سرورق / خبریں / شمالی ہند میں بارش کا قہر جاری،معمول کی زندگی ٹھپ جمناکی آبی سطح میں اضافہ کے سبب ٹریفک جام،متعدد مقامات پر ہائی الرٹ جاری

شمالی ہند میں بارش کا قہر جاری،معمول کی زندگی ٹھپ جمناکی آبی سطح میں اضافہ کے سبب ٹریفک جام،متعدد مقامات پر ہائی الرٹ جاری

لکھنؤ؍دہلی: (یو این آئی) اترپردیش کی راجدھانی لکھنو میں پیر کو صبح سے ہورہی بارش سے معمول کی زندگی ٹھپ ہوگئی اور نشیبی علاقوں میں جمع پانی نے لوگوں کی پریشانیوں میں مزید اضافہ کردیا۔لکھنؤ میں گزشتہ دو گھنٹے سے بارش ہورہی ہے ۔ بارش کے سبب مختلف علاقوں میں سڑکوں پر پانی جمع ہوگیا ہے جس سے آمدورفت متاثر ہوا ہے ۔ بارش کی وجہ سے اسکول جانے والے بچوں اور دفتری کام کاج پر جانے والے لوگوں کو بہت پریشانی کا سامناکرناپڑ رہا ہے ۔ مین ہول بند ہوجانے سے سڑکوں پر کئی فٹ پانی جمع ہوگیا ہے ۔ یہاں ہوئی پہلی بارش نے لکھنو میونسپل کارپوریشن کے دعووں کی بھی قلعی کھول دی ہے ۔لکھنؤ کے پاش علاقے حضرت گنج، گومتی نگر کے علاوہ پرانے لکھنؤ میں بیشتر مقامات پر پانی بھر گیا ہے ۔ کارپوریشن کے کارکنان پانی نکالنے میں مصروف ہیں۔ بارش کی وجہ سے کئی مقامات پر بجلی کی فراہمی بھی متاثر رہی۔لکھنؤ میں مانسون کی پہلی موسلادھار بارش سے شہر کے مختلف علاقوں میں سڑکوں پر پانی بھرنے سے کئی جگہوں پر کافی دیر تک جام کی صورت حال پیداہوگئی۔ بارش کی وجہ سے اسکول جانے والے بچوں اور دفتر جانے والے ملازمین کو کافی پریشانی اٹھانی پڑی۔ گٹر بند ہونے سے سڑکوں پر کئی فٹ پانی جمع ہو گیا ہے ۔ یہاں ہوئی پہلی بھاری بارش نے لکھنؤ نگرنگم کے پانی کی نکاسی کے دعووں کی پول کھول کر رکھ دی۔بارش کی وجہ سے کئی وزراکی رہائش گاہوں میں بھی پانی بھر گیا۔ پانی نکالنے کے لئے نگرنگم نے تین ٹیموں کو لگایا ہے ۔ پانی کی وجہ سے نالے طغیانی پر ہیں۔ انتظامیہ نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ نالوں کے قریب بچوں کو نہ جانے دیں۔ گزشتہ دنوں نالے میں گرنے سے کئی بچوں کی موت ہو گئی تھی۔زیادہ ترعلاقوں میں سیور لائن میں کوڑا جمع ہونے سے پانی بھر گیا۔ لکھنؤ کے پاش علاقے حضرت گنج، گومتی نگر، میٹروپولیٹن کے علاوہ پرانے لکھنؤ میں ڈالی گنج اور مویا پل کے نیچے سمیت کئی مقامات پر کئی کئی فٹ پانی جمع ہے ۔ پانی گھروں اور دکانوں میں بھی بھر گیا۔ میونسپل ملازمین پانی نکالنے میں لگے ہیں۔ بارش کی وجہ سے کئی علاقوں میں بجلی کی سپلائی بھی متاثر ہے ۔ہر یانہ کے ہتھنی کنڈ بیراج سے لگاتار پانی چھوڑے جانے سے دہلی میں جمنا میں طغیانی آئی ہوئی ہے اور سیلاب کا امکان برقرار ہے ۔پیر کو دوپہر ندی کا سطح آب 205.70میٹر پر پہنچ گیا ہے ۔ جس میں ایک میٹر اور بڑھنے کا امکان ہے ۔فلڈ کنٹرول روم کے مطابق ہفتہ کے روز بیراج سے 6لاکھ کیوسک سے زائد پانی چھوڑا گیا تھا ۔اس کے بعد ندی کی سطح میں اضافہ ہوا۔جمنا ندی لوہے کے پل پر خطرے کا نشان 204.83میٹرہے جو 0.87میٹر زائد ہے ۔یہ سطح بڑھ کر 206.60 ہونے کا اندیشہ ہے ۔ہفتہ کو ہی جمنا ندی کی آبی سطح خطرے کے نشان کو پار کر گیاتھا۔شمالی ریلوے نے احتیاط کے طور پر ریلوے کی آمد و رفت اتوار کو شام میں روک دی تھی جس کو پیر دوپہر 12.20بجے پھر سے شروع کردی گئی ہے ۔اس کی وجہ سے 27ٹرینوں کو رد کردیا گیاتھا۔دہلی حکومت نے احتیاطاً کئی قدم اٹھائے ہیں نشیبی علاقوں میں رہنے والوں کو محفوظ مقام پر پہنچایا گیا ہے ۔دریں اثنا فلڈ کنٹرول روم کا کہنا ہے کہ سیلاب کا اندیشہ نہیں ہے ۔سکیورٹی کیلئے سبھی ضروری اقدامات کئے گئے ہیں۔بیراج سے پیر کو زیادہ پانی چھوڑے جانے کی اطلاع نہیں ہے ۔اتوار کو 2؍لاکھ کیوسک پانی چھوڑا گیاتھا۔آبی سطح میں اضافہ کو دیکھتے ہوئے احتیاط کے طور پر ندی کے کنارے رہنے والوں کو متنبہ کیا گیاہے ۔ندی کے علاقہ میں واقع کچھ گاؤں سے لوگوں کو محفوظ مقام پر پہنچایا جارہاہے ۔شمال مغربی دہلی میں دہلی کے کنارے آباد نیو عثمان پور،گڑھی مانڈو اور سونیا وہار سے لوگوں کو ہٹا کر محفوظ مقامات پر لے جایا گیاہے ۔آبی سطح میں اضافہ کو دیکھتے ہوئے نشیبی علاقوں میں رہنے والے لوگ خو د بھی سامان لیکر محفوظ مقام پر جارہے ہیں۔دریں اثنا وزیر اعلیٰ اروند کجریوال کی ہدایت پر انچارج وزیر کیلاش گہلوت نے افسران کے ساتھ سیلاب سے متاثرہ لوگوں کیلئے کئے گئے راحتی کاموں کے انتظامات کا جائزہ لینے کیلئے دورہ کیا۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

کروناندھی کی حالت بگڑی –

چنئی (ایجنسیز) تملناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کروناندھی …

جواب دیں

%d bloggers like this: