سرورق / خبریں / شہر کے راستوں کو کچرے سے پاک کرنے عوام میں ذمہ داری کا احساس ضروری –

شہر کے راستوں کو کچرے سے پاک کرنے عوام میں ذمہ داری کا احساس ضروری –

بنگلور،  شہر کو کوڑا کرکٹ اور کچرے سے پاک و صاف کرنے کے سلسلہ میں بی بی ایم پی کے اقدامات تاریخی بلکہ تاریخ ساز بھی ہیں لیکن شہر کے عوام کی طرف سے شہر میں گندگی پھیلانے کی صلاحیت بھی اسی معیار کی ہے۔رات کے اوقات ان کے لئے زیادہ پسندیدہ ہوتے ہیں جب یہ لوگ اس مقام کی تلاش کرتے ہیں جو ان کے گھروں سے کافی فاصلہ پر اور اس کام کے لئے زیادہ موزوں ہوتا ہے، لیکن ان میں سے اکثر مقامات اگرچہ کہ کچرا پھینکنے والوں کے گھروں سے دور ہوتے ہیں مگر وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ یہ کوڑا دان دوسروں کے گھروں کے قریب ہوتے ہیں اور ہر ممکن کوشش کے باوجود بی بی ایم پی ان مقامات کو پاک و صاف رکھنے میں ناکام رہتی ہے۔اس دوران شہر کے کچھ افراد نے شہر کو پاک و صاف رکھنے کی ایک تحریک شروع کر رکھی ہے اور اس کے لئے کچھ خاص طریقہ کار بھی مرتب کیا ہے، کچھ رضاکار راتوں کے اوقات میں نگرانی کا کام کر رہے ہیں، کچھ لوگوں کو ڈرانے دھمکانے کی کوشش کرتے ہیں، کچھ انہیں تعلیم دینے کی جستجو کرتے ہیں او ران لوگوں کے ساتھ چھڑ چھاڑ بھی کی جاتی ہے جو شہر کے راستوں پر کچرا پھینکے کی کوشش کرتے ہیں۔کے آر پورم کے رضاکاروں کا کہنا ہے کہ وہ اس علاقہ کے مکینوں اوراسکول و کالج کے طلباء کو کچرے کی علیحدگی اور کس طرح گیلے کچرے کو کھاد میں تبدیل کیا جاسکتا ہے ان باتوں کی تعلیم دینے کی کوشش کر رہے ہیں، اس طرح کی کئی کلاسوں کے بعد علاقہ میں کچرے کے جمع ہونے کا سلسلہ کافی حد تک کم ہو گیا ہے۔کے آر پورم رائزنگ کے صدر پروشوتم پی نے ایک مقامی انگریزی اخبار کو بتایا کہ’’ہم نے ان مقامات پر جہاں عام طور پر لوگ کچرا ڈالا کرتے تھے، بھگوانوں کی تصاویر لگائی لیکن اس سے لوگوں کو کوئی فرق نہیں پڑتا تھا لیکن تربیتی کلاسیں بہت کارگر ثابت ہوئی ہیں۔ہمیں اس بات کا احساس ہوا تھا کہ دراصل تعلیم یافتہ افراد ہی ہیں جو ان مقامات پر کچرا ڈالتے ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ کچرے کی گاڑی ان اوقات میں محلوں میں نہیں آتی جو کہ ان کے سہولت کے ہوتے ہیں اور وہ گھر پر رہتے ہیں، بعض مرتبہ کچرے کی گاڑی کئی کئی دنوں تک علاقہ میں نہیں آتی، اس وجہ سے کچرا بہت زیادہ جمع ہوجاتا تھا اور وہ لوگ کہیں بھی جاتے آتے ہوئے کچرے کو اپنے راستہ پر کہیں پھینک دیتے اور غائب ہوجاتے تھے۔لیکن ہماری طرف سے کلاسیں شروع کئے جانے کے بعد ہم نے دیکھا کہ علاقہ میں کچرا جو پہلے ساڑھے سترہ ٹن ہوا کرتا تھا وہ اب سولہ ٹن کو پہنچ گیا ہے۔ہم نے کھاد سے متعلق ایک نمائش کا بھی اہتمام کیا تھا جس میں ہم نے علاقہ کے مکینوں اور اسکولوں کے طلباء اور ان کے والدین میں سے تقریباً دو ہزار افراد کو دعوت دی تھی تاکہ انہیں ان چیزوں کی جانکاری دی جا سکے جن سے کھاد تیار ہوتی ہے اور یہ اقدام بھی بہت کامیاب رہا‘‘۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

کروناندھی کی حالت بگڑی –

چنئی (ایجنسیز) تملناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کروناندھی …

جواب دیں

%d bloggers like this: