سرورق / خبریں / شیشے کی کھڑکیوں پر سے اشتہارات ہٹانے بی ایم ٹی سی کا فیصلہ مسافروں نے راحت کی سانس لی –

شیشے کی کھڑکیوں پر سے اشتہارات ہٹانے بی ایم ٹی سی کا فیصلہ مسافروں نے راحت کی سانس لی –

بنگلور۔بی ایم ٹی سی بسوں کی دونوں جانب کھڑکیوں کے اوپر لگائے جانے والے اشتہارات مسافرین کے لئے پریشانی کا باعث رہے ہیں۔روزانہ شہر میں بی ایم ٹی سی کی 6,155 بسیں چلتی ہیں اور 74,292 اسفار کے ذریعہ 11 لاکھ72 ہزار کلو میٹر کا سفر طے کرکے 50 لاکھ دو ہزار افراد کو ان کی منزل تک پہونچاتی ہیں۔لیکن بی ایم ٹی سی کی ان بسوں میں دونوں جانب لگے ہوئے اشتہارات کی مہربانی سے مسافر اپنی منزل کو پہچاننے میں کافی دشواریاں محسوس کر تے ہیں۔جو مسافر نشستیں حاصل کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں ان کے لئے تو یہ دوہرا عذاب ہے، یہ مسئلہ اس وجہ سے بھی زیادہ پریشانی کا باعث بنا ہوا ہے کہ شہر میں چلنے والی اکثر بسوں میں صوتی اور بصری (Audio-visual ) اعلانات کی سہولت بھی نہیں پائی جاتی ۔بی ایم ٹی سی کی ایک مسافر ونیتا ایم کا کہنا ہے کہ’’بی ایم ٹی سی اپنے مسافروں سے ملک بھر میں سب سے زیادہ قیمت وصول کرتی ہے لیکن ان بسوں میں کھڑے ہو کر سفر کرنے والوں کو ، بس کے دونوں جانب اشتہارات کی وجہ سے ان کی منزل والا اسٹاپ نظر ہی نہیں آتا، یہ بات ٹھیک نہیں ہے‘‘۔اکثر صارفین کو شکایت ہے کہ صوتی اور بصری اعلانات کی سہولت صرف اے سی بسوں تک محدود ہے۔شیواجی نگر کے ساکن اور اکثر بی ایم ٹی سی بس میں سفر کرنے والے راما گوڈا کا کہنا ہے کہ ’’اس کی وجہ سے مسافروں کو پریشانی ہوتی ہے، خصوصاً جو لوگ باہر سے آئے ہوئے اور شہر میں نئے ہوتے ہیں ان کے لئے تو بہت زیادہ پریشانی ہوتی ہے۔انہیں بار بار کنڈکٹر یا دوسرے مسافروں سے پوچھتے رہنا پڑتا ہے کہ فلاں مقام آگیا یا نہیں‘‘۔مئی 2016 میں بی ایم ٹی سی نے انٹلیجنس ٹرانسپورٹ نظام کا اجراء کیا تھاجس کے ذریعہ مسافر حقیقی اوقات کی بنیاد پر بسوں کی آمد و رفت سے واقفیت حاصل کر سکتے تھے۔لیکن اکثر بسوں میں اب بھی داخلی آڈیو نظام نہیں لگایا گیا ہے جس کے ذریعہ اگلے بس اڈے کا اعلان کیا جا سکتا ہے،بس اڈوں کے اعلان کی یہ سہولت معذورین کے لئے بھی مفید ہوتی ہے۔بسوں کی دونوں جانب اشتہارات کے سلسلہ میں بی ایم ٹی سی کے ایک اعلیٰ افسر نے اعتراف کیا کہ اس کی وجہ سے صارفین کو پریشانی ہو رہی ہے۔افسر نے بتایا کہ ’’ہم نے بعض کمپنیوں کو بسوں کے دونوں جانب اور پچھلے حصہ میں اشتہارات لگانے کے لئے ٹھیکہ دیا ہوا ہے، اس ٹھیکہ کی مدت سال 2018 میں ختم ہونے والی ہے، اس کے بعد مستقبل میں ہماری جانب سے ایسا کوئی منصوبہ نہیں ہے کہ دوبارہ بسوں کی دونوں جانب اشتہاات لگانے کی اجازت دی جائے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ’’ اکثر اے سی بسوں میں صوتی و بصری اعلانات کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔بعض معمولی بسوں میں بھی اگلی منزل سے متعلق جان کاری دینے کے لئے اعلانات کا انتظام کیا گیا ہے اور ہم لوگ اس سہولت کو مزید بسوں میں وسعت دینے کے معاملہ پر غور کر رہے ہیں‘‘۔مسلسل چار پانچ مہینوں سے مسافرین کے احتجاجات کے بعد اب بی ایم ٹی سی نے کھل کر یہ اعلان کر دیا ہے کہ آئندہ وہ بسوں میں کی دونوں جانب اشتہارات کا موقع فراہم نہیں کریگا اس پر روزانہ بسوں میں سفر کرنے والے کئی افراد نے خوشی اور اطمینان کا اظہار کیا ہے، البتہ بی ایم ٹی سی افسران کا کہنا ہے کہ بسوں کے پچھلے حصہ میں اشتہارات کی اجازت جاری رہے گی جس کے نتیجہ میں کارپوریشن کی غیر سفری آمدنی پر کچھ زیادہ اثر نہیں پڑنے والا ہے۔بی ایم ٹی سی کے منیجنگ ڈائرکٹر وی پونو راج نے بتایا کہ’’اشتہارات کے سلسلہ میں یادداشت مصالحت کو جون کی 30 تاریخ کو آخری شکل دی گئی ہے، مزید ایک ہزار بسوں کے پچھلے حصہ میں اشتہارات لگانے سے متعلق ایک نیا معاہدہ کیا گیا ہے ، لیکن اس کے نفاذ میں کچھ وقت لگ سکتا ہے‘‘۔پانچ ہزار بسوں کے پچھلے حصہ میں اشتہارات لگانے کی اجازت دئے جانے کی وجہ سے بی ایم ٹی سی کو ماہانہ ایک کروڑ روپئے کی اضافی آمدنی ہوگی، اس طرح سائڈ پینل پر سے اشتہارات نکال دئے جانے کے باوجود بی ایم ٹی سی کو کوئی خسارہ نہیں ہوگا ۔ بی ایم ٹی سی کے ایک افسر نے بتایا کہ ’’اشتہارات کے نرخ میں بھی اضافہ کیا گیا ہے، زیادہ تعداد میں بسوں کے پچھلے حصے میں اشتہارات لگائے جائیں گے، اس لئے کارپوریشن کی آمدنی میں کوئی کمی نہیں ہوگی، بلکہ اس کی آمدنی میں ماہانہ ایک کروڑ روپئے کا اضافہ ہونے والا ہے‘‘۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

کروناندھی کی حالت بگڑی –

چنئی (ایجنسیز) تملناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کروناندھی …

جواب دیں

%d bloggers like this: