سرورق / خبریں / شہر کو ’’اڑتا بنگلور ‘‘ بننے نہیں دیا جائے گا۔پرمیشور

شہر کو ’’اڑتا بنگلور ‘‘ بننے نہیں دیا جائے گا۔پرمیشور

بنگلور،  ’’اڑتا پنجاب’’ اب ایک محاورہ بن گیا ہے جہاں پنجاب میں منشیات اور نشیلی دوائیوں کے فروخت و استعمال میں شدید ترین اضافہ کو واضح کرنے کے لئے اس کا استعمال کیا جاتا ہے۔ پنجاب کے بعد اب شہر بنگلور کے سلسلہ میں بھی یہ کہا جا رہا ہے کہ یہاں نشیلی دوائیوں کی فروخت اور استعمال میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے ، اسی پس منظر میں کل گذشتہ اسمبلی میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ریاستی نائب وزیر اعلیٰ ڈاکٹر جی پرمیشور نے کہا ہے کہ بنگلور شہر کو اڑتا بنگلور بننے نہیں دیا جائے گا، انہوں نے ریاستی حکومت کی اس سلسلہ میں کی جا رہی کارروائیوں کا بھی ذکر کیا۔واضح رہے کہ شہر کی پولیس بھی اس سلسلہ میں کافی مستعد ہے اور پچھلے کچھ سالوں سے ہی اس تعلق سے کئی اقدامات پولیس کی جانب سے کئے گئے ہیں ان میں سے ایک مفت فون نمبر 1908 کا اجراء بھی ہے جسے عوام منشیات سے متعلق کوئی بھی جانکاری پولیس کو دینے کے لئے استعمال کر سکتے ہیں۔شہر میں منشیات اور نشیلی ادویات سے متعلق جرائم میں شدید اضافہ کا اعادہ کرتے ہوئے ایک اعلیٰ پولیس افسر نے کہا کہ منشیات کی پیدا وار ، اس کا اپنے پاس رکھنا، ان کی صنعت، رسد، کاروبار، استعمال کرنا یا ایسے معاملات میں ملوث افراد کو سہارا یا تعاون دینا یہ سبھی شدید ترین جرائم کے زمرہ میں آتے ہیں اور ان کے انجام دینے والوں کو نارکوٹک ڈرگس اور سائکو تھراپک سبسٹنسز کے قانون کے تحت سزا دی جا سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ’’اٹھارہ سال سے کم عمر کے بچوں اور تعلیمی اداروں یا عبادت کے مقامات کے قریب تمباکو کی فروحت بھی ایک بڑا جرم ہوتا ہے اور منشیات کی فروخت تو بہت شدید جرائم کے زمرہ میں شامل ہوتا ہے‘‘۔انہوں نے تمام شہریوں سے اپیل کی ہے کہ منشیات یا اس سے متعلق کسی بھی طرح کی جانکاری ہو تووہ اس نمبر 1908 پر ان معلومات کو فراہم کریں ،انہوں نے یقین دلایا کہ اطلاع دینے والے کی شناخت کو مخفی رکھا جائے گا ۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

کروناندھی کی حالت بگڑی –

چنئی (ایجنسیز) تملناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کروناندھی …

جواب دیں

%d bloggers like this: