سرورق / خبریں / شہرمیں غائب ہوتے ہوئے برساتی نالے –

شہرمیں غائب ہوتے ہوئے برساتی نالے –

بنگلور،  برساتی نالے اور گندے پانی کی نالیاں کسی بھی ترقی یافتہ شہر کے بنیادی نظام کا ایک ایسا حصہ ہوتے ہیں جو اس شہر کو نہ صرف گندگی اور فضلات سے پاک رکھتے ہیں بلکہ کئی قدرتی آفات سے بھی حفاظت کا سبب و ذریعہ ہوتے ہیں۔ اسی لئے کسی شہر کو آباد کرنے سے قبل سب سے پہلے اس میں گندے پانی اور فضلات کی نکاسی کے نظام کو موثر انداز میں نافذ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ شہر بنگلور کو بھی کافی عرصہ قبل ہی اس طرح کا ایک مضبوط اور موثر فضلات کی نکاسی کا نظام فراہم کیا گیا تھا لیکن پچھلے پچاس سالوں کے دوران اس نظام کو بھی شہری ترقیات اور گندے مفادات نے مجروح کر کے رکھ دیا ہے۔شہر میں صرف تالاب ہی نہیں ہیں جو غائب ہو گئے ہیں بلکہ 290 کلو میٹر سے زیادہ برساتی نالے اور گندے پانی کی نالیاں جو شہر کے کئی علاقوں سے بل کھاتی ہوئی گزرتی ہیں اور شہر کے بارش کے پانی کو لے جا کر تالابوں تک پہنچاتی ہیں وہ بھی غائب ہو چکی ہیں اور یہ صورت حال پچھلے پچاس سالوں سے کچھ زائد عرصہ میں پیدا ہوئی ہے۔ایک حالیہ مطالعہ کے دوران اسرو کے علاقائی ریموٹ سنسنگ مرکز نے امریکہ کے ’’کوروما‘‘ خلائی پروگرام کے ذریعہ سال 1965 میں حاصل کر دہ شہر کے نقشہ کو پچھلے سال یعنی 2017 میں حاصل کردہ نقشوں کے ساتھ موازنہ کر کے دیکھا تھا۔ اس مطالعہ کے نتائج پر مبنی اپنی رپورٹ میں ، اسرو نے اس بات کو واضح کیا ہے کہ سال 1965 میں جہاں شہر بنگلور میں کل 1,397.08 کلو میٹر طویل گندے پانی کی نالیاں اور بڑے برساتی نالے موجود تھے وہیں سال 2017 میں ان کی وسعت 1,105.41 کلو میٹر ہو کر گرہ گئی ہے۔اس مطالعہ میں شریک اسرو کے ایک افسر نے بتایا کہ ’’حالانکہ سال 1965 میں جو تصویریں حاصل کی گئی تھیں وہ سیاہ اور سفید تصویریں ہیں ، لیکن ان کا ریزولیوشن بہت اچھا ہے جس کی وجہ سے بڑے برساتی نالوں اور آبی ذخائر کو ان میں آسانی کے ساتھ دیکھا جا سکتا ہے ، اس کے علاوہ ان تفصیلات کی توثیق زمینی جائزوں کے ذریعہ بھی حاصل کی گئی تھی‘‘۔جہاں اہم برساتی نالے جو شہر کے تین بڑے علاقوں میں ایک دوسرے کو کاٹتے ہوئے گزر تے ہیں وہ سب بڑی حد تک محفوظ ہی ہیں ، اصل میں دوسرے اور تیسرے درجہ کی گندے پانی کی نالیاں ہیں جو غائب ہو چکی ہیں، یا تو انہیں بند کر دیا گیا ہے یا ان پر غیر قانونی قبضہ جات ہیں، اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایسی تمام نالیاں زیادہ تر شہر کے مرکزی علاقہ میں موجود ہیں۔اسرو کے تجزیہ سے ایک بات اور بھی واضح ہو جاتی ہے کہ جن علاقوں میں پہلے سے موجود ثانوی برساتی نالوں کو بند کر دیا گیا ہے وہ علاقے سیلاب کی صورت حال کے خطرات میں گھرے ہوئے ہیں، اس وقت ان برساتی نالوں کی تجدید کے سلسلہ میں کوئی مناسب اور مربوط کوشش نہیں کی جا رہی ہے۔بی بی ایم پی کی طرف سے کچھ ہنگامی اقدامات کئے گئے ہیں جیسا کہ ایچ ایس آر لے آؤٹ اور مڈیوالا کے علاقوں میں دیکھا جا سکتا ہے جہاں پچھلے سال براساتوں میں سیلاب کی صورت حال کے بعد ثانوی نالوں کی تعمیر کے لئے اقدامات کئے گئے ہیں۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

کروناندھی کی حالت بگڑی –

چنئی (ایجنسیز) تملناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کروناندھی …

جواب دیں

%d bloggers like this: