار سالوں میں کانگریس نے کسی بھی پارٹی کے مقابلہ لوک سبھا کے ضمنی انتخابات میں سب سے زیادہ نشستیں حاصل کی ہیں۔ اس کے بعد بی جے پی اور ترنمول کانگریس کی باری آتی ہے۔ گزشتہ چار سالوں میں دونوں پارٹیوں کو ضمنی الیکشن میں چار۔ چار سیٹوں پر جیت ملی ہے۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

کروناندھی کی حالت بگڑی –

چنئی (ایجنسیز) تملناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کروناندھی …

جواب دیں

%d bloggers like this: