سرورق / بین اقوامی / صدام حسین ایک دور اندیش حکمران جو کامیاب نہ ہو سکا –

صدام حسین ایک دور اندیش حکمران جو کامیاب نہ ہو سکا –

یہ کچھ واقعات ہیں جنہیں عرب نہیں بلکہ اسرائیلی پچیس سال بعد عوام کے سامنے لائے ہیں۔یہ تمام واقعات اردو اور عربی میں نہیں بلکہ انگریزی میں موجود ہیں جنہیں میں سلسلہ وار لکھتا جاؤں گا۔ 27.6.1976 کو تل ابیب سے پیرس جانے والی ہوائی جہاز کو PFLP کے فلسطینیوں نے راستے میں اغوا کر لیا اور سیدھے یوگنڈا لے گئے اور ین ٹبے ایر پورٹ پر اتار دیا۔ اس میں بہت سارے اسرائیلی مسافر تھے۔اغواکاروں نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ انکی رہائی کے بدلے اسرائیل عرب قیدیوں کو رہا کر دے۔ اس ا غوا کا ماسٹر مائنڈڈاکٹر وادی حداد تھاجو PFLP کا چیف تھا۔اسرائیل نے پانچ ہزار میل کی دوری ہونے کے باوجود ین ٹبے ایر پورٹ پر حملہ کر کے تمام مسافروں کو چھڑا لے گئے۔اب ڈاکٹر حداد کو یقین ہو گیا کہ اسرائیلی اسے ڈھونڈیں گے اور مار دیں گے ۔اسلئے وہ بغداد آ گیا اور اسرائیل کے خلاف بہت سارے حملوں کا پلان کر نے لگا۔اسکے چلتے اسرائیل نے حداد کو قتل کر نے کا مصمم ارادہ کر لیا ۔انہوں نے ڈاکٹر حداد کی کمزوریاں جاننے کے لئے خود فلسطینیوں میں کچھ ایجنٹ ملازمت پر رکھ لئے۔ ڈاکٹر کا ایک قریبی ساتھی غدار نے اسرائیل کو بتا دیا کہ ڈاکٹر کو بلجیم کے بنائے ہوے چاکلیٹ کھا نے کا بہت شوق ہے۔اسرائیلی وزیر اعظم مناچن بیگن نے یہ آپریشن Yetzhak Hofi کو سونپ دیا جس نے ڈاکٹر حداد کے ایک قریبی فلسطینی ساتھی کے ذریعہ بلجیم کے بہترین چاکلیٹ منگوائے اور اسکی کریم پر زہر چھڑک کر ڈاکٹر کو تحفہ کے طور پر پہنچا دیے۔ڈاکٹر وہ چاکلیٹ کھا نے کے بعد بیمار ہو گیا اور دن بہ دن کمزور ہو نے لگا ۔ ڈاکٹر اس کی بیماری کا پتہ نہ لگا سکے اور وہ 30.3.1978 کو مر گیا۔ یاسر عرفات کو بھی کچھ اسی طرح عرب غداروں کے ذریعہ مار دیا گیا مگر شک کی سوئی کبھی اسرائلی جاسوسی ایجنسی موساد پر نہ جا پائی۔
پہلی جنگ عظیم جرمنی کے خلاف فرانس اور انگلینڈ نے مل کر2014 سے 2018 تک لڑی۔فرانس کا شہر پیرس میدان جنگ سے150 میل دوری پر تھا اور اسے جنگ کے دوران کوئی خطرہ نہیں تھا۔مگر 28.3.1918 کو پیرس کے بیچوں بیچ صبح سویرے ایک بہت بڑا بم کا گولہ گرا جس میں آٹھ آدمی ہلاک ہو گئے اور کئی زخمی ہو گئے اور کئی عمارتیں بھی تباہ ہو گئیں ۔ پیرس کی عوام ایک دم خوفزدہ ہو گئی ۔ حکام نے فورا شہر کے اطراف کے جنگلوں میں تلاش کر نا شروع کر دیا ۔شک یہ تھا کہ کہیں جرمن توپ خانہ پیرس کے قریب آ گیا ہو۔تلاش بے سود ثابت ہوئی۔ کوئی طیارہ بھی نظر نہیں آیا تھا۔چھ دن بعد ایک اور بم کا بڑا گولا پیرس میں ایک چرچ پر گرا جس میں کئی آدمی مارے گئے اور سو سے زیادہ زخمی ہو گئے ۔تعجب تھا کہ150 میل کی دوری سے جرمن سپاہی کیسے بم پھینک سکتے ہیں ۔ اسی سال یہ جنگ جرمنی کی شکست سے ختم ہو گئی ۔اب آہستہ آہستہ انفرمیشن آنے لگا کہ یہ ایک جرمن سوپر گن تھی جسے جرمنی کے ایک انجینئر مسٹر کروپ نے Krupp heavy weapons industry نامی کمپنی کے ذریعہ بنائی تھی ۔ اس زمانے میں توپ زیادہ سے زیادہ بیس میل دور مار کر سکتے تھے مگر یہ سوپر گن 150 میل دور تک مار کر تی تھی۔ اسے 80 سپاہی چلاتے تھے اور ریل کے ذریعہ ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جایا جا تا تھا۔انکی تعداد تین تھی جن میں سے ایک کو برٹش ایر کرافٹ نے نشانہ بنا دیا تھا جبکہ دو لا پتہ ہو گئے۔یہ راز ہمیشہ کے لئے راز ہی رہا مگر 1968 میں ایک بوڑھی جرمن عورت جرمنی سے کینڈا آئی اور اپنے ساتھ چند کاغذات لائی اور وہاں کے 38 سالہ ریسرچ اسکالر جیرالڈبْل کے حوالے کر دی۔ان کاغذات میں سوپر گن کے متعلق معلومات تھیں۔ جیرالڈ بْل نے اس فارمولے پر کام کرنا شروع کر دیا اور وہ ایک ایسی توپ بنانا چاہتا تھا جو میلوں دور تک مار کر سکے اور سیٹالائٹ خلا میں پہنچا سکے۔بْل نے کینڈا اور امریکہ کی مالی مدد سے ایک توپ بنائی جسکی لمبائی 31 میٹرس تھی اور جو 230 میل دور تک مار کر سکتا تھا۔اس توپ کو باربوڈاس میں ٹسٹ کیا گیا ۔ چند سال بعد دونوں ممالک نے اقوام متحدہ کے ڈر سے اس پروجکٹ سے اپنے ہاتھ اٹھا لئے۔اب وہ خود ہی اس پروجکٹ پر کام کر نے لگا جس کے لئے کینڈا کی حکومت نے اس پر 55 ہزار ڈالر کا جرمانہ عائد کر دیا۔ 1980 میں اسکی ملاقات عراق کے ڈکٹیٹر صدام حسین سے ہو گئی جو ایران کے خلاف جنگ میں مشغول تھے۔ بْل نے انہیں دو سو میل دور تک مار کرنے والے توپ سپلائی کیے۔عراق کے نیوکلیر پلانٹ کو جب اسرائیل نے تباہ کر دیا تو صدام حسین نے دور تک مار کر نے والے توپ بنانے کے منصوبے بنا تے رہے۔بْل نے عراق کے لئے دور تک مار کر نے والے توپ بیبلان Babylon بنانی شروع کر دی۔اس نے دو قسم کے توپ بنائے اور انکے نام المجنون اور القاو رکھا۔ روس کے دیے گئے اسکڈ میزائلس کی رینج بھی اس نے بڑھا دی ۔ یہ بات جب اسرائیلی انٹلیجنس ایجنسی موساد کو معلوم ہوئی تو انہوں نے بْل کو وارننگ دی کہ وہ یہ کام بند کر دے ۔ مگر بْل نے اسکی پرواہ نہیں کی اور اپنے کام میں لگے رہے۔ پہلے تو اسرائیل نے وارننگ کے طور پر برسیلس میں انکے گھر گھس کر تمام سامان توڑ پھوڑ دیا جو ایک وارننگ تھی کہ وہ کچھ بھی کر سکتے ہیں ۔ جب بْل نے پھر بھی نہیں مانا تو 28.3.1990میں کسی نا معلوم شخص نے انکے گھر آ کر انہیں گولی مار دی ۔ اس طرح سوپر گن کا صدام حسین کا خواب پورا نہ ہو سکا۔صدام حسین ایک دور اندیش انسان تھے اور وہ بیت المقدس کو آزاد کرانے کے خواہشمند تھے مگر خود مسلم ممالک نے انکا ساتھ نہیں دیا۔صدام کے انتقال کے بعد مغربی ممالک کو بغداد سے تیس میل دور بے شمار زنگ آلود اسٹیل پائپ ملے جو سوپر گن بنانے میں استعمال ہونے والے تھے۔یہاں غور طلب بات یہ ہے کہ جب عرب انجینئرس نے مسٹر بْل کے ساتھ برسوں کام کیا تو انہوں نے بْل سے وہ سب کیوں نہیں سیکھا جو بْل کر تے تھے۔ کیا بْل کے پاس کوئی ایسا دماغ تھا جو عربوں کے پاس نہیں تھا۔عربوں نے مغربی ممالک میں تعلیم حاصل کر نے کے باوجود کوئی ریسرچ نہیں کی اور نہ ہی کوئی دریافت کی۔ مغربی ممالک اور اسرائیل اپنی پیداوار کا دس فیصد حصہ ریسرچ پر خرچ کر تے ہیں جبکہ عرب ممالک صرف 0.02 فیصد سے زیادہ خرچ نہیں کر تے۔اپنی ساری دولت صرف عیش و عشرت پر خرچ کر تے ہیں۔اسرائیل ایک چھوٹا سا ملک ہے مگر وہ ہر میدان میں عربوں سے آگے ہے ۔ بنجامن نتن یاہو نے اقوام متحدہ میں کہا کہ آپ کسی بھی چیز کا نام لیجیے اور کسی بھی ساینٹفک دریافت کی بات کیجیے وہ سب ہمارے پاس ہے ۔ ہم آپکو ہر میدان کی جانکاری دے سکتے ہیں۔ عرب سوائے عیش کر نے کے ہر میدان میں ناکام ہیں ۔ صرف فلسطینی اور ایرانی جد و جہد میں لگے ہوئے ہیں۔ ایسا کیوں ہے اس پر غور و خو کر نا دنیا کے ہر مسلمان کا فرض ہے ۔قرآن سے بڑھ کر حکمت اور دانائی کی کتاب دنیا بھر میں کوئی نہیں ہے ۔ مگر ہم نے صرف رسومات کو لے لیا اور قرآن کی روح کو نظر انداز کر دیا۔نماز میں کیا پڑھ رہے ہیں اسکا مطلب معلوم نہیں ، اللہ کیا ہدایات دے رہا ہے معلوم نہیں ۔ سب اٹھک بیٹھک کر رہے ہیں ، عربی زبان میں دعائیں کر رہے ہیں معنی معلوم نہیں ، کیا مانگ رہے ہیں پتہ نہیں ، اللہ کیا کر نے کے لئے کہہ رہا ہے معلوم نہیں ۔ ہم جب تک سادگی اختیار نہیں کریں گے اور جد و جہد نہیں کریں گے ، ریسرچ نہیں کریں گے ، ایجادات نہیں کریں گے ، مطالعہ وسیع نہیں کریں گے ، غور و فکر نہیں کریں گے اور ٹھوس کام نہیں کریں گے تمام عبادات، ذکر و ازکار اور دعائیں سوائے رسومات اور بدنی اور زبانی عبادات کے اور کچھ نہیں۔ سوچنا یہ ہے کہ ہم چار سو سال پہلے کامیاب اور سرخرو کیوں تھے اور آج کیوں نہیں ہیں اور اسکے لئے ذمہ دار کون ہیں۔ذرا سوچو اگرعربوں کے پاس اسرائیل سے بہتر ہتھیار ہو تے ، نیو کلیر ہتھیار ہوتے اور سر فروشی کی تمنا رکھنے والے سپاہی ہو تے تو کیا اسرائیل ہمیں کچل سکتا تھا اور کیا مغربی ممالک ہمیں ڈرا سکتے تھے۔خود کمزور ہیں اور دوسروں سے کہہ رہے ہیں کہ ہمارے ساتھ انصاف کرو۔روس دوستی کی آڑ میں اور مغربی ممالک انصاف پسندی کی آڑ میں عربوں کو کمزور کرنے اور نقصان پہنچانے میں مصروف ہیں۔ یہ سوچ اور یہ خیالات ہر مسلمان بچے اور نوجوان میں ہو نا چاہئیں چاہے وہ مدرسے کا فارغ ہو یا کالج کا۔۔۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

کروناندھی کی حالت بگڑی –

چنئی (ایجنسیز) تملناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کروناندھی …

جواب دیں

%d bloggers like this: