سرورق / خبریں / شفاف طریقے سے نافذ کی جائے کسان قرض معافی اسکیم: کمار سوامی

شفاف طریقے سے نافذ کی جائے کسان قرض معافی اسکیم: کمار سوامی

بنگلور، (یو این آئی) کرناٹک کے وزیر اعلی ایچ ڈی کمارسوامي نے پیر کو حکام کو کسانوں کی قرض معافی اسکیم شفاف طریقے سے نافذ کرنے کی ہدایت دی۔ضلع ڈپٹی کمشنروں اور چیف ایگزیکٹوزکے اجلاس کوخطاب کرتے ہوئے مسٹر کمارسوامي نے کہا کہ مجوزہ قرض معافی اسکیم کے بارے حکومت کی ہدایات کو جلدنافذ کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ اس منصوبہ کونافذ کرنے میں ضلع افسران کا اہم رول ہوگااور انہیں اس اسکیم کا فائدہ اٹھانے والے بچولیوں سے ہوشیار رہنا چاہئے ۔ انہوں نے حکام کو لوگوں کی شکایات کو دور کرنے ، متعلقہ کواٹرس کا دورہ کرکے دستاویزات کی جلد تصفیے کرنے کی بھی ہدایت دی۔واضح ر ہے کہ مسٹر کمارسوامي نے اپنے بجٹ تقریر کے دوران کسانوں کے 49؍ ہزار کروڑکے قرض معاف کرنے کا اعلان کیا تھا۔ انہوں نے اپنی تقریر کے دوران اعلان کیا تھا فصل قرض معافی دو لاکھ روپے تک ہوگی۔ قرض معافی اسکیم کا فائدہ گزشتہ سال 31 دسمبر تک قرض نہ اداکرنے والے کسانوں کو ہی ملے گا۔قرض معافی اسکیم کا اعلان کرنے کے بعد انہوں نے نیشنل بینکوں کے حکام سے بھی اس معاملے پر بات چیت کی تھی اور قرض معافی اسکیم آسانی سے نافذ کرنے میں ان سے تعاون کی اپیل کی تھی۔کرناٹک کے وزیر اعلیٰ ایچ ڈی کمار سوامی نے الزام لگایا کہ کچھ سیاسی رہنما اور میڈیا کا ایک طبقہ شمالی کرناٹک کے سلسلے میں دیا گیا ان کا بیان غلط ڈھنگ سے پیش کررہا ہے ۔مسٹر کمار نے نامہ نگاروں سے یہاں کہا ‘حال ہی میں چن پٹن میں میں نے بی جے پی لیڈر بی سری راملو کی طرف سے اٹھائے گئے ایک معاملے کا ذکر کیا تھا اور سوال کیا تھا کہ الگ ریاست کے لئے پیسہ کہاں سے لائیں گے ؟ میں نے کیا غلط کہا تھا۔ لیکن گذشتہ ایک ہفتہ سے میڈیا کا ایک گروپ اسے ایسے نشر کررہا ہے گویا میں نے بہت بڑی غلطی کردی ہے اور میرے بیان کو توڑ مروڑ کر مجھے شمالی کرناٹک کے لوگوں کے خلاف بتایا جارہا ہے ۔’انہوں نے کہا کہ میں نے بار بار کہا ہے کہ میں غیر منقسم کرناٹک کے حق میں ہوں لیکن آپ لوگ اس طرح سے اس بات کو پھیلا رہے ہیں گویامیں شمالی کرناٹک کی ترقی کے خلاف ہوں۔ میں الگ ریاست کے معاملے پر بات چیت نہیں کرنا چاہتا ۔ اس معاملے کو اپوزیشن لیڈروں اور میڈیا نے تیارکیا ہے ۔ میں نے چن پٹن میں اس پر کچھ کہا تھا تو اسمبلی میں شمالی کرناٹک کے سلسلے میں مسٹر سری راملو کے بیان کو دہرایا تھا۔ میں نے ہمیشہ کہا ہے کہ غیر منقسم کرناٹک کے حق میں ہوں۔ اگر ریاست تقسیم ہوتی ہے اور ریاست میں کچھ غلط ہوتا ہے تو اس کے لئے آپ لوگ(میڈیا) بھی ذمہ دار ہوں گے ۔انہوں نے کہا کہ میں نے کوپل میں بھی کسانوں پر الزام نہیں لگایا پھر بھی انہوں نے مخالفت کی ۔ آپ لوگ میرے بیانات کو توڑ مروڑ کر پیش کرتے ہیں ۔ آپ لوگوں کو اپنے بارے میں خود احتسابی کرنی چاہئے ۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

کروناندھی کی حالت بگڑی –

چنئی (ایجنسیز) تملناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کروناندھی …

جواب دیں

%d bloggers like this: