سرورق / خبریں / شہر کی حدود میں رین واٹر ہارویسٹنگ سسٹم کی تنصیب لازمی میسور سٹی کارپوریشن کے عام اجلاس میں اہم فیصلہ

شہر کی حدود میں رین واٹر ہارویسٹنگ سسٹم کی تنصیب لازمی میسور سٹی کارپوریشن کے عام اجلاس میں اہم فیصلہ

میسور: شہر اور مضافات میں سٹی کارپوریشن کی حدود میں آنے والے 50×80فیٹ رقبہ سے زیادہ والے سرکاری اور نجی کمرشیل اوررہائشی عمارتوں میں لازمی طور پر بارش کا پانی ذخیرہ کرنے کا انتظام کئے جانے کا فیصلہ کارپوریشن اجلاس میں کیا گیا۔ سٹی کارپوریشن کے نالوڈی کرشناراجہ وڈیئر میٹنگ ہال میں ڈپٹی میئر اندرا کی صدارت میں منعقدہ عام اجلاس میں اس سلسلے میں سنجیدہ بحث کی گئی، اس دوران تمام کارپوریٹروں نے بلالحاظ سیاسی پارٹی متفقہ طور پر اپنی رائے ظاہر کی جس کی بنیاد پر شہر اور اس کے مضافات میں آنے والے سبھی 50×80 فیٹ رقبہ کی سائٹوں اور اس سے زیادہ کی سائٹوں پر تعمیر کئے جانے تمام سرکاری عمارتوں، ہوٹل ، اپارٹمنٹ، پارک، کمرشیل اور رہائشی عمارتوں میں لازمی طور پر بارش کا پانی ذخیرہ کرنے کا نظم ہونا چاہئے، اس کے علاوہ آئندہ دنوں میں 30×40 اور 40×60 رقبہ کی سائٹوں کی عمارتوں کا بھی معائنہ کیا جائے گا اور بارش کا پانی ذخیرہ کرنے کے نظم کولازمی قرار دینے کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔اس فیصلے کے مطابق عمارتوں کے مالکوں کو بارش کا پانی ذخیرہ کرنے کے نظام (رین واٹر ہارویسٹنگ سسٹم) کو قائم کرنے کیلئے 3ماہ کی مہلت دی جاسکتی ہے۔ اگر اس درمیان کسی نے رین واٹر ہارویسٹنگ سسٹم قائم نہیں کیا تو ایسی عمارتوں کیلئے 5ماہ تک پانی کے ٹیکس میں 5 فیصد اضافی رقم ادا کرنی پڑے گی۔ اس میعاد میں بھی اگر نظام قائم نہیں کیا گیا تو 25 فیصد اضافی رقم پانی کے ٹیکس میں ادا کرنی ہوگی۔سٹی کارپویشن کی طرف سے ضرورت سے زیادہ پانی کی سربراہی کئے جانے کے باوجود پانی مسئلہ زور پکڑ تا جارہا ہے۔ شہر کیلئے سر براہ کیا جانے والا پانی کہاں جارہا ہے، اس بارے میں بھی اجلاس میں سنجیدہ بحث کی گئی۔ اس بارے میں کارپوریٹر گریش پرساد نے کہا کہ میسور شہر کیلئے 180 ایم ایل ڈی پانی درکار ہے، اس کے باوجود 250 ایم ایل ڈی پانی کی سربراہی کی جارہی ہے۔مگر اپنی کے ٹیکس کی وصول میں سدھار نہیں آیا ہے، کارپوریٹر کی اس بات کی حمایت کرتے ہوئے نندیش نے کہا کہ سٹی کارپوریشن کی جانب سے پانی سربراہ کئے جانے کے باوجود اس کا ٹھیک طریقے سے استعمال نہیں ہو پارہا ہے۔ کارپوریشن کمشنر جگدیش نے کا کہ شہر میں غیر قانونی پانی کے کنکشن اور پانی کا میٹر نصب نہ کرنے کی وجہ سے پانی کے ٹیکس کی ادائیگی ممکن نہیں ہوپارہی ہے۔ اس لئے شہر میں اس بارے میں مہم چلائی جانی چاہئے اور پانی کے میٹر نصب کرنے اور غیر قانونی کنکشنوں کو قانونی بنانے کے بارے میں بیداری پیدا کرنی چاہئے۔کارپویٹر رویندرا کمار نے اجلاس میں سوال کیا کہ سٹی کارپوریشن کی ملکیت والی شمشان گھاٹ کی زمین کو فورم مال کیلئے غیر قانونی طور پر کھاتہ تیار کیا گیا ہے اس بارے میں کمشنر اور محکمہ بلدی انتظامیہ کی طرف سے کھاتہ رد کئے جانے کی ہدایت جاری کی گئی ہے ۔ ایسے میں اب تک کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے، اس کا مطلب کیا ہے؟ کارپوریٹر کے اس سوال کے جواب میں ڈپٹی میئر اندرا نے کہا کہ اس بارے میں کمیٹی کے ذریعہ تحقیقات کرائی جائے گی اور اقدامات کئے جائیں گے۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

کروناندھی کی حالت بگڑی –

چنئی (ایجنسیز) تملناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کروناندھی …

جواب دیں

%d bloggers like this: